"'ehsan' aisa talkh javab-e-vafa mila ham is ke baa'd phir koi arman na kar sake"

Ehsan Danish Kandhlvi
Ehsan Danish Kandhlvi
Ehsan Danish Kandhlvi
Sherشعر
See all 42 →'ehsan' aisa talkh javab-e-vafa mila
احسانؔ ایسا تلخ جواب وفا ملا ہم اس کے بعد پھر کوئی ارماں نہ کر سکے
ham haqiqat hain to taslim na karne ka sabab
ہم حقیقت ہیں تو تسلیم نہ کرنے کا سبب ہاں اگر حرف غلط ہیں تو مٹا دو ہم کو
uTTha jo abr dil ki umangen chamak uThin
اٹھا جو ابر دل کی امنگیں چمک اٹھیں لہرائیں بجلیاں تو میں لہرا کے پی گیا
ba-juz us ke 'ehsan' ko kya samajhiye
بجز اس کے احسانؔ کو کیا سمجھئے بہاروں میں کھویا ہوا اک شرابی
avval avval jab mujhe jaur-ashna samjha tha main
اول اول جب مجھے جور آشنا سمجھا تھا میں آج سمجھا ہوں جو سمجھا تھا بجا سمجھا تھا میں
ham chaTanen hain koi ret ke sahil to nahi
ہم چٹانیں ہیں کوئی ریت کے ساحل تو نہیں شوق سے شہر پناہوں میں لگا دو ہم کو
Popular Sher & Shayari
84 total"ham haqiqat hain to taslim na karne ka sabab haan agar harf-e-ghalat hain to miTa do ham ko"
"uTTha jo abr dil ki umangen chamak uThin lahra.in bijliyan to main lahra ke pi gaya"
"ba-juz us ke 'ehsan' ko kya samajhiye baharon men khoya hua ik sharabi"
"avval avval jab mujhe jaur-ashna samjha tha main aaj samjha huun jo samjha tha baja samjha tha main"
"ham chaTanen hain koi ret ke sahil to nahi shauq se shahr-panahon men laga do ham ko"
husn ko duniyaa ki aankhon se na dekh
apni ik tarz-e-nazar ijaad kar
main jis raftaar se tufaan ki jaanib baDhtaa jaataa huun
usi raftaar se nazdik saahil hotaa jaataa hai
ye uDi uDi si rangat ye khule khule se gesu
tiri subh kah rahi hai tiri raat kaa fasaana
zakhm pe zakhm khaa ke ji apne lahu ke ghunT pi
aah na kar labon ko si ishq hai dil-lagi nahin
aaj us ne hans ke yuun puchhaa mizaaj
umr bhar ke ranj-o-gham yaad aa gae
'ehsaan' apnaa koi bure vaqt kaa nahin
ahbaab bevafaa hain khudaa be-niyaaz hai
Ghazalغزل
izhaar-e-sadaaqat mein asar kyon nahin hotaa
اظہار صداقت میں اثر کیوں نہیں ہوتا اب میری طرف ان کا گزر کیوں نہیں ہوتا خوشبو کا یہ بکھراؤ بھی توہین چمن ہے احساس تجھے باد سحر کیوں نہیں ہوتا کیوں فکر سے محروم ہیں اس دور کی نسلیں پہلا سا زبانوں میں اثر کیوں نہیں ہوتا جو بات ادھر ہے وہ ادھر کیوں نہیں جاتی جو کرب ادھر ہے وہ ادھر کیوں نہیں ہوتا اس شہر زبوں حال میں تخریب کا احساس ہونا تو ضروری ہے مگر کیوں نہیں ہوتا فنکار اسی کشمکش وقت میں گم ہیں بازار خریدار ہنر کیوں نہیں ہوتا اللہ کو کرتے ہیں مصیبت میں سبھی یاد یہ ورد مگر شام و سحر کیوں نہیں ہوتا خودبیں ہیں سبھی اور یہ بتانے سے ہیں معذور آئینے سے نقصان نظر کیوں نہیں ہوتا پیشانیٔ کہسار پہ سورج کا ہے میلاد وادی میں مگر شور سحر کیوں نہیں ہوتا ہو جس کے پیمبر کا گزر عرش بریں پر امت کا ستاروں میں سفر کیوں نہیں ہوتا حیراں ہوں کہ اقبالؔ کی تعلیم کا دانشؔ اس شہر کے لوگوں پہ اثر کیوں نہیں ہوتا
hausle maayus zauq-e-justuju naakaam hai
حوصلے مایوس ذوق جستجو ناکام ہے یہ دل نا محرم انجام کا انجام ہے آنکھ کیا ہے حسن کی رنگینیوں کا آئنہ دل ہے کیا خون تمنا کا چھلکتا جام ہے دیجیے بیمار الفت کی جگر داری کی داد نزع کا عالم ہے ہونٹوں پر تمہارا نام ہے پھر وہ یاد آئے ہوئی مدہوش دل کی کائنات پھر اٹھا درد جگر پھر کچھ مجھے آرام ہے خاکدان دہر میں تسکین کا جویا نہ ہو آہ جب تک دل دھڑکتا ہے کہاں آرام ہے وہ تو دل میں درد کی دنیا بسا کر چل دئے مجھ کو ہر تار نفس اک موت کا پیغام ہے واصل مضراب خاموشی ہے ہر تار نفس اس سے کہہ دو اب ترے بیمار کو آرام ہے کر رہا ہوں دوستوں کے زعم پر ترک وطن شاید اب آغاز دور گردش ایام ہے
tiraa jamaal tiraa husn kaamgaar rahe
ترا جمال ترا حسن کامگار رہے وہ کیا کرے نہ جسے دل پہ اختیار رہے ہزار کثرت رعنا نے چلمنیں ڈالیں بہر حجاب تعین وہ آشکار رہے مری نظر کا تو کیا ذکر خود بہار کے پھول فریب خوردۂ رنگینیٔ بہار رہے کسی مقام پہ دل کو سکوں ہو کیا معنی جو بے قرار ازل ہے وہ بے قرار رہے اسی نواح میں اہل نظر بھی ممکن ہیں کچھ اور دیر سر طور انتظار رہے تمام پھول تھے اور ظرف دامن گلچیں جو بچ گئے وہ چراغ شب بہار رہے مری نگاہ میں ہے وہ حریم زیبائی کنیز بن کے جہاں مریم بہار رہے خزاں خزاں ہو تو دور بہار کیا معنی بہار ہو تو خزاں کیوں بنے بہار رہے جہان حسن کے اسرار پا نہیں سکتا جو عشق اپنی حدوں تک ہی بے قرار رہے مری نظر سے وہ جلوے نہ رہ سکے مستور جو زیر پردۂ پیراہن بہار رہے چھڑا چکا ہوں میں دست مجاز سے دامن حقیقت اپنے حجابوں سے ہوشیار رہے میں موڑتا ہوں اسی رخ سے کارواں اپنا کچھ اور دیر افق پر ابھی غبار رہے جنون شوق میں تحقیق رنگ و بو کیسی رہے چمن میں تو دیوانۂ بہار رہے ہیں اس طرح کے ضوابط بھی بے قراری میں کہ تیرے ساتھ زمانہ بھی بے قرار رہے وہ صرف میرے ہیں احسانؔ میں فقط ان کا ہے ناگوار کسی کو تو ناگوار رہے
yuun us pe miri arz-e-tamannaa kaa asar thaa
یوں اس پہ مری عرض تمنا کا اثر تھا جیسے کوئی سورج کی تپش میں گل تر تھا اٹھتی تھیں دریچوں پہ ہماری بھی نگاہیں اپنا بھی کبھی شہر نگاراں میں گزر تھا ہم جس کے تغافل کی شکایت کو گئے تھے آنکھ اس نے اٹھائی تو جہاں زیر و زبر تھا شانوں پہ کبھی تھے ترے بھیگے ہوئے رخسار آنکھوں پہ کبھی میری طرح دامن تر تھا خوشبو سے معطر ہے ابھی تک وہ گزر گاہ صدیوں سے یہاں جیسے بہاروں کا نگر تھا ہے ان کے سراپا کی طرح خوش قد و خوش رنگ وہ سرو کا پودا جو سر راہ گزر تھا قطرے کی ترائی میں تھے طوفاں کے نشیمن ذرے کے احاطے میں بگولوں کا بھنور تھا اس آدم خاکی پہ ستاروں کی نظر تھی اس خاک پہ کچھ جلوۂ یزداں کا اثر تھا میں رویا تو ہنسنے کی صدا آئی کئی یار وہ جان تمنا پس دیوار نظر تھا دانشؔ تھا اکہرا مرا پیراہن ہستی بے پردہ زمانے پہ مرا عیب و ہنر تھا
jabin ki dhuul jigar ki jalan chhupaaegaa
جبیں کی دھول جگر کی جلن چھپائے گا شروع عشق ہے وہ فطرتاً چھپائے گا دمک رہا ہے جو نس نس کی تشنگی سے بدن اس آگ کو نہ ترا پیرہن چھپائے گا ترا علاج شفا گاہ عصر نو میں نہیں خرد کے گھاؤ تو دیوانہ پن چھپائے گا حصار ضبط ہے ابر رواں کی پرچھائیں ملال روح کو کب تک بدن چھپائے گا نظر کا فرد عمل سے ہے سلسلہ درکار یقیں نہ کر یہ سیاہی کفن چھپائے گا کسے خبر تھی کہ یہ دور خود غرض اک دن جنوں سے قیمت دار و رسن چھپائے گا ترا غبار زمیں پر اترنے والا ہے کہاں تک اب یہ بگولہ تھکن چھپائے گا کھلے گا باد نفس سے جو رخ پہ نیل کنول اسے کہاں ترا اجلا بدن چھپائے گا ترے کمال کے دھبے ترے عروج کے داغ چھپائے گا تو کوئی اہل فن چھپائے گا جسے ہے فیض مری خانقاہ سے دانشؔ وہ کس طرح مرا رنگ سخن چھپائے گا
ishq har-chand masaaib se pareshaan na huaa
عشق ہر چند مصائب سے پریشاں نہ ہوا نہ ہوا حسن مگر تابع فرماں نہ ہوا لاکھ دنیا نے یہ چاہا کہ پریشاں ہو مگر میں ترے غم کی حفاظت میں پریشاں نہ ہوا دل کی آواز ہو محروم اثر کیا معنی عشق کافر ہے اگر حسن مسلماں نہ ہوا درپئے عقدۂ ہستی ہے ازل ہی سے بشر لیکن اک خاک کے ذرے کا بھی عرفاں نہ ہوا دل میں ہر خون کا قطرہ ہے تلاطم بکنار جو مگر آنکھ سے ٹپکا وہی طوفاں نہ ہوا تو وہ آزاد کہ بے وجہ ہے مجھ سے بھی گریز میں وہ مجبور کہ دشمن سے بھی نالاں نہ ہوا اپنی پیغام نوائی کے نتائج میں مجھے فکر زنداں تو رہا ہے غم زنداں نہ ہوا جس کے مشرب میں محبت ہو محبت کا جواب میری تقدیر میں ایسا کوئی انساں نہ ہوا ایک ہی جلوے سے احسانؔ نظر ہٹ نہ سکی مجھ سے کچھ اس کے سوا کار نمایاں نہ ہوا





