SHAWORDS
Anwar Taban

Anwar Taban

Anwar Taban

Anwar Taban

poet
19Shayari
15Ghazal

Popular Shayari

19 total

Ghazalغزل

See all 15
غزل · Ghazal

لب پر ان کا نام نہیں ہے چین نہیں آرام نہیں ہے لاکھ بچاؤ مجھ سے دامن میری محبت خام نہیں ہے دل ہے پریشاں ان کی خاطر پل بھر کو آرام نہیں ہے میری محبت ان پر کامل عشق مرا ناکام نہیں ہے مشکل ہے ہر کوئی دیکھے اس کا جلوہ عام نہیں ہے پیکر الفت ہوں میں تاباںؔ نفرت میرا کام نہیں ہے

lab par un kaa naam nahin hai

غزل · Ghazal

وفا کا مری کیا سلا دیجئے گا غم دل کی لذت بڑھا دیجئے گا مجھے دیکھ کر مسکرا دیجئے گا یوں ہی میری ہستی مٹا دیجئے گا صلہ دل لگانے کا کیا دیجئے گا ستم دیجئے گا سزا دیجئے گا سکوں کی طلب مجھ کو ہرگز نہیں ہے بس اک درد کا سلسلہ دیجئے گا خوشی بانٹنے کے نہیں آپ قائل تو غم ہی مجھے کچھ سوا دیجئے گا مجھے کیا خبر تھی کہ خود لوح دل پر مرا نام لکھ کر مٹا دیجئے گا سکون قلب کو جس سے مل جائے تاباںؔ غزل کوئی ایسی سنا دیجئے گا

vafaa kaa miri kyaa silaa dijiyegaa

غزل · Ghazal

پیار کا اک پل سکون زندگی دے جائے گا ختم جو ہونے نہ پائے وہ خوشی دے جائے گا وہ خلوص و مہر کا پیکر بنام دوستاں دشمنوں کو بھی شعور دوستی دے جائے گا حسن فطرت جلوہ گر ہو کر یقیناً اک دن رنگ کلیوں کو گلوں کو دل کشی دے جائے گا آئے گا وہ دن ہماری زندگی میں بھی ضرور جو اندھیروں کو مٹا کر روشنی دے جائے گا وہ بھی لمحہ آئے گا تاباںؔ رہ ہستی میں جو تیرے پژمردہ لبوں کو کو دے جائے گا

pyaar kaa ik pal sukun-e-zindagi de jaaegaa

غزل · Ghazal

میرے لب پر اگر کبھی آئی رقص کرتی ہوئی ہنسی آئی ان کے مجھ پر ستم بڑھے جب سے درد دل میں بہت کمی آئی ہنستے ہنستے نکل پڑے آنسو روتے روتے کبھی ہنسی آئی رقص کرنے لگے مرے ارماں یاد جب ان کی جھومتی آئی مشعل راہ بن کے اے تاباںؔ ان کے جلووں کی روشنی آئی

mere lab par agar kabhi aai

غزل · Ghazal

بہار بن کے مرے ہر نفس پہ چھائی ہو عجب ادا سے مری زندگی میں آئی ہو تمہارا حسن وہ تصویر حسن کامل ہے خدا نے خاص ہی لمحوں میں جو بنائی ہو شراب ہے نہ سبو ہے مگر یہ عالم ہے کسی نے جیسے نگاہوں سے مے پلائی ہو تری طرح ہی گریزاں ہے نیند بھی مجھ سے قسم ہے تیری جو اب تک قریب آئی ہو تو اس نگاہ سے پی وقت مے کشی تاباںؔ کی جس نگاہ پہ قربان پارسائی ہو

bahaar ban ke mire har nafas pe chhaai ho

غزل · Ghazal

ہر ایک شخص مرا شہر میں شناسا تھا مگر جو غور سے دیکھا تو میں اکیلا تھا وہ خواب عیش طرب کا جو ہم نے دیکھا تھا حقیقتوں سے پرے تھا حسین دھوکا تھا خدا ہمیں بھی دکھا دے وہ دور کیسا تھا خلوص و مہر کا ہر شخص جس میں دریا تھا ستم بھی مجھ پہ وہ کرتا رہا کرم کی طرح وہ مہرباں تو نہ تھا مہربان جیسا تھا گزشتہ رات بھی ہم نے یوں ہی گزاری تھی زمین کو فرش کیا آسمان اوڑھا تھا اسی کو مطلبی تاباںؔ کہا زمانے نے دعا سلام جو چھوٹے بڑے سے رکھتا تھا

har ek shakhs miraa shahr mein shanaasaa thaa

Similar Poets