SHAWORDS
A

Aagha Akbarabadi

Aagha Akbarabadi

Aagha Akbarabadi

poet
32Shayari
24Ghazal

Popular Shayari

32 total

Ghazalغزل

See all 24
غزل · Ghazal

جیتے جی کے آشنا ہیں پھر کسی کا کون ہے نام کے اپنے ہوا کرتے ہیں اپنا کون ہے جان جاں تیرے سوا رشک مسیحا کون ہے مار کر ٹھوکر جلا دے مجھ کو ایسا کون ہے یہ سیہ خیمہ ہے کس کا اس میں لیلیٰ کون ہے چنبر افلاک کے پردے میں بیٹھا کون ہے ہم نہ کہتے تھے کہ سودا زلف کا اچھا نہیں دیکھیے تو اب سر بازار رسوا کون ہے وہ تو ہے بے نور اور یہ نور سے معمور ہے چشم کو نرگس کہے گا ایسا اندھا کون ہے دم بدم ہر بات میں کرتے ہو ٹھنڈی گرمیاں آپ کی اکھڑی ہوئی باتوں پہ جمتا کون ہے وادئ وحشت میں بھی ہمراہ ہیں آہ و فغاں اپنے ہمدم ساتھ ہیں اے جان تنہا کون ہے خیر ہے اے مہرباں کس نے انہیں سیدھا کیا آپ کیوں بل کرتے ہیں زلفوں سے الجھا کون ہے دختر رز سچ بتا تیری نظر کس پر پڑی ٹٹیوں کی آڑ میں سے کس کو تاکا کون ہے آج مقتل میں کھڑے کہتے ہیں وہ خنجر بکف بول اٹھے چاہنے والا ہمارا کون ہے چار دن جو کچھ تماشا دیکھنا ہے دیکھ لے سیر کو پھر گلشن دنیا میں آتا کون ہے باندھ کر تیغ و کفن جاتے ہیں اس قاتل کے پاس ہم بھی دیکھیں روکنے والا ہمارا کون ہے کیا تجاہل ہے کہ وہ فرماتے ہیں اغیار سے میں نہیں پہچانتا مطلق کہ آغاؔ کون ہے

jite-ji ke aashnaa hain phir kisi kaa kaun hai

41 views

غزل · Ghazal

پاؤں پھر ہوویں گے اور دشت مغیلاں ہوگا ہاتھ پھر ہوویں گے اور اپنا گریباں ہوگا دل وحشی تو نہ کر عشق پریشاں ہوگا مثل آئینہ کے پھر ششدر و حیراں ہوگا گر یہی عشق کا آغاز ہے تو سن لینا لاش ہووے گی مری کوچۂ جاناں ہوگا ڈوب کر مرنے کا شوق اس سے ہی پوچھ اے قاتل جس نے دیکھا یہ ترا چاہ زنخداں ہوگا کہتی تھی دام میں صیاد کے رو کر بلبل اب کبھی ہم کو میسر نہ گلستاں ہوگا جتنے دنیا میں ستم چاہے تو کر لے مجھ پر حشر میں ہاتھ مرا تیرا گریباں ہوگا جان دے بیٹھے گا اک روز تو اس پر آغاؔ وہ نہیں حال کا تیرے کبھی پرساں ہوگا

paanv phir hoveinge aur dasht-e-mughilaan hogaa

41 views

غزل · Ghazal

بت غنچہ دہن پہ نثار ہوں میں نہیں جھوٹ کچھ اس میں خدا کی قسم مرا طائر دل اسی قید میں ہے مجھے زلف کے دام بلا کی قسم نہیں بھاتا مجھے کوئی رشک پری کوئی لاکھ حسیں ہو بلا سے مری مرا دل ترا عاشق شیفتہ ہے مجھے تیرے ہی ناز و ادا کی قسم مرے دل کو ذرا نہیں تاب و تعب کہ اٹھاؤں تمہارا یہ قہر و غضب مرے قتل میں دیر نہ چاہئے اب تمہیں اپنے ہی جور و جفا کی قسم نہ تو حور ہی کو یہ ملا ہے نمک نہ پری ہی کے رخ میں ہے ایسی چمک ترے سامنے پھیکے ہیں شمس و قمر مجھے ترے ہی رخ کی ضیا کی قسم مجھے عطر حنا کی نہیں ہے ہوا مجھے پھولوں سے ہوتا ہے داغ سوا کبھی نکہت زلف سنگھا دے صبا تجھے نافۂ مشک خطا کی قسم مرے بعد سہے گا نہ کوئی بھی غم نہ اٹھے گا کسی سے یہ رنج و الم کرو ترک تم آج سے ظلم و ستم تمہیں اپنی ہی مہر و وفا کی قسم کبھی درد سے روتا ہو آغاؔ اگر تو ہنسی سے یہ کہتا ہے وہ گل تر مرا مان کہا ارے نالہ نہ کر تجھے بلبل نغمہ سرا کی قسم

but-e-ghuncha-dahan pe nisaar huun main nahin jhuuT kuchh is mein khudaa ki qasam

41 views

غزل · Ghazal

کیا بنائے صانع قدرت نے پیارے ہاتھ پاؤں نور کے سانچے میں ڈھالے ہیں تمہارے ہاتھ پاؤں ضعف پیری چھا گیا زور جوانی چل بسا اب چلیں بتلائیے کس کے سہارے ہاتھ پاؤں مچھلیاں بازو پہ ابھریں ساق پا شمعیں بنیں خوب صاحب نے نکالے اب تو بارے ہاتھ پاؤں فوق ہیرے سے نہیں ہے میری جاں یاقوت کو کیوں رنگے ہیں آپ نے مہندی سے سارے ہاتھ پاؤں مانی و بہزاد نے ملک عدم کی راہ لی وہ کمر مطلق نہ پائی لاکھ مارے ہاتھ پاؤں ہم نہ کہتے تھے کہ ہر دم شوخیاں اچھی نہیں آخرش مہندی نے باندھے لو تمہارے ہاتھ پاؤں ہاتھا پائی میں بھی ہم چوکے نہ اپنے کام سے وصل کی شب یار نے کیا کیا نہ مارے ہاتھ پاؤں ہے ضعیفی میں بھی ہم کو نوجوانی کا خیال دل نہیں ہارا ہے اب تک گو کہ ہارے ہاتھ پاؤں غیر کی دھمکی سے ہم ڈر جائیں یہ ممکن نہیں ایسے بودے بھی نہیں ہیں کچھ ہمارے ہاتھ پاؤں معدن یاقوت کو دریا بنایا آپ نے مہندی مل کر دھوئے جب دریا کنارے ہاتھ پاؤں اس بڑھاپے میں بھی آغاؔ سو جواں میں ایک ہے گو ضعیفی آ گئی پر ہیں کرارے ہاتھ پاؤں

kyaa banaae saane-e-qudrat ne pyaare haath paanv

41 views

غزل · Ghazal

نماز کیسی کہاں کا روزہ ابھی میں شغل شراب میں ہوں خدا کی یاد آئے کس طرح سے بتوں کے قہر و عتاب میں ہوں شراب کا شغل ہو رہا ہے بغل میں پاتا ہوں میں کسی کو میں جاگتا ہوں کہ سو رہا ہوں خیال میں ہوں کہ خواب میں ہوں نہ چھیڑ اس وقت مجھ کو زاہد نہیں یہ موقع ہے گفتگو کا سوار جاتا ہے وہ شرابی میں حاضر اس کی رکاب میں ہوں کبھی شرابی کبھی نمازی کبھی ہوں میں رند گاہ زاہد خدا کا ڈر ہے بتوں کا کھٹکا عجب طرح کے عذاب میں ہوں قیامت آنے کا خوف کیسا تردد و فکر کیوں ہے آغاؔ حساب کیا کوئی مجھ سے لے گا بتا تو میں کس حساب میں ہوں

namaaz kaisi kahaan kaa roza abhi main shaghl-e-sharaab mein huun

41 views

غزل · Ghazal

نگاہوں میں اقرار سارے ہوئے ہیں ہم ان کے ہوئے وہ ہمارے ہوئے ہیں جن آنکھوں میں آنسو چکارے ہوئے ہیں ہم ان کی نگاہوں کے مارے ہوئے ہیں نہ کھٹکیں کہو کس طرح تیر مژگاں جگر پر ہمارے اتارے ہوئے ہیں جھڑے جو تری کفش زریں کے ذرے فلک پر وہ جا کر سیارے ہوئے ہیں عبث جان دیتی ہے بلبل گلوں پر یہ اس رخ کے صدقے اتارے ہوئے ہیں کس انداز سے بند محرم کسے ہیں کہ جوبن کو ان کے ابھارے ہوئے ہیں یقیں ہے بلا ہو کوئی آج نازل وہ بالوں کو اپنے سنوارے ہوئے ہیں خبردار ہاتھوں سے جانے نہ پائیں یہ دزد حنا مال مارے ہوئے ہیں کہے دیتی ہیں صاف آنکھیں تمہاری کسی غیر سے کچھ اشارے ہوئے ہیں میں منجدھار میں ڈوبتا ہوں الٰہی وہ دل لے کے میرا کنارے ہوئے ہیں ہمیشہ جو بھرتے تھے دم دوستی کا وہی دشمن جاں ہمارے ہوئے ہیں نظر کر دعا پر خداوند عالم کہ ہم ہاتھ اپنے پسارے ہوئے ہیں بھلا غیر کی اس میں ہے کیا شکایت وہی دشمن جاں ہمارے ہوئے ہیں انہیں ہم نے نہلا دیا دے کے چھینٹیں عجب لطف دریا کنارے ہوئے ہیں خبر آمد گل کی شاید ہے آغاؔ چمن سارے جھاڑے بہارے ہوئے ہیں

nigaahon mein iqraar saare hue hain

41 views

Similar Poets