SHAWORDS
Aitbar Sajid

Aitbar Sajid

Aitbar Sajid

Aitbar Sajid

poet
35Shayari
41Ghazal

Popular Shayari

35 total

Ghazalغزل

See all 41
غزل · Ghazal

کہا تخلیق فن بولے بہت دشوار تو ہوگی کہا مخلوق بولے باعث آزار تو ہوگی کہا: ہم کیا کریں اس عہد نا پرساں میں کچھ کہیے وہ بولے کوئی آخر صورت اظہار تو ہوگی کہا: ہم اپنی مرضی سے سفر بھی کر نہیں سکتے وہ بولے ہر قدم پر اک نئی دیوار تو ہوگی کہا: آنکھیں نہیں اس غم میں بینائی بھی جاتی ہے وہ بولے ہجر کی شب ہے ذرا دشوار تو ہوگی کہا: جلتا ہے دل بولے اسے جلنے دیا جائے اندھیرے میں کسی کو روشنی درکار تو ہوگی کہا: یہ کوچہ گردی اور کتنی دیر تک آخر وہ بولے عشق میں مٹی تمہاری خوار تو ہوگی

kahaa takhliq-e-fan bole bahut dushvaar to hogi

41 views

غزل · Ghazal

وہی ہیں اپنی راتوں کی کتھائیں فراق یار خواب آور دوائیں وہی اندر تموج آندھیوں کا وہی باہر ہوا کی سائیں سائیں یہاں ہے کون ایسا آنے والا کہ ہم کمرہ سلیقے سے سجائیں کوئی ان رت جگوں کی حد بھی ہوگی دریچوں میں دیے کب تک جلائیں کہاں تک ساتھ چل سکتا ہے کوئی کہاں تک ساتھ دیں گی یہ دعائیں سلگ اٹھتا ہے یوں بے ساختہ دل چمک اٹھتی ہیں باہر کی فضائیں

vahi hain apni raaton ki kathaaein

40 views

غزل · Ghazal

کہا دن کو بھی یہ گھر کس لیے ویران رہتا ہے یہاں کیا ہم سا کوئی بے سر و سامان رہتا ہے در و دیوار سناٹے کی چادر میں ہیں خوابیدہ بھلا ایسی جگہ زندہ کوئی انسان رہتا ہے مسلسل پوچھنے پر ایک چلمن سے جواب آیا یہاں اک دل شکستہ صاحب دیوان رہتا ہے جھجک کر میں نے پوچھا کیا کبھی باہر نہیں آتا جواب آیا اسے خلوت میں اطمینان رہتا ہے کہا کیا اس کے رشتہ دار بھی ملنے نہیں آتے جواب آیا یہ صحرا رات دن سنسان رہتا ہے کہا کوئی تو ہوگا اس کے دکھ سکھ بانٹنے والا جواب آیا نہیں خالی یہ گھر یہ لان رہتا ہے کہا اس گھر کے آنگن میں ہیں کچھ پھولوں کے پودے بھی جواب آیا کہ خالی پھر بھی ہر گلدان رہتا ہے کہا کیا اس محلے میں نہیں پرسان حال اس کا جواب آیا خیال اس کا مجھے ہر آن رہتا ہے خدا کا شکر ہے ہم اک فضا میں سانس لیتے ہیں اگر ملتے نہیں اتنا تو اطمینان رہتا ہے

kahaa din ko bhi ye ghar kis liye viraan rahtaa hai

40 views

غزل · Ghazal

دل ہیں یوں مضطرب مکانوں میں مچھلیاں جیسے مرتبانوں میں دھوپ سے ڈھونڈتے ہیں راہ فرار لوگ شیشے کے سائبانوں میں بے ارادہ کلام کی خواہش بے سبب لکنتیں زبانوں میں تیری آمد پہ جیسے لوٹ آیا وقت گزرے ہوئے زمانوں میں دل دھڑکتا ہے ہر ستارے کا آج کی رات آسمانوں میں زنگ آلود ہو گئے جذبی جم گئے حرف سرد خانوں میں ریشمی لوگ ڈھونڈتے ہیں ہم شہر کے آہنی مکانوں میں

dil hain yuun muztarib makaanon mein

40 views

غزل · Ghazal

شہر ہوا میں جلتے رہنا اندیشوں کی چوکھٹ پر رات گئے تک الجھے رہنا بے مفہوم خیالوں میں قصر عمر گواہی دے گا کیسے کیسے کرب سہے کیسی کیسی رت گزری ہے ہم پر اتنے سالوں میں دوش خلا سے خاک زمیں پر اترے تو احساس ہوا تارے بانٹنے والے راہی پڑ گئے کن جنجالوں میں لے آئی کس قریۂ شب میں اک جھوٹے مہتاب کی چاہ سایہ سایہ بھٹک رہا ہوں بے تنویر اجالوں میں موسم موسم یہی رہا گر خوشبو کی تحقیر کا رنگ سیسے کی کلیاں پھوٹیں گی اب لوہے کی ڈالوں میں ساجدؔ اب تک بھگت رہے ہیں اک بے انت سزا کی عمر اپنا نام لکھا بیٹھے تھے اک دن جینے والوں میں

shahr-e-havaa mein jalte rahnaa andeshon ki chaukhaT par

40 views

غزل · Ghazal

زخموں کا دوشالہ پہنا دھوپ کو سر پر تان لیا کیا کیا ہم نے کشٹ کمائے کہاں کہاں نروان لیا نقش دیے تری آشاؤں کو عکس دیے ترے سپنوں کو لیکن دیکھ ہماری حالت وقت نے کیا تاوان لیا اشکوں میں ہم گوندھ چکے تھے اس کے لمس کی خوشبو کو موم کے پھول بنانے بیٹھے لیکن دھوپ نے آن لیا برسوں بعد ہمیں دیکھا تو پہروں اس نے بات نہ کی کچھ تو گرد سفر سے بھانپا کچھ آنکھوں سے جان لیا آنکھ پہ ہات دھرے پھرتے تھے لیکن شہر کے لوگوں نے اس کی باتیں چھیڑ کے ہم کو لہجے سے پہچان لیا سورج سورج کھیل رہے تھے ساجدؔ ہم کل اس کے ساتھ اک اک قوس قزح سے گزرے اک اک بادل چھان لیا

zakhmon kaa do-shaala pahnaa dhuup ko sar par taan liyaa

40 views

Similar Poets