SHAWORDS
Ismail Merathi

Ismail Merathi

Ismail Merathi

Ismail Merathi

poet
60Shayari
45Ghazal

Popular Shayari

60 total

Ghazalغزل

See all 45
غزل · Ghazal

پائے غیر اور میرا سر دیکھو ٹوٹ جائے نہ سنگ در دیکھو ایک عالم پڑا ہے چکر میں گردش چشم فتنہ گر دیکھو میں نظر بند غیر مد نظر اپنا دل اور مرا جگر دیکھو چشم پر نم ہے تن غبار آلود آن کر سیر بحر و بر دیکھو فکر افشائے راز کیوں نہ کروں کیا حیا خیز ہے نظر دیکھو ہے دگر گوں مریض غم کا حال ہو سکے تو دوا بھی کر دیکھو غیر جھلتے ہیں اب انہیں پنکھا اثر آہ پر شرر دیکھو کم نمائی و خویشتن بینی کتنے بے دید ہو ادھر دیکھو

paa-e-ghair aur meraa sar dekho

غزل · Ghazal

میں اگر وہ ہوں جو ہونا چاہئے میں ہی میں ہوں پھر مجھے کیا چاہئے غرق خم ہونا میسر ہو تو بس چاہئے ساغر نہ مینا چاہئے منحصر مرنے پہ ہے فتح و شکست کھیل مردانہ ہے کھیلا چاہئے بے تکلف پھر تو کھیوا پار ہے موجزن قطرہ میں دریا چاہئے تیز غیروں پر نہ کر تیغ و تبر آپ اپنے سے مبرا چاہئے ہو دم عرض تجلی پاش پاش سینہ مثل طور سینا چاہئے حسن کی کیا ابتدا کیا انتہا شیفتہ بھی بے سر و پا چاہئے پارسا بن گر نہیں رندوں میں بار کچھ تو بیکاری میں کرنا چاہئے کفر ہے ساقی پہ خست کا گماں تشنہ سرگرم تقاضا چاہئے

main agar vo huun jo honaa chaahiye

غزل · Ghazal

تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا کیسی زمیں بنائی کیا آسماں بنایا پاؤں تلے بچھایا کیا خوب فرش خاکی اور سر پہ لاجوردی اک سائباں بنایا مٹی سے بیل بوٹے کیا خوش نما اگائے پہنا کے سبز خلعت ان کو جواں بنایا خوش رنگ اور خوشبو گل پھول ہیں کھلائے اس خاک کے کھنڈر کو کیا گلستاں بنایا میوے لگائے کیا کیا خوش ذائقہ رسیلے چکھنے سے جن کے مجھ کو شیریں دہاں بنایا سورج بنا کے تو نے رونق جہاں کو بخشی رہنے کو یہ ہمارے اچھا مکاں بنایا پیاسی زمیں کے منہ میں مینہ کا چوایا پانی اور بادلوں کو تو نے مینہ کا نشاں بنایا یہ پیاری پیاری چڑیاں پھرتی ہیں جو چہکتی قدرت نے تیری ان کو تسبیح خواں بنایا تنکے اٹھا اٹھا کر لائیں کہاں کہاں سے کس خوبصورتی سے پھر آشیاں بنایا اونچی اڑیں ہوا میں بچوں کو پر نہ بھولیں ان بے پروں کا ان کو روزی رساں بنایا کیا دودھ دینے والی گائیں بنائیں تو نے چڑھنے کو میرے گھوڑا کیا خوش عناں بنایا رحمت سے تیری کیا کیا ہیں نعمتیں میسر ان نعمتوں کا مجھ کو ہے قدرداں بنایا آب رواں کے اندر مچھلی بنائی تو نے مچھلی کے تیرنے کو آب رواں بنایا ہر چیز سے ہے تیری کاری گری ٹپکتی یہ کارخانہ تو نے کب رائیگاں بنایا

taarif us khudaa ki jis ne jahaan banaayaa

غزل · Ghazal

راہ و رسم خط کتابت ہی سہی گل نہیں تو گل کی نکہت ہی سہی دل لگی کا کوئی ساماں چاہئے قحط معنی ہو تو صورت ہی سہی بے دماغی بندہ پرور اس قدر آپ کی سب پر حکومت ہی سہی دوستی کا میں نے کب دعویٰ کیا دور کی صاحب سلامت ہی سہی بسکہ ذکرالعیش نصف العیش ہے یاد ایام فراغت ہی سہی وقت ملنے کا معین کیجئے خواہ فردائے قیامت ہی سہی حسن صورت کا نہ کھا اصلاً فریب کلک صنعت گر کی صنعت ہی سہی کچھ نہ کرنا بھی مگر اک کام ہے گر نہیں صحبت تو عزلت ہی سہی

raah-o-rasm-e-khat-kitaabat hi sahi

غزل · Ghazal

وہیں سے جب کہ اشارہ ہو خود نمائی کا عجب کہ بندہ نہ دعویٰ کرے خدائی کا ملے جو رتبہ ترے در کی جبہہ‌ سائی کا تو ایک سلسلہ ہو شاہی‌ و گدائی کا نہیں ہے فیض میں خست ولیک پیدا ہے تفاوت آئنہ و‌‌ سنگ میں صفائی کا یہاں جو عشق ہے بیتاب جلوۂ دیدار وہاں بھی حسن محرک ہے خود نمائی کا بتوں کے سامنے بت گر گھسے جبین نیاز میں شیفتہ ہوں تری شان کبریائی کا نہ کر کسی کی برائی نہ بن بھلے سے برا بھلا بھلا ہے برا کام ہے برائی کا بنائیں بگڑی ہوئی کو تو ایک بات بھی ہے بگاڑنا نہیں مشکل بنی بنائی کا اٹھا حجاب تو بس دین و دل دئے ہی بنی جناب شیخ کو دعویٰ تھا پارسائی کا تمہارے دل سے کدورت مٹائے تو جانیں کھلا ہے شہر میں اک محکمہ صفائی کا ہوس ہے گر سر و ساماں کے جمع کرنے کی تلاش کر سر و سامان بے نوائی کا سوائے عشق نہیں کوئی رہبر چالاک وہاں خرد کو نہیں حوصلہ رسائی کا اسی کا وصف ہے مقصود شعر خوانی سے اسی کا ذکر ہے منشا غزل سرائی کا نہیں ہے اب کے زمانہ کی یہ روش زنہار میں یادگار ہوں ؔخاقانیؔ و سنائی کا

vahin se jab ki ishaara ho khud-numaai kaa

غزل · Ghazal

کیا کیا اجل نے جان چرائی تمام شب کوئی بھی آرزو نہ بر آئی تمام شب دل سوز کب ہوئے ہیں کہ جب خاک ہو گیا تربت پہ میری شمع جلائی تمام شب اے وائے تلخ کامیٔ‌ روز بد فراق ناصح نے جان غم زدہ کھائی تمام شب از بس یقین وعدۂ دیدار خواب تھا کیا خوش ہوئے کہ نیند نہ آئی تمام شب اک آہ دل نشیں سے وہ بت منفعل ہوا واللہ کیا ندامت اٹھائی تمام شب لگتے ہی آنکھ دیکھ لیا جلوۂ نہاں پیش نظر تھی شان خدائی تمام شب

kyaa kyaa ajal ne jaan churaai tamaam shab

Similar Poets