SHAWORDS
Ibn

Ibn

Ibn

Ibn

poet
15Shayari
9Ghazal

Popular Shayari

15 total

Ghazalغزل

See all 9
غزل · Ghazal

شوق جب بھی بندگی کا رہنما ہوتا نہیں زندگی سے زندگی کا حق ادا ہوتا نہیں کیا سمجھ آئیں گی تم کو عشق کی باریکیاں دل تمہارا جب تلک درد آشنا ہوتا نہیں روح و تن کا عشق یہ قائم رہے گا دائمی ختم بعد مرگ بھی یہ سلسلہ ہوتا نہیں کون ہے جو جرم کرنے کو ہے شب کا منتظر روشنی میں دن کی یارو کیا بھلا ہوتا نہیں غالباً ہوتا مجھے بھی گھر کے گرنے کا گلہ راہگیروں کا اگر یہ راستہ ہوتا نہیں بد گمانی کی فضا میں کیا صفائی دیں تمہیں اس فضا میں کوئی بھی حل مسئلہ ہوتا نہیں اک ذرا سی بات پہ یہ منہ بنانا روٹھنا اس طرح تو کوئی اپنوں سے خفا ہوتا نہیں کوئی گستاخی تو کی ہے ناؤ نے گرداب سے ورنہ یوں ساحل پہ کوئی غمزدہ ہوتا نہیں کمرۂ تقدیر میں آتی عروس آرزو وقت ناہنجار کا جو فیصلہ ہوتا نہیں آنکھ سے پینے کا بھی ساقی نے مانگا ہے حساب اس روش سے یارو کوئی مے کدہ ہوتا نہیں مفتیؔ دیکھو مہر پلٹا ہے مری تقدیر کا دیکھتے ہیں کس طرح سجدہ ادا ہوتا نہیں

shauq jab bhi bandagi kaa rahnumaa hotaa nahin

غزل · Ghazal

دل وہی اشک بار رہتا ہے غم سے جو ہمکنار رہتا ہے میں نے دیکھا خرد کے کاندھوں پر اک جنوں سا سوار رہتا ہے لب تبسم میں ہو گئے مشاق دل مگر سوگوار رہتا ہے ایک لمحے بھی سوچ لوں ان کو مدتوں اک خمار رہتا ہے دل رہے بے کلی کے گھیرے میں ذہن پہ تو سوار رہتا ہے تیرے خوابوں کی لت لگی جب سے رات کا انتظار رہتا ہے سچ کے دھاگے سے جو بنے رشتہ عمر بھر استوار رہتا ہے تیرے دل نے بھی پڑھ لیا کلمہ جس میں یہ گنہ گار رہتا ہے جب سے جوڑا ہے آپ سے رشتہ دامن تار، تار رہتا ہے وہ تصور میں اک گھڑی آئیں دیر تک دل بہار رہتا ہے چاند سے اس لئے ہے پیار مجھے یہ بھی یاروں کا یار رہتا ہے گھر میں آتے ہی مہ جبیں نے کہا یاں تو اختر شمار رہتا ہے اب تو کر ڈالیے وفا اس کو وہ جو وعدہ ادھار رہتا ہے اک طرف گردشیں زمانے کی اک طرف تیرا پیار رہتا ہے ترے در سے جڑا ہوا مفلس عشق میں مال دار رہتا ہے ماں نے دے دی دعا تو حشر تلک اس کا باندھا حصار رہتا ہے دل میں سجدے کیا کرو مفتیؔ اس میں پروردگار رہتا ہے

dil vahi ashk-baar rahtaa hai

غزل · Ghazal

وہ خواب جیسا تھا گویا سراب لگتا تھا حسین ایسا کہ فخر گلاب لگتا تھا حلیم ایسا کہ دیوانی ایک دنیا تھی کہ اس سے ہاتھ ملانا ثواب لگتا تھا نبھانا رشتوں کا نازک کٹھن عمل نکلا جو دیکھنے میں تو سیدھا حساب لگتا تھا صراحی دار تھی گردن نشہ بھرے عارض سراپا اس کا مجسم شراب لگتا تھا وہ بولتا تو فضا نغمگی میں رچ جاتی گلے میں ہو کوئی اس کے رباب لگتا تھا کہانی ایک نئی دیتی ہونٹ کی جنبش وہ لب جو کھولتا گویا کتاب لگتا تھا وہ شخص آج گریزاں ہے سائے سے میرے جسے پسینہ بھی میرا گلاب لگتا تھا عمل میں فعل میں اس کے تضاد تھا مفتیؔ اگرچہ دل میں اترتا خطاب لگتا تھا

vo khvaab jaisaa thaa goyaa saraab lagtaa thaa

غزل · Ghazal

پھر سے وہ لوٹ کر نہیں آیا پھر دعا میں اثر نہیں آیا چین آئے گا کیسے آج کی شب تارے نکلے، قمر نہیں آیا لکھتے دیکھا تھا خواب میں ان کو اب تلک نامہ بر نہیں آیا میرے مرنے پہ آیا سارا جہاں جو تھا اک با خبر نہیں آیا چل بسی ماں لئے کھلی آنکھیں اس کا، نور نظر نہیں آیا یوں تو پتھر بہت سے دیکھے ہیں کوئی تم سا نظر نہیں آیا شام ڈھلنے لگی ہے اب مفتیؔ صبح کا بھولا گھر نہیں آیا

phir se vo lauT kar nahin aayaa

غزل · Ghazal

ہم سے ملتے تھے ستارے آپ کے پھر بھی کھو بیٹھے سہارے آپ کے کیسا جادو ہے سمجھ آتا نہیں نیند میری خواب سارے آپ کے ہم سے شاید معتبر ٹھہری صبا جس نے یہ گیسو سنوارے آپ کے آپ کی نظر کرم کے منتظر کب سے بیٹھے ہیں دوارے آپ کے کوئی اس کی آنکھ کو بھائے گا کیوں جس نے دیکھے ہوں نظارے آپ کے بن ترے سانسیں بھی اب چلتی نہیں ہر گھڑی چاہیں، اشارے آپ کے مسکرا کر دیکھیے تو ایک بار کہکشاں، یہ چاند تارے آپ کے جھوٹ ہے مفتیؔ بھلا بیٹھے ہو سب کیوں تھے پلکوں پر ستارے آپ کے

ham se milte the sitaare aap ke

غزل · Ghazal

غلط فہمی کی سرحد پار کر کے مٹا دو فاصلے ایثار کر کے یہ کاروبار بھی کب راس آیا خسارے میں رہے ہم پیار کر کے لگیں صدیاں بنانے میں جو رشتے وہ اک پل میں چلے مسمار کر کے گلے مل کر ہی دوری دور ہوگی ملے گا کیا ہمیں تکرار کر کے سگے بھائی بھی اب اک چھت کے نیچے وہ رہتے ہیں مگر دیوار کر کے مسائل ہیں کہ بڑھتے جا رہے ہیں گلوں کا برملا اظہار کر کے گنوا دی عزت سادات مفتیؔ محبت میں نگاہیں چار کر کے

ghalat-fahmi ki sarhad paar kar ke

Similar Poets