SHAWORDS
Azra Waheed

Azra Waheed

Azra Waheed

Azra Waheed

poet
8Sher
8Shayari
9Ghazal

Sherشعر

See all 8

Popular Sher & Shayari

16 total

Ghazalغزل

See all 9
غزل · Ghazal

havaa ke lab pe nae intisaab se kuchh hain

ہوا کے لب پہ نئے انتساب سے کچھ ہیں کہ شاخ وصل پہ تازہ گلاب سے کچھ ہیں یہ پل کا قصہ ہے صدیوں پہ جو محیط رہا بر آب ساعت گزراں حباب سے کچھ ہیں ہجوم ہم کو سر آنکھوں پہ کیوں بٹھائے رہا دل و نظر پہ ہمارے عذاب سے کچھ ہیں لہو رلاتے ہیں اور پھر بھی یاد آتے ہیں محبتوں کے پرانے نصاب سے کچھ ہیں اترتے رہتے ہیں آنکھوں کے آئنوں پہ سدا کتاب خستہ میں گم گشتہ باب سے کچھ ہیں سوائے تشنگی کچھ اور دے سکے نہ ہمیں جو زیر آب چمکتے سراب سے کچھ ہیں مدام ان کو چمکنا بغیر خوف فنا یہ آسمان پہ جو بے حساب سے کچھ ہیں

غزل · Ghazal

par saubat raaston ki garmiyaan bhi de gayaa

پر صعوبت راستوں کی گرمیاں بھی دے گیا آنے والی چھاؤں کی خوش فہمیاں بھی دے گیا سخت بیجوں سے سنہری بالیاں بھی بھر گئیں گرم جھونکا موسموں کی سختیاں بھی دے گیا بادلوں کی آس اس کے ساتھ ہی رخصت ہوئی شہر کو وہ آگ کی بے رحمیاں بھی دے گیا احتساب اس کا عمل تھا اس سے وہ فارغ ہوا وقت سڑکوں کو لٹی شہزادیاں بھی دے گیا بے بسی اور بھوک میں جو حوصلے دیتا رہا پیار کرنے کی مجھے کمزوریاں بھی دے گیا ٹہنیاں پھولوں سے لد کر رب کے آگے جھک گئیں موسم گل جاتے جاتے تتلیاں بھی دے گیا آسماں نے ماں زمیں کی گود تو بھر دی مگر دے کے بیٹے ان کو کچھ نا سمجھیاں بھی دے گیا

غزل · Ghazal

taarik ujaalon mein be-khvaab nahin rahnaa

تاریک اجالوں میں بے خواب نہیں رہنا اس زیست کے دریا کو پایاب نہیں رہنا سرسبز جزیروں کی ابھرے گی شباہت بھی اس زیست سمندر کو بے آب نہیں رہنا اس ہجر مسلسل کی عادت بھی کبھی ہوگی ہونٹوں پہ صدا غم کا زہراب نہیں رہنا چھن چھن کے بہے گا دن بادل کی رداؤں سے سورج کی شعاعوں کو نایاب نہیں رہنا اس رات کے ماتھے پر ابھریں گے ستارے بھی یہ خوف اندھیروں کا شاداب نہیں رہنا

غزل · Ghazal

ghubaar-e-jaan pas-e-divaar-o-dar sameTaa hai

غبار جاں پس دیوار و در سمیٹا ہے دیار سنگ میں شیشے کا گھر سمیٹا ہے سمندروں میں بھی سورج نے بو دیئے ہیں سراب گئے تھے سیپ اٹھانے بھنور سمیٹا ہے صعوبتوں کی کوئی حد نہ آخری دیکھی ہر ایک راہ میں زاد سفر سمیٹا ہے محبتوں نے دیا ہے صداقتوں کا شعور بکھر گیا ہے جب اک بار گھر سمیٹا ہے ہوا کے ساتھ سفر میں قباحتیں تھیں بہت مثال ابر بکھرتا نگر سمیٹا ہے اندھیری رات میں سورج کی جستجو کی ہے ہواؤں میں بھی چراغ نظر سمیٹا ہے جو شاخ شاخ پرندوں کا آشیانہ تھا وہ برگ برگ پرانا شجر سمیٹا ہے نمو کے رب کبھی اس منصفی کی داد تو دے شجر کوئی نہ لگایا ثمر سمیٹا ہے

غزل · Ghazal

safar andar kaa mushkil aur be-aavaaz hotaa hai

سفر اندر کا مشکل اور بے آواز ہوتا ہے پرندہ بے دلی سے عازم پرواز ہوتا ہے میں نغموں کی اٹھانوں میں تلاشوں جھلکیاں اس کی وہ جب ہوتا ہے آواز شکست ساز ہوتا ہے میں آنے والے سب لمحوں پہ لکھوں ہجر کے منظر وہ ہر گزرے زمانے میں مرا دم ساز ہوتا ہے ہوا جب سرسراتی ہے گھنے پیپل کے پیڑوں میں بڑے اونچے پہاڑوں پر کوئی در باز ہوتا ہے میں جب پلکوں سے چنتی ہوں گئے لمحوں کے ریزوں کو سنہرے آسمانوں میں کوئی ہم راز ہوتا ہے

غزل · Ghazal

gire qatron mein patthar par sadaa aisaa bhi hotaa hai

گرے قطروں میں پتھر پر صدا ایسا بھی ہوتا ہے بھلا ہو کر بھلا نام خدا ایسا بھی ہوتا ہے دلوں میں تلخیاں پھر بھی نظر میں مسکراہٹ ہو بلا کے حبس میں بھی ہو ہوا ایسا بھی ہوتا ہے میں خود سے اجنبی ہو کر قبائے خوش دلی پہنوں مرے اندر رہے کوئی چھپا ایسا بھی ہوتا ہے کنار آب دجلہ دھوپ تپتی ہو قیامت کی ہر اک ذرہ بنے کرب و بلا ایسا بھی ہوتا ہے کبھی تنہائیوں میں خود کلامی اور پھر ہنسنا مجھے راس آئے یہ آب و ہوا ایسا بھی ہوتا ہے سبھی پڑھ کر پھر اپنی راہ ہو لیتے ہیں بستی میں سر دیوار کچھ مبہم لکھا ایسا بھی ہوتا ہے بچا لوں نوح کے بیڑے کو طوفانوں کی شدت سے بڑھا بہر مدد خود کبریا ایسا بھی ہوتا ہے

Similar Poets