SHAWORDS
Ghulam Bhik Nairang

Ghulam Bhik Nairang

Ghulam Bhik Nairang

Ghulam Bhik Nairang

poet
7Shayari
7Ghazal

Popular Shayari

7 total

Ghazalغزل

See all 7
غزل · Ghazal

کٹ گئی بے مدعا ساری کی ساری زندگی زندگی سی زندگی ہے یہ ہماری زندگی کیا ارادوں سے ہے حاصل؟ طاقت و فرصت کہاں ہائے کہلاتی ہے کیوں بے اختیاری زندگی اے سر شوریدہ اب تیرے وہ سودا کیا ہوئے! کیا سدا سے تھی یہی غفلت شعاری زندگی درد الفت کا نہ ہو تو زندگی کا کیا مزا آہ و زاری زندگی ہے بے قراری زندگی آرزوئے زیست بھی یاں آرزوئے دید ہے تو نہ پیارا ہو تو مجھ کو ہو نہ پیاری زندگی اور مرجھائے گی تیری چھیڑ سے دل کی کلی کر نہ دوبھر مجھ پہ اے باد بہاری زندگی یاں تو اے نیرنگؔ دونوں کے لیے ساماں نہیں موت بھی مجھ پر گراں ہے گر ہے بھاری زندگی

kaT gai be-mudda'aa saari ki saari zindagi

غزل · Ghazal

کس طرح واقف ہوں حال عاشق جاں باز سے ان کو فرصت ہی نہیں ہے کاروبار ناز سے میرے درد دل سے گویا آشنا ہیں چوب و تار اپنے نالے سن رہا ہوں پردہ ہائے ساز سے ذرہ ذرہ ہے یہاں اک کتبۂ سر الست آپ ہی واقف نہیں ہیں رسم خط راز سے دل گئے ایماں گئے عقلیں گئیں جانیں گئیں تم نے کیا کیا کر دکھایا اک نگاہ ناز سے آہ! کل تک وہ نوازش! آج اتنی بے رخی کچھ تو نسبت چاہئے انجام کو آغاز سے

kis tarah vaaqif hon haal-e-aashiq-e-jaan-baaz se

غزل · Ghazal

کہتے ہیں عید ہے آج اپنی بھی عید ہوتی ہم کو اگر میسر جاناں کی دید ہوتی قیمت میں دید رخ کی ہم نقد جاں لگاتے بازار ناز لگتا دل کی خرید ہوتی کچھ اپنی بات کہتے کچھ میرا حال سنتے ناز و نیاز کی یوں گفت و شنید ہوتی جلوے دکھاتے جاتے وہ طرز دلبری کے اور دل میں یاں ہوائے ناز مزید ہوتی تیغ نظر سے دل پر وہ وار کرتے جاتے اور لب پہ یاں صدائے ھل من مزید ہوتی ابرو سے ان کے غمزہ تیر ادا لگاتا یہ دل قتیل ہوتا یہ جاں شہید ہوتی کچھ حوصلہ بڑھاتا انداز لطف جاناں کچھ دغدغہ سا ہوتا کچھ کچھ امید ہوتی

kahte hain iid hai aaj apni bhi iid hoti

غزل · Ghazal

کبھی صورت جو مجھے آ کے دکھا جاتے ہو دن مری زیست کے کچھ اور بڑھا جاتے ہو اک جھلک تم جو لب بام دکھا جاتے ہو دل پہ اک کوندتی بجلی سی گرا جاتے ہو میرے پہلو میں تم آؤ یہ کہاں میرے نصیب یہ بھی کیا کم ہے تصور میں تو آ جاتے ہو تازہ کر جاتے ہو تم دل میں پرانی یادیں خواب شیریں سے تمنا کو جگا جاتے ہو اتنی ہم کو بھی دکھاتے ہو مسیحا نفسی حسرت مردہ کو آ آ کے جلا جاتے ہو نگہ لطف میں جادو ہے تمہاری جاناں سارے شکوے گلے اک پل میں بھلا جاتے ہو شعلۂ طور سے تو وادی ایمن ہی جلا تم جہاں آتے ہو اک آگ لگا جاتے ہو ہے تو نیرنگؔ وہی عشق کا رونا دھونا انہی باتوں میں نیا رنگ دکھا جاتے ہو

kabhi surat jo mujhe aa ke dikhaa jaate ho

غزل · Ghazal

مرے پہلو سے جو نکلے وہ مری جاں ہو کر رہ گیا شوق دل زار میں ارماں ہو کر زیست دو روزہ ہے ہنس کھیل کے کاٹو اس کو گل نے یہ راز بتایا مجھے خنداں ہو کر اشک شادی ہے یہ کچھ مژدہ صبا لائی ہے شبنم آلودہ ہوا پھول جو خنداں ہو کر ذرۂ وادئ الفت پہ مناسب ہے نگاہ فلک حسن پہ خورشید درخشاں ہو کر شوخیاں اس نگہ زیر مژہ کی مت پوچھ دل عاشق میں کھبی جاتی ہے پیکاں ہو کر شدت شوق شہادت کا کہوں کیا عالم تیغ قاتل پڑی سر پہ مرے احساں ہو کر اب تو وہ خبط مرے عشق کو کہہ کر دیکھیں خود ہی آئینے کو تکنے لگے حیراں ہو کر

mire pahlu se jo nikle vo miri jaan ho kar

غزل · Ghazal

اک ہجوم غم و کلفت ہے خدا خیر کرے جان پر نت نئی آفت ہے خدا خیر کرے جائے ماندن ہمیں حاصل ہے نہ پائے رفتن کچھ مصیبت سی مصیبت ہے خدا خیر کرے آ چلا اس بت عیار کی باتوں کا یقیں سادگی اپنی قیامت ہے خدا خیر کرے رہنماؤں کو نہیں خود بھی پتا رستے کا راہ رو پیکر حیرت ہے خدا خیر کرے

ik hujum-e-gham-o-kulfat hai khudaa khair kare

Similar Poets