SHAWORDS
Aziz Hamid Madni

Aziz Hamid Madni

Aziz Hamid Madni

Aziz Hamid Madni

poet
37Sher
37Shayari
42Ghazal

Sherشعر

See all 37

Popular Sher & Shayari

74 total

Ghazalغزل

See all 42
غزل · Ghazal

khatm hui shab-e-vafaa khvaab ke silsile gae

ختم ہوئی شب وفا خواب کے سلسلے گئے جس در نیم باز کے پیش تھے مرحلے گئے جو رگ ابر و باد سے تا بہ رگ جنوں رہیں عشق کی وہ حکایتیں حسن کے وہ گلے گئے شکر و سپاس کا مزہ دے ہی گیا سکوت یار وصل و فراق سے الگ درد کے حوصلے گئے اک مرے ہم کنار کی مجھ سے قریب آ کے رات خیمۂ درد ہو گئی قرب کے ولولے گئے دشت میں قحط آب سے ہجرت طائراں کے بعد سیر پسند و تر نفس ابر کے قافلے گئے اے یہ فسون دلبری تازہ رخ و سیاہ چشم منزل قرب بھی گئی تجھ سے نہ فاصلے گئے نیند میں مہوشان شہر بوسۂ عاشقاں کی خیر شب بہ ہوائے نرم سیر صبح ہوئی صلے گئے اے رخ تازہ جہاں رات تو اب بھی ہے گراں شمع ہزار رنگ تک یوں ترے سلسلے گئے دامن دل کی اوٹ سے ایک شب فراق کیا دور تغیر جہاں سب ترے قافلے گئے

غزل · Ghazal

ek hi shahr mein rahte baste kaale koson duur rahaa

ایک ہی شہر میں رہتے بستے کالے کوسوں دور رہا اس غم سے ہم اور بھی ہارے وہ بھی تو مجبور رہا کال تھا اشکوں کا آنکھوں میں لیکن تیری یاد نہ پوچھ کیا کیا موتی میں بھی فراہم کرنے پر مجبور رہا وہ اور اتنا پریشاں خاطر ربط غیر کی بات نہیں لیکن اس کے چپ رہنے سے دل کو وہم ضرور رہا ہم ایسے ناکام وفا کے غول میں آکر بیٹھے ہو دنیا کی تقدیر بدلنا جن کا اک دستور رہا حسن کی شرط وفا جو ٹھہری تیشہ و سنگ گراں کی بات ہم ہوں یا فرہاد ہو آخر عاشق تو مزدور رہا وقت کی بات ہے یاد آ جانا لیکن اس کی بات نہ پوچھ یوں تو لاکھوں باتیں نکلیں تیرا ہی مذکور رہا اے میرے خورشید شبی کیا وہم طلوع و غروب تجھے ایک تری گردش ایسی تھی خانۂ دل بے نور رہا عشق بھی مہر بہ لب گزرا ہے دنیا کی کیا جرأت تھی اس کی نیچی نظروں میں بھی ایسا سخت غرور رہا ہم سے اس کا ربط جنوں تھا ایک ہنسی کی بات سی تھی ہم کو آخر کیوں یہ خبط سعیٔ نا مشکور رہا صبح سے چلتے چلتے آخر شام ہوئی آوارۂ دل اب میں کس منزل میں پہنچا اب گھر کتنی دور رہا

غزل · Ghazal

taaza havaa bahaar ki dil kaa malaal le gai

تازہ ہوا بہار کی دل کا ملال لے گئی پائے جنوں سے حلقۂ گردش حال لے گئی جرأت شوق کے سوا خلوتیان خاص کو اک ترے غم کی آگہی تا بہ سوال لے گئی شعلۂ دل بجھا بجھا خاک زباں اڑی اڑی دشت ہزار دام سے موج خیال لے گئی رات کی رات بوئے گل کوزۂ گل میں بس گئی رنگ ہزار مے کدہ روح سفال لے گئی تیز ہوا کی چاپ سے تیرہ بنوں میں لو اٹھی روح تغیر جہاں آگ سے فال لے گئی نافۂ آہوئے تتار زخم نمود کا شکار دشت سے زندگی کی رو ایک مثال لے گئی ہجر و وصال و نیک و بد گردش صد ہزار و صد تجھ کو کہاں کہاں مرے سرو کمال لے گئی نرم ہوا پہ یوں کھلے کچھ ترے پیرہن کے راز سب ترے جسم ناز کے راز وصال لے گئی ماتم مرگ قیس کی کس سے بنے گی داستاں نوحۂ بے زباں کوئی چشم غزال لے گئی

غزل · Ghazal

gul kaa vo rukh bahaar ke aaghaaz se uThaa

گل کا وہ رخ بہار کے آغاز سے اٹھا شعلہ سا عندلیب کی آواز سے اٹھا نو دست زخمہ ور نے مٹا دی حد کمال پردے جلے تمام دھواں ساز سے اٹھا جیسے دعائے نیم شبی کا سرود ہو اک شور میکدے میں اس انداز سے اٹھا محضر لیے جنوں میں سوال و جواب کا پردہ سا ایک دیدۂ غماز سے اٹھا باقی ابھی ہے تنگی و وسعت میں ایک فرق اس کو بھی جنبش لب اعجاز سے اٹھا وہ شخص تھا مرقع معنی کی ایک ضد رنگ ہزار حسن جنوں ساز سے اٹھا کانٹے زمیں سے اور زیادہ ہوئے طلوع اک مسئلہ بہار کے آغاز سے اٹھا بنتی متاع کشف تو کیا آئنے کی چھوٹ لذت ہی کچھ اشارۂ ہم راز سے اٹھا یا رب تو لاج رکھ مرے شوق فضول کی دنیا ہے نیند میں مری آواز سے اٹھا اک منظر کنارۂ بام اور دے گیا پرتو سا کوئی اس کے در باز سے اٹھا میں کیا کہ میرے بعد بھی جو لوگ واں گئے کوئی نہ اس کی انجمن ناز سے اٹھا مدنیؔ قفس میں صبح ہوئی اور اس کے بعد دل سے دھواں بھی حسرت پرواز سے اٹھا

غزل · Ghazal

naavak-e-taaza dil par maaraa jang puraani jaari ki

ناوک تازہ دل پر مارا جنگ پرانی جاری کی آج ہوا نے زخم کہن میں ڈوب کے تازہ کاری کی جس کیاری میں پھول کھلے تھے ناگ پھنی سی لگتی ہے موسم گل نے جاتے جاتے دیکھا کیا دشواری کی ایک طرف روئے جاناں تھا جلتی آنکھ میں ایک طرف سیاروں کی راکھ میں ملتی رات تھی اک بے داری کی کوئے بیاں کی ویرانی سے میرا بھی جی بیٹھ گیا منہ موڑے آواز کھڑی ہے ساز راہ سپاری کی

غزل · Ghazal

kyaa hue baad-e-bayaabaan ke pukaare hue log

کیا ہوئے باد بیاباں کے پکارے ہوئے لوگ چاک در چاک گریباں کو سنوارے ہوئے لوگ خوں ہوا دل کہ پشیمان صداقت ہے وفا خوش ہوا جی کہ چلو آج تمہارے ہوئے لوگ یہ بھی کیا رنگ ہے اے نرگس خواب آلودہ شہر میں سب ترے جادو کے ہیں مارے ہوئے لوگ خط معزولئ ارباب ستم کھینچ گئے یہ رسن بستہ صلیبوں سے اتارے ہوئے لوگ وقت ہی وہ خط فاصل ہے کہ اے ہم نفسو دور ہے موج بلا اور کنارے ہوئے لوگ اے حریفان غم گردش ایام آؤ ایک ہی غول کے ہم لوگ ہیں ہارے ہوئے لوگ ان کو اے نرم ہوا خواب جنوں سے نہ جگا رات مے خانے کی آئے ہیں گزارے ہوئے لوگ

Similar Poets