SHAWORDS
I

Iqbal Kaifi

Iqbal Kaifi

Iqbal Kaifi

poet
11Shayari
10Ghazal

Popular Shayari

11 total

Ghazalغزل

See all 10
غزل · Ghazal

موج بلا میں روز کوئی ڈوبتا رہے ساحل ہر ایک بار مگر دیکھتا رہے یاروں کی کشتیاں رہیں ساحل سے بے نیاز طوفاں سے بے نیاز اگر ناخدا رہے خیرات میں کبھی نہیں مانگیں محبتیں ہر چند میرے دوست مجھے آزما رہے جن کو نہیں تھی دولت احساس تک نصیب تکریم بے نظر میں وہی دیوتا رہے میں ایسے حسن ظن کو خدا مانتا نہیں آہوں کے احتجاج سے جو ماورا رہے مانا کہ ہر طرح ہے تغیر سے بے نیاز لیکن وہ حال غم سے تو کچھ آشنا رہے کیفیؔ ضمیر باختہ لوگوں سے کب تلک خیرات احترام کوئی مانگتا رہے

mauj-e-balaa mein roz koi Dubtaa rahe

غزل · Ghazal

بے کسی پر ظلم لا محدود ہے مطلع انصاف ابرآلود ہے وقت کی قیمت ادا کرنے کے بعد عہد کا فرعون پھر مسجود ہے ہر طرف زر کی پرستش ہے یہاں سنتے آئے تھے خدا معبود ہے چار سو ہے آتش و آہن کا کھیل اور خلا میں شعلہ و بارود ہے تابش علم و ہنر ہے بے ثمر کاوش حسن عمل بے سود ہے امن کیفیؔ ہو نہیں سکتا کبھی جب تلک ظلم و ستم موجود ہے

be-kasi par zulm laa-mahdud hai

غزل · Ghazal

لب گداز پہ الفاظ سخت رہتے ہیں زبان غیر کے لہجے کرخت رہتے ہیں کہیں کہیں تو غلاموں سے بھی رہے بد تر وہ جن کے پاؤں کی ٹھوکر میں تخت رہتے ہیں رتیں بدلتی ہیں وقت ایک سا نہیں رہتا تمام عمر نہ بیدار بخت رہتے ہیں خزاں کا دور بھی آتا ہے ایک دن کیفیؔ سدا بہار کہاں تک درخت رہتے ہیں

lab-e-gudaaz pe alfaaz-e-sakht rahte hain

غزل · Ghazal

محبتوں نے بڑی ہیر پھیر کر دی ہے وفا غرور کے قدموں میں ڈھیر کر دی ہے کٹی ہے رات بڑے اضطراب میں اپنی ترے خیال میں ہم نے سویر کر دی ہے ہم اہل عشق تو برسوں کے مر گئے ہوتے عروس مرگ نے آنے میں دیر کر دی ہے اٹے ہوئے ہیں فقیروں کے پیرہن کیفیؔ جہاں نے بھیک میں مٹی بکھیر کر دی ہے

mohabbaton ne baDi her-pher kar di hai

غزل · Ghazal

یہی نہیں کہ نگاہوں کو اشک بار کیا ترے فراق میں دامن بھی تار تار کیا متاع عشق یہی حاصل حیات یہی خلوص نذر کیا اور دل نثار کیا یہی بس ایک خطا وجہ بے قراری تھی جو ریگ زار میں باراں کا انتظار کیا زر بیاں سے مزین نقوش حسن کیے متاع حرف کو مدحت سرائے یار کیا پلٹ کے آ گئے نالے جو آسمانوں سے خدا کو چھوڑ دیا کفر اختیار کیا

yahi nahin ki nigaahon ko ashk-baar kiyaa

غزل · Ghazal

سائل کے لبوں پر ہے دعا اور طرح کی افلاک سے آتی ہے صدا اور طرح کی ہے زیست اگر جرم تو اے منصف عالم جرم اور طرح کا ہے سزا اور طرح کی اس دل میں ہے مفہوم کرم اور طرح کا اس دل میں ہے تفہیم وفا اور طرح کی پھولوں کا تبسم بھی وہ پہلا سا نہیں ہے گلشن میں بھی چلتی ہے ہوا اور طرح کی دیتے ہیں فقیروں کو سزا آج بھی کیفیؔ لوگ اور طرح سے تو خدا اور طرح کی

saail ke labon par hai duaa aur tarah ki

Similar Poets