SHAWORDS
Ehsan Danish Kandhlvi

Ehsan Danish Kandhlvi

Ehsan Danish Kandhlvi

Ehsan Danish Kandhlvi

poet
42Sher
42Shayari
60Ghazal

Sherشعر

See all 42

Popular Sher & Shayari

84 total

Ghazalغزل

See all 60
غزل · Ghazal

izhaar-e-sadaaqat mein asar kyon nahin hotaa

اظہار صداقت میں اثر کیوں نہیں ہوتا اب میری طرف ان کا گزر کیوں نہیں ہوتا خوشبو کا یہ بکھراؤ بھی توہین چمن ہے احساس تجھے باد سحر کیوں نہیں ہوتا کیوں فکر سے محروم ہیں اس دور کی نسلیں پہلا سا زبانوں میں اثر کیوں نہیں ہوتا جو بات ادھر ہے وہ ادھر کیوں نہیں جاتی جو کرب ادھر ہے وہ ادھر کیوں نہیں ہوتا اس شہر زبوں حال میں تخریب کا احساس ہونا تو ضروری ہے مگر کیوں نہیں ہوتا فنکار اسی کشمکش وقت میں گم ہیں بازار خریدار ہنر کیوں نہیں ہوتا اللہ کو کرتے ہیں مصیبت میں سبھی یاد یہ ورد مگر شام و سحر کیوں نہیں ہوتا خودبیں ہیں سبھی اور یہ بتانے سے ہیں معذور آئینے سے نقصان نظر کیوں نہیں ہوتا پیشانیٔ کہسار پہ سورج کا ہے میلاد وادی میں مگر شور سحر کیوں نہیں ہوتا ہو جس کے پیمبر کا گزر عرش بریں پر امت کا ستاروں میں سفر کیوں نہیں ہوتا حیراں ہوں کہ اقبالؔ کی تعلیم کا دانشؔ اس شہر کے لوگوں پہ اثر کیوں نہیں ہوتا

غزل · Ghazal

hausle maayus zauq-e-justuju naakaam hai

حوصلے مایوس ذوق جستجو ناکام ہے یہ دل‌ نا محرم انجام کا انجام ہے آنکھ کیا ہے حسن کی رنگینیوں کا آئنہ دل ہے کیا خون تمنا کا چھلکتا جام ہے دیجیے بیمار‌ الفت کی جگر داری کی داد نزع کا عالم ہے ہونٹوں پر تمہارا نام ہے پھر وہ یاد آئے ہوئی مدہوش دل کی کائنات پھر اٹھا درد جگر پھر کچھ مجھے آرام ہے خاکدان دہر میں تسکین کا جویا نہ ہو آہ جب تک دل دھڑکتا ہے کہاں آرام ہے وہ تو دل میں درد کی دنیا بسا کر چل دئے مجھ کو ہر تار نفس اک موت کا پیغام ہے واصل مضراب خاموشی ہے ہر تار نفس اس سے کہہ دو اب ترے بیمار کو آرام ہے کر رہا ہوں دوستوں کے زعم پر ترک وطن شاید اب آغاز دور گردش ایام ہے

غزل · Ghazal

tiraa jamaal tiraa husn kaamgaar rahe

ترا جمال ترا حسن کامگار رہے وہ کیا کرے نہ جسے دل پہ اختیار رہے ہزار کثرت رعنا نے چلمنیں ڈالیں بہر حجاب تعین وہ آشکار رہے مری نظر کا تو کیا ذکر خود بہار کے پھول فریب خوردۂ رنگینیٔ بہار رہے کسی مقام پہ دل کو سکوں ہو کیا معنی جو بے قرار ازل ہے وہ بے قرار رہے اسی نواح میں اہل نظر بھی ممکن ہیں کچھ اور دیر سر طور انتظار رہے تمام پھول تھے اور ظرف دامن گلچیں جو بچ گئے وہ چراغ‌ شب بہار رہے مری نگاہ میں ہے وہ حریم‌‌ زیبائی کنیز بن کے جہاں مریم بہار رہے خزاں خزاں ہو تو دور بہار کیا معنی بہار ہو تو خزاں کیوں بنے بہار رہے جہان حسن کے اسرار پا نہیں سکتا جو عشق اپنی حدوں تک ہی بے قرار رہے مری نظر سے وہ جلوے نہ رہ سکے مستور جو زیر پردۂ پیراہن بہار رہے چھڑا چکا ہوں میں دست مجاز سے دامن حقیقت اپنے حجابوں سے ہوشیار رہے میں موڑتا ہوں اسی رخ سے کارواں اپنا کچھ اور دیر افق پر ابھی غبار رہے جنون شوق میں تحقیق رنگ و بو کیسی رہے چمن میں تو دیوانۂ بہار رہے ہیں اس طرح کے ضوابط بھی بے قراری میں کہ تیرے ساتھ زمانہ بھی بے قرار رہے وہ صرف میرے ہیں احسانؔ میں فقط ان کا ہے ناگوار کسی کو تو ناگوار رہے

غزل · Ghazal

yuun us pe miri arz-e-tamannaa kaa asar thaa

یوں اس پہ مری عرض تمنا کا اثر تھا جیسے کوئی سورج کی تپش میں گل تر تھا اٹھتی تھیں دریچوں پہ ہماری بھی نگاہیں اپنا بھی کبھی شہر نگاراں میں گزر تھا ہم جس کے تغافل کی شکایت کو گئے تھے آنکھ اس نے اٹھائی تو جہاں زیر و زبر تھا شانوں پہ کبھی تھے ترے بھیگے ہوئے رخسار آنکھوں پہ کبھی میری طرح دامن تر تھا خوشبو سے معطر ہے ابھی تک وہ گزر گاہ صدیوں سے یہاں جیسے بہاروں کا نگر تھا ہے ان کے سراپا کی طرح خوش قد و خوش رنگ وہ سرو کا پودا جو سر راہ گزر تھا قطرے کی ترائی میں تھے طوفاں کے نشیمن ذرے کے احاطے میں بگولوں کا بھنور تھا اس آدم خاکی پہ ستاروں کی نظر تھی اس خاک پہ کچھ جلوۂ‌ یزداں کا اثر تھا میں رویا تو ہنسنے کی صدا آئی کئی یار وہ جان تمنا پس دیوار‌ نظر تھا دانشؔ تھا اکہرا مرا پیراہن ہستی بے پردہ زمانے پہ مرا عیب و ہنر تھا

غزل · Ghazal

jabin ki dhuul jigar ki jalan chhupaaegaa

جبیں کی دھول جگر کی جلن چھپائے گا شروع عشق ہے وہ فطرتاً چھپائے گا دمک رہا ہے جو نس نس کی تشنگی سے بدن اس آگ کو نہ ترا پیرہن چھپائے گا ترا علاج شفا گاہ عصر نو میں نہیں خرد کے گھاؤ تو دیوانہ پن چھپائے گا حصار ضبط ہے ابر رواں کی پرچھائیں ملال روح کو کب تک بدن چھپائے گا نظر کا فرد عمل سے ہے سلسلہ درکار یقیں نہ کر یہ سیاہی کفن چھپائے گا کسے خبر تھی کہ یہ دور خود غرض اک دن جنوں سے قیمت دار و رسن چھپائے گا ترا غبار زمیں پر اترنے والا ہے کہاں تک اب یہ بگولہ تھکن چھپائے گا کھلے گا باد نفس سے جو رخ پہ نیل کنول اسے کہاں ترا اجلا بدن چھپائے گا ترے کمال کے دھبے ترے عروج کے داغ چھپائے گا تو کوئی اہل فن چھپائے گا جسے ہے فیض مری خانقاہ سے دانشؔ وہ کس طرح مرا رنگ سخن چھپائے گا

غزل · Ghazal

ishq har-chand masaaib se pareshaan na huaa

عشق ہر چند مصائب سے پریشاں نہ ہوا نہ ہوا حسن مگر تابع فرماں نہ ہوا لاکھ دنیا نے یہ چاہا کہ پریشاں ہو مگر میں ترے غم کی حفاظت میں پریشاں نہ ہوا دل کی آواز ہو محروم اثر کیا معنی عشق کافر ہے اگر حسن مسلماں نہ ہوا درپئے عقدۂ ہستی ہے ازل ہی سے بشر لیکن اک خاک کے ذرے کا بھی عرفاں نہ ہوا دل میں ہر خون کا قطرہ ہے تلاطم بکنار جو مگر آنکھ سے ٹپکا وہی طوفاں نہ ہوا تو وہ آزاد کہ بے وجہ ہے مجھ سے بھی گریز میں وہ مجبور کہ دشمن سے بھی نالاں نہ ہوا اپنی پیغام نوائی کے نتائج میں مجھے فکر زنداں تو رہا ہے غم زنداں نہ ہوا جس کے مشرب میں محبت ہو محبت کا جواب میری تقدیر میں ایسا کوئی انساں نہ ہوا ایک ہی جلوے سے احسانؔ نظر ہٹ نہ سکی مجھ سے کچھ اس کے سوا کار نمایاں نہ ہوا

Similar Poets