"us raat ke mathe par ubhrenge sitare bhi ye khauf andheron ka shadab nahin rahna"

Azra Waheed
Azra Waheed
Azra Waheed
Sherشعر
See all 8 →us raat ke mathe par ubhrenge sitare bhi
اس رات کے ماتھے پر ابھریں گے ستارے بھی یہ خوف اندھیروں کا شاداب نہیں رہنا
main kaun huun ki hai sab kanch ka vajud mira
میں کون ہوں کہ ہے سب کانچ کا وجود مرا مرا لباس بھی میلا دکھائی دیتا ہے
badalon ki aas us ke saath hi rukhsat hui
بادلوں کی آس اس کے ساتھ ہی رخصت ہوئی شہر کو وہ آگ کی بے رحمیاں بھی دے گیا
numu ke rab kabhi us munsifi ki daad to de
نمو کے رب کبھی اس منصفی کی داد تو دے شجر کوئی نہ لگایا ثمر سمیٹا ہے
dilon men talkhiyan phir bhi nazar men muskurahaT ho
دلوں میں تلخیاں پھر بھی نظر میں مسکراہٹ ہو بلا کے حبس میں بھی ہو ہوا ایسا بھی ہوتا ہے
agahi ne diye ib.ham ke dhoke kya kya
آگہی نے دیئے ابہام کے دھوکے کیا کیا شرح الفاظ جو لکھی تو اشارے لکھے
Popular Sher & Shayari
16 total"main kaun huun ki hai sab kanch ka vajud mira mira libas bhi maila dikha.i deta hai"
"badalon ki aas us ke saath hi rukhsat hui shahr ko vo aag ki be-rahmiyan bhi de gaya"
"numu ke rab kabhi us munsifi ki daad to de shajar koi na lagaya samar sameTa hai"
"dilon men talkhiyan phir bhi nazar men muskurahaT ho bala ke habs men bhi ho hava aisa bhi hota hai"
"agahi ne diye ib.ham ke dhoke kya kya sharh-e-alfaz jo likkhi to ishare likkhe"
dilon mein talkhiyaan phir bhi nazar mein muskuraahaT ho
balaa ke habs mein bhi ho havaa aisaa bhi hotaa hai
aagahi ne diye ibhaam ke dhoke kyaa kyaa
sharh-e-alfaaz jo likkhi to ishaare likkhe
tujh ko paaein tujhe kho baiThein phir
zindagi ek thi Dar kitne the
lahu rulaate hain aur phir bhi yaad aate hain
mohabbaton ke puraane nisaab se kuchh hain
main kaun huun ki hai sab kaanch kaa vajud miraa
miraa libaas bhi mailaa dikhaai detaa hai
baadalon ki aas us ke saath hi rukhsat hui
shahr ko vo aag ki be-rahmiyaan bhi de gayaa
Ghazalغزل
havaa ke lab pe nae intisaab se kuchh hain
ہوا کے لب پہ نئے انتساب سے کچھ ہیں کہ شاخ وصل پہ تازہ گلاب سے کچھ ہیں یہ پل کا قصہ ہے صدیوں پہ جو محیط رہا بر آب ساعت گزراں حباب سے کچھ ہیں ہجوم ہم کو سر آنکھوں پہ کیوں بٹھائے رہا دل و نظر پہ ہمارے عذاب سے کچھ ہیں لہو رلاتے ہیں اور پھر بھی یاد آتے ہیں محبتوں کے پرانے نصاب سے کچھ ہیں اترتے رہتے ہیں آنکھوں کے آئنوں پہ سدا کتاب خستہ میں گم گشتہ باب سے کچھ ہیں سوائے تشنگی کچھ اور دے سکے نہ ہمیں جو زیر آب چمکتے سراب سے کچھ ہیں مدام ان کو چمکنا بغیر خوف فنا یہ آسمان پہ جو بے حساب سے کچھ ہیں
par saubat raaston ki garmiyaan bhi de gayaa
پر صعوبت راستوں کی گرمیاں بھی دے گیا آنے والی چھاؤں کی خوش فہمیاں بھی دے گیا سخت بیجوں سے سنہری بالیاں بھی بھر گئیں گرم جھونکا موسموں کی سختیاں بھی دے گیا بادلوں کی آس اس کے ساتھ ہی رخصت ہوئی شہر کو وہ آگ کی بے رحمیاں بھی دے گیا احتساب اس کا عمل تھا اس سے وہ فارغ ہوا وقت سڑکوں کو لٹی شہزادیاں بھی دے گیا بے بسی اور بھوک میں جو حوصلے دیتا رہا پیار کرنے کی مجھے کمزوریاں بھی دے گیا ٹہنیاں پھولوں سے لد کر رب کے آگے جھک گئیں موسم گل جاتے جاتے تتلیاں بھی دے گیا آسماں نے ماں زمیں کی گود تو بھر دی مگر دے کے بیٹے ان کو کچھ نا سمجھیاں بھی دے گیا
taarik ujaalon mein be-khvaab nahin rahnaa
تاریک اجالوں میں بے خواب نہیں رہنا اس زیست کے دریا کو پایاب نہیں رہنا سرسبز جزیروں کی ابھرے گی شباہت بھی اس زیست سمندر کو بے آب نہیں رہنا اس ہجر مسلسل کی عادت بھی کبھی ہوگی ہونٹوں پہ صدا غم کا زہراب نہیں رہنا چھن چھن کے بہے گا دن بادل کی رداؤں سے سورج کی شعاعوں کو نایاب نہیں رہنا اس رات کے ماتھے پر ابھریں گے ستارے بھی یہ خوف اندھیروں کا شاداب نہیں رہنا
ghubaar-e-jaan pas-e-divaar-o-dar sameTaa hai
غبار جاں پس دیوار و در سمیٹا ہے دیار سنگ میں شیشے کا گھر سمیٹا ہے سمندروں میں بھی سورج نے بو دیئے ہیں سراب گئے تھے سیپ اٹھانے بھنور سمیٹا ہے صعوبتوں کی کوئی حد نہ آخری دیکھی ہر ایک راہ میں زاد سفر سمیٹا ہے محبتوں نے دیا ہے صداقتوں کا شعور بکھر گیا ہے جب اک بار گھر سمیٹا ہے ہوا کے ساتھ سفر میں قباحتیں تھیں بہت مثال ابر بکھرتا نگر سمیٹا ہے اندھیری رات میں سورج کی جستجو کی ہے ہواؤں میں بھی چراغ نظر سمیٹا ہے جو شاخ شاخ پرندوں کا آشیانہ تھا وہ برگ برگ پرانا شجر سمیٹا ہے نمو کے رب کبھی اس منصفی کی داد تو دے شجر کوئی نہ لگایا ثمر سمیٹا ہے
safar andar kaa mushkil aur be-aavaaz hotaa hai
سفر اندر کا مشکل اور بے آواز ہوتا ہے پرندہ بے دلی سے عازم پرواز ہوتا ہے میں نغموں کی اٹھانوں میں تلاشوں جھلکیاں اس کی وہ جب ہوتا ہے آواز شکست ساز ہوتا ہے میں آنے والے سب لمحوں پہ لکھوں ہجر کے منظر وہ ہر گزرے زمانے میں مرا دم ساز ہوتا ہے ہوا جب سرسراتی ہے گھنے پیپل کے پیڑوں میں بڑے اونچے پہاڑوں پر کوئی در باز ہوتا ہے میں جب پلکوں سے چنتی ہوں گئے لمحوں کے ریزوں کو سنہرے آسمانوں میں کوئی ہم راز ہوتا ہے
gire qatron mein patthar par sadaa aisaa bhi hotaa hai
گرے قطروں میں پتھر پر صدا ایسا بھی ہوتا ہے بھلا ہو کر بھلا نام خدا ایسا بھی ہوتا ہے دلوں میں تلخیاں پھر بھی نظر میں مسکراہٹ ہو بلا کے حبس میں بھی ہو ہوا ایسا بھی ہوتا ہے میں خود سے اجنبی ہو کر قبائے خوش دلی پہنوں مرے اندر رہے کوئی چھپا ایسا بھی ہوتا ہے کنار آب دجلہ دھوپ تپتی ہو قیامت کی ہر اک ذرہ بنے کرب و بلا ایسا بھی ہوتا ہے کبھی تنہائیوں میں خود کلامی اور پھر ہنسنا مجھے راس آئے یہ آب و ہوا ایسا بھی ہوتا ہے سبھی پڑھ کر پھر اپنی راہ ہو لیتے ہیں بستی میں سر دیوار کچھ مبہم لکھا ایسا بھی ہوتا ہے بچا لوں نوح کے بیڑے کو طوفانوں کی شدت سے بڑھا بہر مدد خود کبریا ایسا بھی ہوتا ہے





