SHAWORDS
Aleem Masroor

Aleem Masroor

Aleem Masroor

Aleem Masroor

poet
7Shayari
5Ghazal

Popular Shayari

7 total

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

گھبرائیں حوادث سے کیا ہم جینے کے سہارے نکلیں گے ڈوبے گا اگر یہ سورج بھی تو چاند ستارے نکلیں گے انداز زمانہ کہتا ہے پھر موج ہوا رخ بدلے گی انگاروں سے گلشن پھوٹے گا شبنم سے شرارے نکلیں گے فردوس نظر کے دیوانے تاریک فضا سے کیا ڈرنا تو شمع نظر کو تیز تو کر ظلمت سے نظارے نکلیں گے انجام کشاکش ہوگا کچھ دیکھیں تو تماشا دیوانے یا خاک اڑے گی گردوں پر یا فرش پہ تارے نکلیں گے مسرورؔ کریں اہل ساحل کچھ فکر نہ ہمت والوں کی ڈوبیں گے سفینے جتنے بھی اک دن وہ کنارے نکلیں گے

ghabraaein havaadis se kyaa ham jiine ke sahaare nikleinge

2 views

غزل · Ghazal

اک راز غم دل جب خود رہ نہ سکا دل تک ہونے دو یہ رسوائی تم تک ہو کہ محفل تک افسانہ محبت کا پورا ہو تو کیسے ہو کچھ ہے دل قاتل تک کچھ ہے دل بسمل تک بس ایک نظر جس کی آتش زن محفل ہے وہ برق مجسم ہے محدود مرے دل تک یہ راہ محبت ہے سب اس میں برابر ہیں بھٹکے ہوئے راہی سے خضر رہ منزل تک ہے عزم جواں سب کچھ طوفان حوادث میں ساحل کا بھروسہ کیا یہ جاتا ہے ساحل تک

ik raaz-e-gham-e-dil jab khud rah na sakaa dil tak

2 views

غزل · Ghazal

چلے بزم دوراں سے جب زہر پی کے بڑھے حوصلے اور بھی زندگی کے فسانوں سے میری ہی آوارگی کے معین ہوئے راستے زندگی کے زمانے کو دوں کیا کہ دامن میں میرے فقط چند آنسو ہیں وہ بھی کسی کے نگاہ کرم کی ضرورت نہیں ہے ذرا دیکھ لوں بے سہارے بھی جی کے ہیں مسرورؔ آنکھیں تمہاری جو پر نم بتاؤ یہ آنسو ہیں غم یا خوشی کے

chale bazm-e-dauraan se jab zahr pi ke

1 views

غزل · Ghazal

اک منتظر وعدہ کی شمع جلی ہوگی سورج کے نکلنے سے کیا رات ڈھلی ہوگی بتلائیں ٹھکانا کیا چھٹے ہوئے گلشن میں گزرو گے تو دیکھو گے اک شاخ جلی ہوگی بس ایک تمنا ہو جس کے دل ویراں میں سوچو تو ذرا کتنے نازوں کی پلی ہوگی نکلے تری محفل سے تو ساتھ نہ تھا کوئی شاید مری رسوائی کچھ دور چلی ہوگی کل رات جو میں گزرا اک نور کا تڑکا تھا مسرورؔ بتاؤ تو وہ کس کی گلی ہوگی

ik muntazir-e-vaada ki shama jali hogi

1 views

غزل · Ghazal

اک جنوں کہیے اسے جو مرے سر سے نکلا ورنہ مطلب نہ کوئی عرض ہنر سے نکلا کوئی منزل نہ ملی پانو جو گھر سے نکلا پھر سفر پیش تھا جب گرد سفر سے نکلا بچ کے ہر چند زمانے کی نظر سے نکلا سامنے کوئے ملامت تھا جدھر سے نکلا میں بہت دور کہیں چھوڑ چکا تھا اس کو قافلہ پھر مری حسرت کا کدھر سے نکلا اٹھ کے اس بزم سے آ جانا کچھ آسان نہ تھا ایک دیوار سے نکلا ہوں جو در سے نکلا مے کدہ دیکھا تو یاد غم یاراں آئی جام چھلکا تو لہو زخم جگر سے نکلا بھیڑ کے خوف سے پھر گھر کی طرف لوٹ آیا گھر سے جب شہر میں تنہائی کے ڈر سے نکلا پڑ گیا وقت تو صدیوں کے بھرم ٹوٹ گئے کام کچھ شام سے نکلا نہ سحر سے نکلا

ik junun kahiye use jo mire sar se niklaa

Similar Poets