chup raho to puchhtaa hai khair hai
lo khamoshi bhi shikaayat ho gai

Akhtar Ansari Akbarabadi
Akhtar Ansari Akbarabadi
Akhtar Ansari Akbarabadi
Popular Shayari
22 totalkyaa karishma hai mire jazba-e-aazaadi kaa
thi jo divaar kabhi ab hai vo dar ki surat
raah par aa hi gae aaj bhaTakne vaale
raahbar dekh vo manzil kaa nishaan hai ki nahin
kuchh andhere hain abhi raah mein haail 'akhtar'
apni manzil pe nazar aaegaa insaan ik roz
abhi bahaar ne sikhi kahaan hai dil-jui
hazaar daagh abhi qalb-e-laala-zaar mein hain
zulm sahte rahe shukr karte rahe aai lab tak na ye daastaan aaj tak
mujh ko hairat rahi anjuman mein tiri kyuun hain khaamosh ahl-e-zabaan aaj tak
dushmani ko buraa na kah ai dost
dekh kyaa dosti hai ghaur se dekh
ajiib bhul-bhulayyaan hai shaahraah-e-hayat
bhaTakne vaale yahaan justuju ki baat na kar
ik husn-e-mukammal hai to ik ishq-saraapaa
hoshyaar saa ik shakhs hai divaana saa ik shakhs
sahaaraa de nahin sakte shikasta paanv ko
haTaao raah-e-mohabbat se rahnumaaon ko
ho koi mauj-e-tufaan yaa havaa-e-tund kaa jhonkaa
jo pahunchaa de lab-e-saahil usi ko naakhudaa samjho
bandagi teri khudaai se bahut hai aage
naqsh-e-sajda hai tire naqsh-e-qadam se pahle
Ghazalغزل
یہ رنگ و کیف کہاں تھا شباب سے پہلے نظر کچھ اور تھی موج شراب سے پہلے نہ جانے حال ہو کیا دور اضطراب کے بعد سکوں ملا نہ کبھی اضطراب سے پہلے وہی غریب ہیں خانہ خراب سے اب بھی رواں دواں تھے جو خانہ خراب سے پہلے وہی ہے حشر کا عالم اب انقلاب کے بعد جو حشر اٹھا تھا یہاں انقلاب سے پہلے ملی ہے تجھ سے تو محسوس ہو رہی ہے نظر نظر کہاں تھی ترے انتخاب سے پہلے تباہ حال زمانے کو دیکھیے اخترؔ نظر اٹھائیے جام شراب سے پہلے
ye rang-o-kaif kahaan thaa shabaab se pahle
40 views
جام لا جام کہ آلام سے جی ڈرتا ہے اثر گردش ایام سے جی ڈرتا ہے لب پہ اب عارض و گیسو کے فسانے کیا ہوں فتنہ ہائے سحر و شام سے جی ڈرتا ہے تجھ کو میں ڈھونڈھتا پھرتا ہوں در و بام سے دور اب تجلئ در و بام سے جی ڈرتا ہے گل کھلائے نہ کہیں فتنۂ دوراں کچھ اور آج کل دور مے و جام سے جی ڈرتا ہے نگہ مست کے قربان مری سمت نہ دیکھ موجۂ بادۂ گلفام سے جی ڈرتا ہے چھوڑ کر راہ میں بت خانے گزر جاتا ہوں ہوش میں جلوۂ اصنام سے جی ڈرتا ہے رات کی ظلمتیں بڑھتی ہی چلی جاتی ہیں اخترؔ اپنا تو سر شام سے جی ڈرتا ہے
jaam laa jaam ki aalaam se ji Dartaa hai
40 views
سہارا دے نہیں سکتے شکستہ پاؤں کو ہٹاؤ راہ محبت سے رہنماؤں کو بنا رہا ہوں حسیں اور مہ لقاؤں کو سجا رہا ہوں میں آفاق کی فضاؤں کو نظر نظر سے ملاتا ہوں مسکراتا ہوں جنوں کی شان دکھاتا ہوں دل رباؤں کو قدم قدم پہ نئے انقلاب رقصاں ہیں دعائیں دیتے ہیں ہم آپ کی اداؤں کو ملا جو دامن ساحل تو ایسی موج آئی سفینے سونپ دئیے ہم نے ناخداؤں کو نگاہ پھیرنے والوں سے پوچھتا ہوں میں تم آزماؤ گے کب تک مری وفاؤں کو ابھی تو دشت و دمن میں بہار آئی ہے ابھی چمن میں کھلانے ہیں گل ہواؤں کو چلے ہیں جانب دار و رسن خراباتی گنہ کا رنگ دکھانا ہے پارساؤں کو ہر ایک لمحۂ نو کا اب احترام کرو نیا پیام دو اخترؔ نئی فضاؤں کو
sahaaraa de nahin sakte shikasta paanv ko
40 views
رہبر طبل و نشاں اور ذرا تیز قدم ہاں مرے عزم جواں اور ذرا تیز قدم اس اندھیرے سے نہ گھبرا کہ ذرا اور آگے ہے چراغاں کا سماں اور ذرا تیز قدم کہیں مایوس نہ ہونا جو نگاہوں سے ابھی ان کی محفل ہے نہاں اور ذرا تیز قدم یہ یقیں ہے کہ پہنچ جائیں گے ان تک اک دن چلئے بے وہم و گماں اور ذرا تیز قدم بجھ نہ جائیں رہ ہستی میں تمنا کے چراغ خواجۂ راہرواں اور ذرا تیز قدم کس بلندی پہ رواں تم ہو زمیں کے ذرو ہیں ستارے نگراں اور ذرا تیز قدم مل ہی جائے گا کہیں شہر نگاراں اخترؔ اے پرستار بتاں اور ذرا تیز قدم
rahbar-e-tabl-o-nishaan aur zaraa tez qadam
40 views
ندیم باغ میں جوش نمو کی بات نہ کر بہار آ تو گئی رنگ و بو کی بات نہ کر عجیب بھول بھلیاں ہے شاہراہ حیات بھٹکنے والے یہاں جستجو کی بات نہ کر تباہ کر نہ مذاق جنوں کی خودداری دل تباہ کسی تند خو کی بات نہ کر خود اپنے طرز عمل کو سنوار اور سنوار مرے رفیق طریق عدو کی بات نہ کر گریز حسن کو انداز حسن کہتے ہیں نظر سے دیکھ مگر خوبرو کی بات نہ کر یہ برق حسن جلاتی تو ہے مگر ناصح وہ اور شے ہے مرے شعلہ خو کی بات نہ کر یہ میکدے کی فضا کہہ رہی ہے اے اخترؔ کہ تشنگی میں بھی جام و سبو کی بات نہ کر
nadim baagh mein josh-e-numu ki baat na kar
40 views
یہ محبت کی جوانی کا سماں ہے کہ نہیں اب مرے زیر قدم کاہکشاں ہے کہ نہیں دامن رند بلا نوش کو دیکھ اے ساقی پرچم خواجگئ کون و مکاں ہے کہ نہیں مسکراتے ہوئے گزرے تھے ادھر سے کچھ لوگ آج پر نور گذر گاہ زماں ہے کہ نہیں حسن ہی حسن ہے گلزار جنوں میں رقصاں عشق کا عالم صد رنگ جواں ہے کہ نہیں راہ پر آ ہی گئے آج بھٹکنے والے راہبر دیکھ وہ منزل کا نشاں ہے کہ نہیں لاکھ گرداب و تلاطم سے گزر کر اے دوست اب سفینہ مرا ساحل پہ رواں ہے کہ نہیں تذکرے اپنے ہر اک بزم میں ہیں اے اخترؔ آج مہمل سی حدیث دگراں ہے کہ نہیں
ye mohabbat ki javaani kaa samaan hai ki nahin





