SHAWORDS
Khwaja Mohammad Wazir

Khwaja Mohammad Wazir

Khwaja Mohammad Wazir

Khwaja Mohammad Wazir

poet
68Shayari
29Ghazal

Popular Shayari

68 total

Ghazalغزل

See all 29
غزل · Ghazal

نہیں کٹتا ہے یہ میدان بلا وادیٔ خضر بیابان بلا مستعد زلف مری رنج پہ ہے ہے مہیا سر‌ و سامان بلا مر گیا گیسو پرپیچ میں دل چھٹ گیا قیدی‌ٔ زندان بلا ہار پھولوں کی ہیں چوٹی میں عیاں کیا ہی پھولا ہے گلستان‌ بلا بولے بکھرا کے وہ زلفیں اپنی ہم ہوئے سلسلہ جنبان بلا اونچی چوٹی ہے غضب اے یم‌ حسن کیا ہی اٹھا ہے یہ طوفان بلا کان کی لو تری زلفوں میں نہیں ہے چراغ تہ دامان بلا گرمیٔ رخ سے عرق ریز ہے زلف ہے گہر بار یہ نیسان بلا دل مرے سینے میں ہے محو مژہ ہے یہی شیر نیستان بلا

nahin kaTtaa hai ye maidaan-e-balaa

غزل · Ghazal

میرے نالوں سے تہہ و بالا ہوئی اکثر زمیں زیر پا آیا فلک اور بارہا سر پر زمیں ہے دیار ماہرو کا بس یہی قاصد نشاں آسماں تجھ کو نظر آئے گی واں کی سر زمیں کس طرف جاؤں کہ ہو ان دو بلاؤں سے نجات آسماں گھر گھر یہی ہے اور یہی گھر گھر زمیں باری باری یہ مجھے پیسیں برنگ آسیا آسماں دن بھر رہے گردش میں تو شب بھر زمیں مثل خورشید آسماں جلتا ہے آہ گرم سے کانپتی ہے ٹھنڈی سانسوں سے مری تھر تھر زمیں جس جگہ ہیں دفن قاتل تیری مژگاں کے شہید واں عوض سبزی کے پیدا کرتی ہے نشتر زمیں سیکڑوں اس میں گئے محبوب جائے‌ رشک ہے رکھتی ہے آغوش میں کیا کیا پری پیکر زمیں آتش فرقت سے عالم کورۂ آتش ہوا آسماں ہے دود ہم اخگر میں اور مجمر زمیں عشق خال یار نے ایسا کیا زار و نحیف بیٹھے رہنے کو مرے کافی ہے اب تل بھر زمیں

mere naalon se tah-o-baalaa hui aksar zamin

غزل · Ghazal

ترے رخ کا کسے سودا نہیں ہے گل لالہ تلک صحرا نشیں ہے پھرا ہے آپ وہ مہ رو ہمارا ترا اے آسماں شکوہ نہیں ہے کہیں ایسا نہ ہو اٹھے نہ تلوار یہی ڈر ہے کہ قاتل نازنیں ہے نہ پوچھو میرے آنسو تم نہ پوچھو کہے گا کوئی تم کو خوشہ چیں ہے ادب سے پا برہنہ پھرتے ہیں ہم جنوں فرش الٰہی یہ زمیں ہے برا سب دشمنوں کا چاہتے ہیں میں خوش ہوں جیسے دل اندوہ گیں ہے رہے مضمون غم کی طرح اس میں ہمارا گھر ہے یا بیت حزیں ہے جہاں ہے جلوہ گر وہ غیرت‌ ماہ الٰہی آسماں ہے یا زمیں ہے بنایا تجھ کو ایسا خوب صورت کہ نازاں تجھ پہ صورت آفریں ہے ہیں عشق زلف میں اعضا بھی دشمن ہمارا ہاتھ مار آستیں ہے نہ نکلا بے ترے میں گھر سے باہر نگہ تک چشم میں خلوت نشیں ہے فلک جو چاہے ہم پر ظلم کر لے ابھی تو ضبط‌‌ آہ آتشیں ہے پڑا ہے تفرقہ بے تابیوں سے وزیرؔ اب میں کہیں ہوں دل کہیں ہے

tire rukh kaa kise saudaa nahin hai

غزل · Ghazal

ایک عالم نے جبہ سائی کی اے بتو تم نے بھی خدائی کی عاشقوں کے لہو کی پیاسی ہیں مچھلیاں اس کف حنائی کی زلف پر پیچ سے جو دل الجھا بیچ میں رخ پڑا صفائی کی مرغ بے بال و پر ہوں اے صیاد آرزو ہے کسی رہائی کی اے جنوں دشت کو چلیں گے ہم ہے قسم اس برہنہ پائی کی سر جدا ہم نے اپنا کر ڈالا آئی جب گفتگو جدائی کی پھر گیا یار گھر کے پاس آ کر بخت برگشتہ نے برائی کی سیکڑوں جامے تجھ پہ پھٹتے ہیں دھوم ہے تیری میرزائی کی تجھ سے تو ہم کو اے خم ابرو تھی نہ امید کج ادائی کی کوئی قاتل کی راہ بھولا تھا اے اجل تو نے رہنمائی کی دل کہیں اور ہم نے اٹکایا بے وفاؤں سے بے وفائی کی نہ گئی زاہدوں کے پاس کبھی دختر رز نے پارسائی کی شہر میں جائے گی مری پاپوش قدر واں کیا برہنہ پائی کی صاف ہے آئنہ تن پر نور ہے دلیل اس پہ خود نمائی کی کاسۂ ماہ کیوں نہ ہو پر نور برسوں اس کوچے کی گدائی کی کعبۂ دل میں بھی مقام کیا اے بتو تم نے کیا رسائی کی خط کے آنے پہ بھی مکدر ہے صورت اب کون سی صفائی کی بال و پر بھی گئے بہار کے ساتھ اب تو صورت نہیں رہائی کی کس کے کوچے کی راہ بھولا ہوں خضر نے بھی نہ رہنمائی کی شاہ کہلائے ہر طرح سے وزیرؔ بادشاہی نہ کی گدائی کی

ek aalam ne jubba-saai ki

غزل · Ghazal

بات کا اپنی نہ جب پایا جواب ہم یہ سمجھے وہ دہن ہے لا جواب باتیں سنوائیں لب خاموش نے ورنہ ہم دیتے اسے کیا کیا جواب بے نشاں ہے وہ کمر شکل دہن کون سی شے ہے نہیں جس کا جواب سادہ کاغذ بھیجا نامہ کے عوض واں سے آیا بھی تو صاف آیا جواب پوچھتا گر اس کمر کا میں نشاں غیب سے ملتا مجھے اس کا جواب تم جو کچھ کہتے زبان تیغ سے میں دہان زخم سے دیتا جواب آج مجھ سے بات اگر کرتے نہیں دیں گے یہ بت کل خدا کو کیا جواب بے دہن وہ ہے تو میں ہوں بے زباں یار کی صورت ہوں میں بھی لا جواب کہہ کے اک مصرع مہ نو رہ گیا ہو سکا کب بیت ابرو کا جواب بات سیدھی کی جو تھا مذکور قد ذکر ابرو میں دیا ٹیڑھا جواب کیجیے کیا بات اس کج‌ طبع سے دے گا چرخ واژگوں الٹا جواب باتیں کرتا ہے جو پردہ چھوڑ کر مجھ کو دیتا ہے وہ در پردہ جواب آ گیا اے وائے پیغام اجل پر نہ قاصد لے کے کچھ آیا جواب سن کے بیتیں میرے حاسد چپ رہے اے وزیرؔ اپنا سخن ہے لا جواب

baat kaa apni na jab paayaa javaab

غزل · Ghazal

دیکھ بے بادہ کیا ہے اپنا رنگ رحم اے آسمان مینا رنگ زور دکھلا رہا ہے کیا کیا رنگ واہ وا اے جہان رنگا رنگ ہو گئی صنف سے سبک ایسی لے اڑا ہم کو بھی ہمارا رنگ

dekh be-baada kyaa hai apnaa rang

Similar Poets