SHAWORDS
Azeem Haider Syed

Azeem Haider Syed

Azeem Haider Syed

Azeem Haider Syed

poet
16Sher
16Shayari
14Ghazal

Sherشعر

See all 16

Popular Sher & Shayari

32 total

Ghazalغزل

See all 14
غزل · Ghazal

isi liye to haar kaa huaa nahin malaal tak

اسی لیے تو ہار کا ہوا نہیں ملال تک وہ میرے ساتھ ساتھ تھا عروج سے زوال تک نہیں ہے سہل اس قدر کہ جی سکے ہر ایک شخص بلائے ہجر کی رتوں سے موسم وصال تک ہماری کشت آرزو یہ دھوپ کیا جلائے گی تمہارا انتظار ہم کریں گے برشگال تک عمیق زخم اس قدر بہ دست و روز و شب ملے کہ مندمل نہ کر سکی دوائے ماہ و سال تک قبائے زرد و سرخ کا یہ امتزاج الاماں جمال کو وہ لے گیا پرے حد کمال تک

غزل · Ghazal

fitna uThaa to razm-gah-e-khaak se uThaa

فتنہ اٹھا تو رزم گہہ خاک سے اٹھا سورج کسی کے پیرہن چاک سے اٹھا یہ دل اٹھا رہا ہے بڑے حوصلے کے ساتھ وہ بار جو زمیں سے نہ افلاک سے اٹھا سب معجزوں کے باب میں یہ معجزہ بھی ہو جو لوگ مر گئے ہیں انہیں خاک سے اٹھا سورج کی ضو چراغ شکستہ کی لو سے ہو قلزم کی موج دیدۂ نمناک سے اٹھا پوچھا جو اس نے عہد جراحت کا ماجرا دریا لہو کا ہر رگ پوشاک سے اٹھا

غزل · Ghazal

ishq mein ho ke mubtilaa dil ne kamaal kar diyaa

عشق میں ہو کے مبتلا دل نے کمال کر دیا یوں ہی سی ایک شکل کو زہرہ جمال کر دیا ہم کو تمہاری بزم سے اٹھنے کا کچھ قلق نہیں جیسا خیال ہو سکا ویسا خیال کر دیا سیل روان عمر کے آگے ٹھہر سکا نہ کچھ وقت نے مہر حسن کو رو بہ زوال کر دیا ایک سم عذاب سا پھیل گیا وجود میں روز و شب فراق نے جینا محال کر دیا میری زبان خشک پر ریت کا ذائقہ سا ہے موسم بر شگال نے کیسا یہ حال کر دیا دھند میں کھو کے رہ گئیں صورتیں مہر و ماہ سی وقت کی گرد نے انہیں خواب و خیال کر دیا

غزل · Ghazal

dastak havaa ki sun ke kabhi Dar nahin gayaa

دستک ہوا کی سن کے کبھی ڈر نہیں گیا لیکن میں چاند رات میں باہر نہیں گیا آنکھوں میں اڑ رہا ہے ابھی تک غبار ہجر اب تک وداع یار کا منظر نہیں گیا اے شام ہجر یار مری تو گواہی دے میں تیرے ساتھ ساتھ رہا گھر نہیں گیا تو نے بھی سارے زخم کسی طور سہ لیے میں بھی بچھڑ کے جی ہی لیا مر نہیں گیا سادہ فصیل شہر مجھے دیکھتی رہی لیکن میں تیرا نام بھی لکھ کر نہیں گیا بخشا شب فراق کو دل نے ابد کا طول شب بھر لہولہان رہا مر نہیں گیا

غزل · Ghazal

sukun-e-dil gayaa nazron se sab qataare gae

سکون دل گیا نظروں سے سب قطارے گئے چمن میں کھلتے ہوئے جب سے پھول مارے گئے ہوائے موت ذرا دیر کیا ادھر آئی کہ میرے ہاتھ سے اڑ کر مرے غبارے گئے یہ کیسی کربلا برپا ہوئی پشاور میں لہو میں ڈوبے ہوئے میرے بچے مارے گئے انہیں ہی مرتبہ ملتا ہے جا کے جنت میں حصول علم کی خاطر جو جان وارے گئے چمن اجاڑنے والو تمہیں خدا سمجھے تمہیں نہ آئی حیا پھول تو ہمارے گئے رہے گا یاد ہمیں آنے والی نسلوں تک وہ نقش پا جو یہاں خون سے ابھارے گئے سلام میرا عظیمؔ ان شہید بچوں کو جو اپنی جیت کی خاطر بھی جان ہارے گئے

غزل · Ghazal

kaun vaan jubba-o-dastaar mein aa saktaa hai

کون واں جبہ و دستار میں آ سکتا ہے گھر کا گھر ہی جہاں بازار میں آ سکتا ہے کس لیے خود کو سمجھتا ہے وہ پتھر کی لکیر اس کا انکار بھی اقرار میں آ سکتا ہے مجھ کو معلوم ہے دریاؤں کا کف ہے تجھ میں تو مرے موجۂ پندار میں آ سکتا ہے اے ہوا کی طرح اٹھکھیلیاں کرنے والے بل کبھی وقت کی رفتار میں آ سکتا ہے سر پہ سورج ہے تو پھر چھاؤں سے محظوظ نہ ہو دھوپ کا رنگ بھی دیوار میں آ سکتا ہے یہ جو میں اپنے تئیں شاعری کرتا ہوں عظیمؔ کیا تخیل مرا اظہار میں آ سکتا ہے

Similar Poets