SHAWORDS
Azra Parveen

Azra Parveen

Azra Parveen

Azra Parveen

poet
5Sher
5Shayari
8Ghazal

Sherشعر

Popular Sher & Shayari

10 total

Ghazalغزل

See all 8
غزل · Ghazal

ab apni chikh bhi kyaa apni be zabaani kyaa

اب اپنی چیخ بھی کیا اپنی بے زبانی کیا محض اسیروں کی محصور زندگانی کیا رتیں جو تو نے اتاری ہیں خوب ہوں گی مگر ببول سیج پہ سجتی ہے گل فشانی کیا ہے جسم ایک تضادات کے کئی خانے کرے گا پر انہیں اک رنگ آسمانی کیا ہزار کروٹیں جھنکار ہی سناتی ہیں یوں جھٹپٹانے سے زنجیر ہوگی پانی کیا زمیں کے اور تقاضے فلک کچھ اور کہے قلم بھی چپ ہے کہ اب موڑ لے کہانی کیا انا تو قید کی تشہیر سے گریزاں تھی پکار اٹھی مگر میری بے زبانی کیا میں خشک نخل سی جنگل طویل تیز ہوا بکھیر دے گی مجھے بھی یہ بے مکانی کیا

غزل · Ghazal

ab aankh bhi mashshaaq hui zer-o-zabar ki

اب آنکھ بھی مشاق ہوئی زیر و زبر کی خواہش تو تری گھاٹ کی رہ پائی نہ گھر کی رنگ اپنے جو تھے بھر بھی کہاں پائے کبھی ہم ہم نے تو سدا رد عمل میں ہی بسر کی جب صرف ترے گل میں مرا حصہ نظر ہے پھر سوچ ہے کیا درد یہ تاخیر نظر کی یہ کوفے کی گلیاں ہیں کہ یہ میری رگیں بھی ہر سمت سے چبھتی ہے انی مجھ کو شمر کی

غزل · Ghazal

simaT gai to shabnam phuul sitaara thi

سمٹ گئی تو شبنم پھول ستارہ تھی بپھر کے میری لہر لہر انگارہ تھی کل تری خواہش کب اتنی بنجاری تھی تو سرتاپا آنکھ تھا میں نظارہ تھی میں کہ جنوں کے پروں پہ اڑتی خوشبو تھی رنگ رنگ کے آکار میں ڈھلتا پارہ تھی میں دھرتی ہوں اسے یہی بس یاد رہا بھول گیا میں اور بھی اک سیارہ تھی تو ہی تو اذن تھا تو ہی انجام ہوا ترا بچھڑنا اور میں پارہ پارہ تھی

غزل · Ghazal

behr-e-charaagh khud ko jalaane vaali main

بہر چراغ خود کو جلانے والی میں دھوئیں میں اپنے کرب چھپانے والی میں ہریالی درکار اڑانیں بھی پیاری کدھر چلی میں کدھر تھی جانے والی میں دھنک رتوں کے جال بچھانے والا تو الجھ کے اپنا آپ گنوانے والی میں میری چپ کا جشن منانے والا تو تلواروں سے کاٹ چرانے والی میں پونجی سن کر سمٹ نہ پانے والا تو سکہ سکہ تجھے چرانے والی میں

غزل · Ghazal

be-khudaa hone ke Dar mein be-sabab rotaa rahaa

بے خدا ہونے کے ڈر میں بے سبب روتا رہا دل کے چوتھے آسماں پر کون شب روتا رہا کیا عجب آواز تھی سوتے شکاری جاگ اٹھے پر وہ اک گھائل پرندہ جاں بہ لب روتا رہا جاتے جاتے پھر دسمبر نے کہا کچھ مانگ لے خالی آنکھوں سے مگر دل بے طلب روتا رہا میں نے پھر اپریل کے ہاتھوں سے دل کو چھو لیا اور دل سایوں سے لپٹا ساری شب روتا رہا اس نے میرے نام سورج چاند تارے لکھ دیا میرا دل مٹی پہ رکھ اپنے لب روتا رہا

غزل · Ghazal

miri khud se mohabbat baDh gai hai

مری خود سے محبت بڑھ گئی ہے بہت پنجرے سے وحشت بڑھ گئی ہے ہیں میرے خواب سارے موم کے بت مرے سورج تمازت بڑھ گئی ہے ہمارے بیچ بیداری ہی غم تھی بس اب نیندوں کی حاجت بڑھ گئی ہے یہ کیا بازار کیسے لوگ یوسف ادھر کیوں تیری رغبت بڑھ گئی ہے سنائی دیتا ہے سب ان کہا بھی تری دھن میں سماعت بڑھ گئی ہے کبھی نیندوں سے میں وحشت زدہ تھی پر اب خوابوں سے راحت بڑھ گئی ہے میں بچنا چاہتی ہوں اپنی جاں سے مری مجھ سے محبت بڑھ گئی ہے نشہ سورج کو ہو جائے تو کیا ہو مری حیرت پہ حیرت بڑھ گئی ہے

Similar Poets