SHAWORDS
B

Baqaullah 'Baqa'

Baqaullah 'Baqa'

Baqaullah 'Baqa'

poet
23Shayari
29Ghazal

Popular Shayari

23 total

Ghazalغزل

See all 29
غزل · Ghazal

دست ناصح جو مرے جیب کو اس بار لگا پھاڑوں ایسا کہ پھر اس میں نہ رہے تار لگا پہنچی اس بت کو خبر نالۂ تنہائی کی مدعی کون کھڑا تھا سر دیوار لگا مرض عشق تمہارا تو یہ طوفاں ہے کہ میں جس سے مذکور کیا اس کو یہ آزار لگا جس کا ملاح بنا عشق وہ کشتی ڈوبی اس کے کھیوے سے تو بیڑا نہ کوئی پار لگا مرغ زیرک تھے تہ دام نہ آئے ہرگز اڑ گئے ہم سر صیاد پہ منقار لگا درد یہ دل میں اٹھا رات کہ ہو گرم تپش اڑ گیا سونے فلک میں پر‌ احرار لگا پردۂ خاک سے دی مجھ کو کسی نے آواز گور ہموار تھی سننے جو میں یکبار لگا پھر تو غفلت زدہ تا خواب عدم ہے یاں تو دیکھ لے ہم کو نہ ٹک دیدۂ بے دار لگا جب میں دیکھوں ہوں تو کثرت ہے خریداروں کی گھر میں اس غیرت یوسف کے ہے بازار لگا کھینچ پیچھے کو قدم آہ میں یاں تک رویا کہ مرے آگے بقاؔ در کا اک انبار لگا

dast-e-naaseh jo mire jeb ko is baar lagaa

غزل · Ghazal

جب میرے دل جگر کی طلسمیں بنائیاں لبریز آب اشک کیں آنکھوں کی کھائیاں دست حنا سے پھوٹ بہا آخرش کو خوں کیں پنجہ کر کے تجھ سے جو زور آزمائیاں اس آنکھ سے جب آنکھ ملائی تو بحر نے چشم صدف میں موج کی پھیریں سلائیاں کس فتنۂ زمیں سے یہ رہتا ہے شب دو چار اڑتیں ہیں آسماں کے جو منہ پر ہوائیاں اس شمع رو نے اپنے شہیدوں کی جوں پتنگ گڑنے نہ دیں زمین میں لاشیں جلائیاں اس قند لب کی دید سے ان پتلیوں کو مور کھاویں گے زیر خاک سمجھ کر خطائیاں تڑپے بہت پہ جانب صیاد آخرش قلاب عشق کی کششیں ہم کو لائیاں تب صورتیں جو پیش نظر تھیں سو مثل اشک یوں گم ہوئیں زمیں میں کہ ڈھونڈھے نہ پائیاں پا کر شفا بنفشۂ خط سے وہ انکھڑیاں صحت کے دن بھی خون سے میرے نہائیاں مانا نہ ترک چشم نے آخر کیا ہی قتل ہر چند دل نے دیں ترے لب کی دہائیاں دیکھیں بقاؔ کہ ہجر کے آئے پہ کیا بنے اپنے تو ہوش اڑ گئے سن سن ادائیاں

jab mere dil jigar ki tilismein banaaiyaan

غزل · Ghazal

یہ رخ یار نہیں زلف پریشاں کے تلے ہے نہاں صبح وطن شام غریباں کے تلے کیا کریں سینہ جو ناصح سے چھپاتے نہ پھریں داغ سے داغ ہیں کچھ اپنے گریباں کے تلے آہ کی برق جو سینے میں چمکتی دیکھی طفل اشک آ ہی چھپے دامن مژگاں کے تلے دل میں آتا ہے کروں اے گل خنداں تجھ بن بیٹھ کر گریہ کسی نخل گلستاں کے تلے یوں نہاں داغ جگر آہ سے رکھتا ہوں کہ جوں باد سے شمع چھپاوے کوئی داماں کے تلے شیخ ڈرتا ہوں کہیں بیٹھ نہ جاوے یہ کنواں مت کھڑا ہو تو عصا رکھ کے زنخداں کے تلے نہیں ملنے کی بقاؔ ہم کو بجز کنج مزار جائے آسودگی اس گنبد گرداں کے تلے

ye rukh-e-yaar nahin zulf-e-pareshaan ke tale

غزل · Ghazal

سیکھا جو قلم سے نئے خالی کا بجانا کر نغمہ بقاؔ فکرت عالی کا بجانا تسمہ مرے مت دل پہ دوالی کا بجانا یہ لٹ جو ہے چابک اسی کالی کا بجانا مارا کیے مطرب بہ چگاں دل پہ تھپیڑے سیکھے اسی طبلے پہ وہ تالی کا بجانا الفت میں تری اے بت بے مہر و محبت آیا ہمیں اک ہاتھ سے تالی کا بجانا لے مول مرے دل کا وہ جب ساغر نازک یاد آوے نہ کاش اس کو سفالی کا بجانا اس نالۂ بے صوت نے حیرت میں سکھایا ساز اب مجھے تصویر نہالی کا بجانا بس اے غم غماز مری آہ جگر سے لعنت ہے ترا بام پہ تھالی کا بجانا بے ساقیٔ و مے سوچ میں ہے کام ہمارا بیٹھے سر‌ ناخن سے پیالی کا بجانا اس کودک بے ہوش کا آفت ہے شب اٹھ کر ٹھیکوں پہ مری آہ کے تالی کا بجانا سنتا ہوں کسی پوچ کی جب دف زنیٔ فکر آتا ہے مجھے یاد ڈفالی کا بجانا کرتا ہے بقاؔ نالہ تو کر جھانج میں دل سے بے جھانج ہے کیا اس دف خالی کا بجانا

sikhaa jo qalam se na-e-khaali kaa bajaanaa

غزل · Ghazal

تھے ہم استادہ ترے در پہ ولے بیٹھ گئے تو نے چاہا تھا کہ ٹالے نہ ٹلے بیٹھ گئے بزم میں شیخ جی اب ہے کہ ہے یاں عیب نہیں فرش پر گر نہ ملی جا تو تلے بیٹھ گئے غیر بد وضع ہیں محفل سے شتاب ان کی اٹھو پاس ایسوں کے تم اے جان بھلے بیٹھ گئے گھر سے نکلا نہ تو اور منتظروں نے تیرے در پہ نالے کیے یاں تک کہ گلے بیٹھ گئے ناتواں ہم ہوئے یاں تک کہ تری محفل تک گھر سے آتے ہوئے سو بار چلے بیٹھ گئے اشک اور آہ کی شدت نہ تھمی گرچہ بقاؔ گھر کے گھر اس میں ہزاروں کے جلے بیٹھ گئے

the ham istaada tire dar pe vale baiTh gae

غزل · Ghazal

رہ رواں کہتے ہیں جس کو جرس محمل ہے محنت‌ راہ سے نالاں وہ ہمارا دل ہے موج سے بیش نہیں ہستیٔ وہمی کی نمود صفحۂ دہر پہ گویا یہ خط باطل ہے کچھ تعین نہیں اس راہ میں جوں ریگ رواں جس جگہ بیٹھ گئے اپنی وہی منزل ہے آستیں حشر کے دن خون سے تر ہو جس کی یہ یقیں جانیو اس کو کہ مرا قاتل ہے کھول دو عقدۂ کونین بقاؔ کے پل میں یا علیؑ تم کو یہ آساں ہے اسے مشکل ہے

rah-ravaan kahte hain jis ko jaras-e-mahmil hai

Similar Poets