yahi dil jo ik buund hai bahr-e-gham ki
Dubo degaa sab shahr tufaan kar ke

Ahmad Javaid
Ahmad Javaid
Ahmad Javaid
Popular Shayari
18 totalmashghul hain safaai-o-tausi-e-dil mein ham
tangi na is makaan mein ho mehmaan ko
ghar aur bayaabaan mein koi farq nahin hai
laazim hai magar ishq ke aadaab mein rahnaa
tiri duniyaa mein ai dil ham bhi ik goshe mein rahte hain
hamein bhi kuchh ummidein hain tiri aalam-panaahi se
ye ek lamhe ki duuri bahut hai mere liye
tamaam umr tiraa intizaar karne ko
hamesha dil havas-e-intiqaam par rakkhaa
khud apnaa naam bhi dushman ke naam par rakkhaa
us ki aankhon ke vasf kyaa likkhun
jaise khvaabon kaa be-karaan Thahraao
tulu-e-saaat-e-shab-khun hai aur meraa dil
kisi sitaara-e-bad ki nigaah mein aayaa
aamaada rakhein chashm-o-dil saamaan-e-hairaani karein
kyaa jaaniye kis vaqt vo nazaara farmaani karein
gahvaara-e-safar mein khuli hai hamaari aankh
taamir apne ghar ki hui sang-e-mil se
khabar nahin hai mire baadshaah ko shaayad
hazaar martaba aazaad ye ghulaam huaa
ek aansu se kami aa jaaegi
ghaaliban dariyaaon ke iqbaal mein
Ghazalغزل
موجود ہیں کتنے ہی تجھ سے بھی حسیں کر کے جھٹلا دیا آنکھوں کو میں دل پہ یقیں کر کے جس چشم سے رندوں میں ہو حق ہے اسی نے تو زاہد کو بھی رکھا ہے محراب نشیں کر کے کیا اس کی لطافت کا احوال بیاں کیجیے جو دل پہ ہوا ظاہر آنکھوں کو نہیں کر کے کچھ کم تھا بلائے جاں پہ چہرہ کہ اوپر سے آنکھیں بھی بنا لائے غارت گر دیں کر کے آئینے کے آگے سے اب اٹھ بھی چکو صاحب کیا کیجئے گا خود کو اتنا بھی حسیں کر کے سو داغ ہیں سینے میں وہ داغ جدائی بھی دیکھو تو ذرا ہوگا ان میں ہی کہیں کر کے اس دل کا تو نقشہ ہی دنیا نے بدل ڈالا کچھ یاد ہے رہتا تھا وہ بھی تو یہیں کر کے جاویدؔ وہاں تک تو مشکل ہے کوئی پہنچے منگوایئے قاصد بھی جبریل امیں کر کے
maujud hain kitne hi tujh se bhi hasin kar ke
40 views
دل آئینہ ہے مگر اک نگاہ کرنے کو یہ گھر بنایا ہے اس نے تباہ کرنے کو گل وصال ابھی دیکھا نہ تھا کہ آ پہنچی شب فراق بھی آنکھیں سیاہ کرنے کو گلیم و تخت اتارے ہیں غیب سے اس نے مجھے فقیر تجھے بادشاہ کرنے کو سجے ہیں دشت و بیاباں عجب قرینے سے تجھے سوار مجھے گرد راہ کرنے کو ملی مجھے تری ہمسائیگی سو دنیا میں تمیز مرتبۂ کوہ و کاہ کرنے کو دمیدہ ہر شجر گرد باد نخل جنوں ہمارے چاک گریباں سے راہ کرنے کو دل گداختہ و چشم تر ہی کافی ہے فتوح مملکت مہر و ماہ کرنے کو
dil aaina hai magar ik nigaah karne ko
40 views
کیا ہے دل نے بیگانہ جہان مرغ و ماہی سے ہمیں جاگیر آزادی ملی دربار شاہی سے کھلا ہے غنچۂ حیرت ہوائے گاہ گاہی سے ہوئے مجذوب رفتہ رفتہ اس کی کم نگاہی سے تری دنیا میں اے دل ہم بھی اک گوشے میں رہتے ہیں ہمیں بھی کچھ امیدیں ہیں تری عالم پناہی سے رعایا میں شہنشاہ جنوں کی ہم بھی داخل ہیں ہمیں بھی کچھ نہ کچھ نسبت تو ہے ظل الٰہی سے ہوئے ہیں بسکہ بیعت اس نظر کے خانوادے میں فقیری سے تعلق ہے نہ مطلب بادشاہی سے کیا ہے اس نظر نے سرفراز اہل محبت کو کسی کو تاج داری سے کسی کو بے کلاہی سے کہاں وہ خانماں بربادی عشق اور کہاں یہ ہم پھرا کرتے ہیں یوں ہی در بدر واہی تباہی سے
kiyaa hai dil ne begaana jahaan-e-murgh-o-maahi se
40 views
آمادہ رکھیں چشم و دل سامان حیرانی کریں کیا جانیے کس وقت وہ نظارہ فرمانی کریں بحر بلا ہے موج پر قہر قضا ہے اوج پر ہیں کاہ ساماں مستعد تا نا گریزانی کریں آئی ہے رات ایسی دنی ہے ہر چراغ افسردنی اے دل بیا اے دل بیا کچھ شعلہ سامانی کریں ہاں ہاں دکھائیں گے ضرور ہم وحشت دل کا وفور پہلے یہ شہر دشت و در تکمیل ویرانی کریں اے عاشقاں اے عاشقاں آیا ہے امر ناگہاں جو لوگ ہیں نظارہ جو وہ مشق حیرانی کریں وہ شمع ہے در طاق دل روشن ہیں سب آفاق دل افتادگان خاک اٹھو افلاک گردانی کریں ہے بسکہ تیغ اس کی رواں کم یاب ہیں ناکشتگاں سب سرفروشوں سے کہو چندے فراوانی کریں اک ناصحانہ عرض ہے دریاؤں پر یہ فرض ہے دل کی طرح ہر لہر میں تجدید طغیانی کریں ایسے گھروں میں اہل دل رہتے نہیں ہیں مستقل تبدیل یہ دیوار و در اسلوب ویرانی کریں
aamaada rakkhein chashm-o-dil saamaan-e-hairaani karein
40 views
اس کے لہجے کا وہ اتار چڑھاؤ رات کی نرم رو ندی کا بہاؤ اس کی آنکھوں کے وصف کیا لکھوں جیسے خوابوں کا بیکراں ٹھہراؤ ان نگاہوں کی گفتگو میں ہے نیند میں گم ہواؤں کا الجھاؤ اس بدن کی نزاکتیں مت پوچھ شیشۂ گل میں چاند کا لہراؤ نیند کی وادیوں میں پچھلے پہر ایک لے ایک نغمہ ایک الاؤ ایسی تنہائی کا مداوا کیا سات دریاؤں میں اکیلی ناؤ ان لبوں کی وہ بوسہ بوسہ اٹھان اور پلکوں کا نشہ نشہ جھکاؤ اس گلی اس دیار کی خوش بو اے سبک سیر نرم گام ہواؤ نوجوانی میں موت کی خواہش تم ہی سمجھا سکو تو کچھ سمجھاؤ جانے وہ غنچہ کس چمن کا ہے جس میں گم ہے بہار کا پھیلاؤ رات کہتی ہے مجھ کو پیار سے دیکھ مجھ میں ہے چشم یار کا گہراؤ شعلۂ جاں ہے بجھنے کو جاویدؔ اور دل میں دہک رہا ہے الاؤ
us ke lahje kaa vo utaar chaDhaao
40 views
کیا پوچھتے ہو شہر میں گھر اور ہمارا رہنے کا ہے انداز ادھر اور ہمارا وہ تیغ نہ جانے کدھر اٹھتی ہے ابھی تو جھگڑا ہے دل سینہ سپر اور ہمارا جب ہوش میں آئے تو اسے دیکھ بھی لیں گے فی الحال ہے انداز نظر اور ہمارا یہ مہر و نشاں طبل و علم خوب ہے لیکن بڑھ جائے گا کچھ بار سفر اور ہمارا دل ایسا مکاں چھوڑ کے یہ حال ہوا ہے یعنی نگہ خانہ بدر اور ہمارا
kyaa puchhte ho shahr mein ghar aur hamaaraa
40 views





