na baat dil ki sunun main na dil sune meri
ye sard jang hai apne hi ik mushir ke saath

Faheem Jogapuri
Faheem Jogapuri
Faheem Jogapuri
Popular Shayari
16 totalmilan ke baa'd aati hai judaai
narak bhi sovarg se kitnaa nikaT hai
vaaqif kahaan zamaana hamaari uDaan se
vo aur the jo haar gae aasmaan se
rah gai hai kuchh kami to kyaa shikaayat hai 'fahim'
is jahaan mein sab adhure hain mukammal kaun hai
shaam khaamosh hai peDon pe ujaalaa kam hai
lauT aae hain sabhi ek parinda kam hai
teri yaadein ho gaiin jaise muqaddas aayatein
chain aataa hi nahin dil ko tilaavat ke baghair
kitne tufaanon se ham uljhe tujhe maalum kyaa
peD ke dukh-dard kaa phulon se andaaza na kar
band kamre mein tiraa dard na bujh jaae kahin
khiDkiyaan khol ki ye aag havaa chaahti hai
jaaeinge ek roz samundar ki god mein
dariyaa ke saath ret ki tahrir aur ham
tumhaari yaad se ye raat kitni raushan hai
nazar mein itne hain jugnu ki ham ginaaein kyaa
marghaT path par dekh ke ham ko jaane kyaa kyaa sochein vo
aankhon se kyaa punny kamaae honTon se kyaa daan hue
ham ahl-e-gham ko haqaarat se dekhne vaalo
tumhaari naav inhin aansuon se chalti hai
Ghazalغزل
فلک پہ ہنسنے لگے چاند تارے شام کے بعد ہمیں اداس ہیں دریا کنارے شام کے بعد کھنکتی چوڑیاں خوشبوئیں پیار کی باتیں تمام وصل کے ہیں استعارے شام کے بعد ہمارے دن پہ زمانے کا جو تصرف ہو ہماری رات ہے اور ہم تمہارے شام کے بعد نکلیے گھر سے تو دامن میں آ ہی جاتے ہیں دو ایک بھٹکے ہوئے ماہ پارے شام کے بعد سنہری مچھلیاں ڈر جاتی ہیں اندھیروں سے سو کون جھیل میں کشتی اتارے شام کے بعد کہیں بھی دن میں بھٹکتا رہوں مگر وہ گلی ادھر ہی راستے مڑ جائیں سارے شام کے بعد اداس رات کے آنگن میں درد کی دیوی بڑے ہی چاؤ سے زلفیں سنوارے شام کے بعد کھلا تھا سامنے اک روز باب شہر بدن کسے بتائیں جو دیکھے نظارے شام کے بعد تمام دن پہ حکومت رہی ہماری فہیمؔ ہم اپنے وقت کے سورج تھے ہارے شام کے بعد
falak pe hansne lage chaand taare shaam ke baad
جب بھی ہنستے ہوئے انکار کیا ہے اس نے دل پہ اک اور نیا وار کیا ہے اس نے اس کو نفرت کی نگاہوں سے نہ دیکھے کوئی عمر بھر خود کو بہت پیار کیا ہے اس نے چومنا اس کو سلیقے سے ذرا باد صبا ورق گل کو بھی تلوار کیا ہے اس نے دھوپ آواز دے تو چھاؤں پکارے اس کو کتنے عالم کو گرفتار کیا ہے اس نے کیا کبھی شمع فروزاں سے کسی نے پوچھا کیسے اک صبح کا دیدار کیا ہے اس نے
jab bhi hanste hue inkaar kiyaa hai us ne
یاد کر کر کے تری یاد مٹانے نکلے لے کے گھی ہاتھ میں ہم آگ بجھانے نکلے ہم فقیروں کے قلم سے جو خزانے نکلے جھولیاں لے کے شہنشاہ چرانے نکلے جیسے جنگل میں کوئی رات بتانے نکلے گھر سے نکلے تو لگا جان گنوانے نکلے اپنی حالت کا اب احساس ہوا ہے ایسے جیسے چھپر کوئی برسات میں چھانے نکلے بھوکی دھرتی کی انا آ گئی دامن میں مگر سارے آکاش میں دو چار ہی دانے نکلے کچھ تھکے ماندوں پہ کتوں کا برسنا دیکھا جب وہ فٹ پاتھ پہ اخبار بچھانے نکلے خود کو سمجھاتے ہوئے شہر سے یوں لوٹے ہیں جیسے پردیس کوئی گھر سے کمانے نکلے ایسے انساں سے ملاقات نہ کرنا بہتر دل کے آنگن میں جو دیوار اٹھانے نکلے سادے لوگوں کو بہت تنگ کیا ہے تو نے ہم ہی دیوانوں سے بل تیرے زمانے نکلے شعر کہتے ہیں جسے بات وہیں ختم ہوئی ہم تو بس میرؔ کی اک رسم نبھانے نکلے
yaad kar kar ke tiri yaad miTaane nikle
اپنے قدم کی چاپ سے یوں ڈر رہے ہیں ہم مقتل کی سمت جیسے سفر کر رہے ہیں ہم کیا چاند اور تاروں کو ہم جانتے نہیں اے آسمان والو زمیں پر رہے ہیں ہم مشکل تھا سطح آب سے ہم کو کھنگالنا باہر نہیں تھے جتنا کہ اندر رہے ہیں ہم کل اور کوئی وقت کی آنکھوں میں ہو تو کیا اب تک تو ہر نگاہ کا محور رہے ہیں ہم دیر و حرم سے اور بھی آگے نکل گئے ہاں عقل کی حدود سے باہر رہے ہیں ہم اے ہم سفر نہ پوچھ مسافت نصیب سے تو جانتا ہے کتنے دنوں گھر رہے ہیں ہم باہر نہ آئے ہم بھی انا کے حصار سے اس جنگ میں تمہارے برابر رہے ہیں ہم جھرنوں کی کیا بساط کریں گفتگو فہیمؔ دریا گرے جہاں وہ سمندر رہے ہیں ہم
apne qadam ki chaap se yuun Dar rahe hain ham
بیچ کر تہذیب دولت کے پجاری ہو گئے اس زمانے کے سخنور بھی مداری ہو گئے رکھ کے وہ میزان پر دیوان اپنا رو پڑے جب کسی کے بے سرے الفاظ بھاری ہو گئے ہم نے اک مندر میں دیکھی آج ایسی مورتی آدمی تو آدمی پتھر پجاری ہو گئے انقلاب آیا تو ہے لیکن یہ کیسا انقلاب چینٹیوں کو مارنے والے شکاری ہو گئے عشق کے بازار سے لوٹے ہیں دل کو ہار کر دین و ایماں تم سنبھالو ہم جواری ہو گئے کون سمجھائے سمندر کے تھپیڑوں کو فہیمؔ کیسے کیسے وقت کے آگے بھکاری ہو گئے
bech kar tahzib daulat ke pujaari ho gae
بے رنگ و نور چاند ہے یوں آسمان میں بھوکا فقیر جیسے خدا کے دھیان میں چھاؤں کا لے رہا ہے مزہ دھوپ میں کوئی کوئی سلگ رہا ہے کہیں سائبان میں کس چیز کو خریدنے نکلے ہو جان من کیا شے تلاش کرتے ہو خالی دکان میں وہ متحد ہیں درس مساوات کے بغیر ہم درس لے کے بٹ گئے انصار و خان میں فرصت نہیں کہ فکر مرمت کرے کوئی مدت سے اک درار پڑی ہے مکان میں پکی حویلیوں میں ٹھہر کر لگا فہیمؔ رشتوں کا احترام ہے کچے مکان میں
be-rang-o-nur chaand hai yuun aasmaan mein





