SHAWORDS
Ameer Imam

Ameer Imam

Ameer Imam

Ameer Imam

poet
26Shayari
105Ghazal

Popular Shayari

26 total

Ghazalغزل

See all 105
غزل · Ghazal

سانسوں کے کارواں کی طرف دیکھتے رہو اس کار رائیگاں کی طرف دیکھتے رہو تازہ بشارتوں کے اترنے کا وقت ہے چپ چاپ آسماں کی طرف دیکھتے رہو ساحل کی سمت دیکھا تو ساحل نہ آئے گا موجوں کی بادباں کی طرف دیکھتے رہو جھپکیں نہ ایک بار بھی پلکیں یہ شرط ہے صحرائے رفتگاں کی طرف دیکھتے رہو کیا ہے عجب کہ وہ بھی تمہیں دیکھنے لگیں شاہان مہ رخاں کی طرف دیکھتے رہو خاموش اس جہاں سے گزرنا ہے جب تمہیں خاموش اس جہاں کی طرف دیکھتے رہو

saanson ke kaarvaan ki taraf dekhte raho

غزل · Ghazal

دامن دل پر نئی گلکاریاں کرتے رہو زندگی سے جنگ کی تیاریاں کرتے رہو رات کٹنے تک انہیں ہموار کرنے کے لیے اپنے اندر روز نا ہمواریاں کرتے رہو دشمنوں سے عمر بھر اپنے نبھاؤ دشمنی اور یاروں سے ہمیشہ یاریاں کرتے رہو عشق کرنا ذمہ داری ہے نتیجہ کچھ بھی ہو صرف پوری اپنی ذمہ داریاں کرتے رہو بے سبب مرنے سے اچھا ہے کہ ہو کوئی سبب دوستو سگریٹ پیو مے خواریاں کرتے رہو عمر اتنی کٹ گئی ہے اور بھی کٹ جائے گی دل رباؤں سے یوں ہی دلداریاں کرتے رہو کھول دو دل اور گزرنے دو ہوائے عشق کو راکھ میں پیدا نئی چنگاریاں کرتے رہو

daaman-e-dil par nai gulkaariyaan karte raho

غزل · Ghazal

بہت مخمور ہوتا جا رہا ہوں میں اب بھرپور ہوتا جا رہا ہوں میں چکنا چور ہو پایا نہ اب تک میں چکنا چور ہوتا جا رہا ہوں کہا اک زخم نے یہ مسکرا کر میں اب ناسور ہوتا جا رہا ہوں اٹھا دو آج پھر محفل سے اپنی بہت مغرور ہوتا جا رہا ہوں قریب آیا ہوں اتنا عرض کرنے میں تم سے دور ہوتا جا رہا ہوں مری مٹی کو شکوہ ہے یہ مجھ سے سراپا نور ہوتا جا رہا ہوں مرے خوابوں پہ گھوڑے دوڑتے ہیں شب عاشور ہوتا جا رہا ہوں

bahut makhmur hotaa jaa rahaa huun

غزل · Ghazal

کسی بھی شخص سے شکوہ نہ اب گلہ رکھو عجیب دن ہیں لبوں پر فقط دعا رکھو یہ وقت پہلے بھی آ کر گزر گیا کئی بار گزرتا جائے گا یہ وقت حوصلہ رکھو جو آج آتے ہیں آنسو تو کوئی بات نہیں لہو بھی آئے گا آنکھوں کا در کھلا رکھو یہ چھپ نہ جائیں پھر اک بار آستینوں میں ہر ایک خنجر قاتل پہ اک گلا رکھو تمہارے قتل پہ ماتم بھی اب نہیں ہو گا تم اب یہ آخری امید بھی اٹھا رکھو تبھی تو کہتے تھے تعداد کچھ نہیں ہوتی تبھی تو کہتے تھے ذہنوں میں کربلا رکھو ہوا کے سامنے رکھی ہوا تو کیا حاصل نئے چراغ جلاؤ نئی ضیا رکھو

kisi bhi shakhs se shikva na ab gila rakkho

غزل · Ghazal

سچ ہے خاموشی وجہ تنہائی ہے میری اس کو کیسے چھوڑ دوں یہ ماں جائی ہے میری اتنے بل مت ڈالو دیکھو دیکھ نہ لے کوئی تم نے جبیں پر جو تصویر بنائی ہے میری گھر سے باہر آنکھ پہ پٹی باندھ کے نکلوں گا میری دشمن آنکھوں کی بینائی ہے میری دانائی کی آخری منزل پاگل ہو جانا پاگل ہو جانا یارو دانائی ہے میری تیرا خیال کہاں تھا وہ تو ایک بگولہ تھا اس نے شہروں شہروں خاک اڑائی ہے میری کچھ آبادی سوتیلا برتاؤ کرتی ہے اور طبیعت بھی تھوڑی صحرائی ہے میری مجھ کو تنہائی کے کتنے راگ سناتی ہے سگریٹ کب ہے جلتی ہوئی شہنائی ہے میری

sach hai khaamoshi vajh-e-tanhaai hai meri

غزل · Ghazal

حقیقتوں کی طرف داستاں سے نکلیں گے جو ایک روز ہم اس خاکداں سے نکلیں گے نہ تارتار گریباں نہ خاک اڑاتے ہوئے کسی کے کوچۂ نامہرباں سے نکلیں گے جہاں کوئی نہیں پہنچا وہاں پہنچنا ہے جہاں کوئی نہیں نکلا وہاں سے نکلیں گے کسی کے زخم کسی کا بدن اٹھائے گا کسی کے تیر کسی کی کماں سے نکلیں گے زمیں میں جانا ہے یوں ہیں زمین کی خاطر ہم آسماں کے لئے آسماں سے نکلیں گے نہ پھر گھڑی کی یہ ٹک ٹک نہ گرتی دیواریں کبھی تو قید زمان و مکاں سے نکلیں گے چھپے ہیں یوں کہ تلاشیں ہمیں نئی نسلیں خموش یوں ہیں کہ ان کی زباں سے نکلیں گے

haqiqaton ki taraf daastaan se nikleinge

Similar Poets