SHAWORDS
Abrar Ahmad

Abrar Ahmad

Abrar Ahmad

Abrar Ahmad

poet
21Shayari
22Ghazal

Popular Shayari

21 total

Ghazalغزل

See all 22
غزل · Ghazal

کیا جانیے کیا ہے حد ادراک سے آگے بس خاک ہے اس تیری مری خاک سے آگے ہے شور فغاں خامشیٔ مرگ کے پیچھے اک تیز ہوا ہے خس و خاشاک سے آگے ہم دیکھتے ہیں آنکھ میں سہمے ہوئے آنسو اک چپ ہے کہیں خندۂ بے باک سے آگے اک رنگ سا ہے رنگ تمنا سے مماثل اک ابر سا ہے دیدۂ نم ناک سے آگے میں اپنے کسی خواب کی منہ زور ہوا میں اکثر ہی نکل جاتا ہوں افلاک سے آگے کیا شور کریں گریۂ عشاق سے بڑھ کر کیا زور کریں پیرہن چاک سے آگے

kyaa jaaniye kyaa hai had-e-idraak se aage

41 views

غزل · Ghazal

آنکھیں اسے ڈھونڈیں گی تماشا نہیں ہوگا وہ دیکھیں گے ہم جو کبھی دیکھا نہیں ہوگا اک خواب زر و سیم سے گھر بھر گئے سارے اب کوئی یہاں نیند کا مارا نہیں ہوگا دل ہوگا نہیں ہوگا کسی یاد کا مسکن سو بام طلب پر کوئی چہرہ نہیں ہوگا ہم ہوں گے نہیں ہوں گے ترے شام و سحر میں لیکن تجھے اس بات کا دھڑکا نہیں ہوگا یہ سر کہ بھرا ہوگا فراوانیٔ شب سے پھر تا بہ ابد دل میں اجالا نہیں ہوگا یہ خواب سا منظر ہے بس اک عمر کا مہماں پھر حشر تلک اس کا نظارہ نہیں ہوگا پھر کس لیے ہم زحمت امید اٹھائیں اس شہر میں جب کوئی بھی تجھ سا نہیں ہوگا بھر جائیں گے اک روز سبھی گھاؤ ہمارے اے درد محبت ترا چارا نہیں ہوگا

aankhein use DhunDeingi tamaashaa nahin hogaa

41 views

غزل · Ghazal

زمیں نہیں یہ مری آسماں نہیں میرا متاع خواب بجز کچھ یہاں نہیں میرا یہ اونٹ اور کسی کے ہیں دشت میرا ہے سوار میرے نہیں سارباں نہیں میرا مجھے تمہارے تیقن سے خوف آتا ہے کہ اس یقین میں شامل گماں نہیں میرا میں ہو گیا ہوں خود اپنے سفر سے بیگانہ کہ نیند میری ہے خواب رواں نہیں میرا تو آب و خاک سے بچ کر کدھر کو جاتا میں دوام وصل ہے باقی نشاں نہیں میرا پھر ایک دن اسی مٹی کو لوٹ جاؤں گا گریز تجھ سے رہ رفتگاں نہیں میرا صدائے شہر گزشتہ ابھی بلاتی ہے گو اب عزیز کوئی بھی وہاں نہیں میرا

zamin nahin ye miri aasmaan nahin meraa

41 views

غزل · Ghazal

یہ یقیں یہ گماں ہی ممکن ہے تجھ سے ملنا یہاں ہی ممکن ہے خواب اک ممکن و میسر کا گرچہ اس کا بیاں ہی ممکن ہے بے حد و بے حساب شوق میں بھی قصد کوئے بتاں ہی ممکن ہے تنگنائے جہان ظاہر میں یہ زمیں یہ زماں ہی ممکن ہے حد سے حد اس رہ ہزیمت میں پرسش رہرواں ہی ممکن ہے آتش دل پہ ڈالنے کے لیے ریگ راہ رواں ہی ممکن ہے سرحد ممکنات سے آگے سر پہ اک آسماں ہی ممکن ہے آن بیٹھے کہ جی لگانے کو صحبت دوستاں ہی ممکن ہے عرصۂ زندگی میں تیری مری صرف اک داستاں ہی ممکن ہے کیا تماشا ہے یاں اٹھانے کو ایک بار گراں ہی ممکن ہے

ye yaqin ye gumaan hi mumkin hai

41 views

غزل · Ghazal

جو بھی یکجا ہے بکھرتا نظر آتا ہے مجھے جانے یوں ہے بھی کہ ایسا نظر آتا ہے مجھے چشم وا میں تو وہی منظر خالی ہے جو تھا موند لوں آنکھ تو کیا کیا نظر آتا ہے مجھے مائل عرض تمنا ہے نہ ہے وقف ملال اے مرے دل تو ٹھہرتا نظر آتا ہے مجھے پس نظارہ کوئی خواب گریزاں ہی نہ ہو دیکھنے میں تو تماشا نظر آتا ہے مجھے باندھ لوں رخت سفر لوٹ چلوں گھر کی طرف تری جانب سے اشارہ نظر آتا ہے مجھے تجھے کیونکر ہو یہ معلوم مرے ماہ تمام داغ دل کیسے ستارہ نظر آتا ہے مجھے کشتیٔ جاں یہی اک آدھ بھنور اور ہے بس کہیں نزدیک کنارہ نظر آتا ہے مجھے دیکھنے دیکھنے میں فرق ہوا کرتا ہے تمہی بتلاؤ کہ کیسا نظر آتا ہے مجھے

jo bhi yakjaa hai bikhartaa nazar aataa hai mujhe

41 views

غزل · Ghazal

اک فراموش کہانی میں رہا میں جو اس آنکھ کے پانی میں رہا رخ سے اڑتا ہوا وہ رنگ بہار ایک تصویر پرانی میں رہا میں کہ معدوم رہا صورت خواب پھر کسی یاد دہانی میں رہا ڈھنگ کے ایک ٹھکانے کے لیے گھر کا گھر نقل مکانی میں رہا میں ٹھہرتا گیا رفتہ رفتہ اور یہ دل اپنی روانی میں رہا وہ مرا نقش کف پائے طلب عہد رفتہ کی نشانی میں رہا میں کہ ہنگامۂ یک خواب لیے کوئی دن عالم فانی میں رہا

ik faraamosh kahaani mein rahaa

41 views

Similar Poets