dil ke tamaam zakhm tiri haan se bhar gae
jitne kaThin the raaste vo sab guzar gae

Kumar Vishwas
Kumar Vishwas
Kumar Vishwas
Popular Shayari
10 totalkoi divaana kahtaa hai koi paagal samajhtaa hai
magar dharti ki bechaini ko bas baadal samajhtaa hai
usi ki tarah mujhe saaraa zamaanaa chaahe
vo miraa hone se zyaada mujhe paanaa chaahe
jab se milaa hai saath mujhe aap kaa huzur
sab khvaab zindagi ke hamaare sanvar gae
miraa khayaal tiri chuppion ko aataa hai
tiraa khayaal miri hichkiyon ko aataa hai
aadmi honaa khudaa hone se behtar kaam hai
khud hi khud ke khvaab ki taabir ban kar dekh le
phir miri yaad aa rahi hogi
phir vo dipak bujhaa rahi hogi
chaaron taraf bikhar gaiin saanson ki khushbuein
raah-e-vafaa mein aap jahaan bhi jidhar gae
jism chaadar saa bichh gayaa hogaa
ruuh silvaT haTaa rahi hogi
apne hi aap se is tarah hue hain rukhsat
saans ko chhoD diyaa jis samt bhi jaanaa chaahe
Ghazalغزل
یہ خیالوں کی بد حواسی ہے یا ترے نام کی اداسی ہے آئنے کے لیے تو پتلی ہیں ایک کعبہ ہے ایک کاشی ہے تم نے ہم کو تباہ کر ڈالا بات ہونے کو یہ ذرا سی ہے
ye khayaalon ki bad-havaasi hai
ہم کہاں ہیں یہ پتا لو تم بھی بات آدھی تو سنبھالو تم بھی دل لگایا ہی نہیں تھا تم نے دل لگی کی تھی مزا لو تم بھی ہم کو آنکھوں میں نہ آنجو لیکن خود کو خود پر تو سجا لو تم بھی جسم کی نیند میں سونے والوں روح میں خواب تو پالو تم بھی
ham kahaan hain ye pataa lo tum bhi
رنگ دنیا نے دکھایا ہے نرالا دیکھوں ہے اندھیرے میں اجالا تو اجالا دیکھوں آئنہ رکھ دے مرے سامنے آخر میں بھی کیسا لگتا ہے ترا چاہنے والا دیکھوں کل تلک وہ جو مرے سر کی قسم کھاتا تھا آج سر اس نے مرا کیسے اچھالا دیکھوں مجھ سے ماضی مرا کل رات سمٹ کر بولا کس طرح میں نے یہاں خود کو سنبھالا دیکھوں جس کے آنگن سے کھلے تھے مرے سارے رستے اس حویلی پہ بھلا کیسے میں تالا دیکھوں
rang duniyaa ne dikhaayaa hai niraalaa dekhun
سب تمنائیں ہوں پوری کوئی خواہش بھی رہے چاہتا وہ ہے محبت میں نمائش بھی رہے آسماں چومے مرے پنکھ تری رحمت سے اور کسی پیڑ کی ڈالی پہ رہائش بھی رہے اس نے سونپا نہیں مجھ کو مرے حصے کا وجود اس کی کوشش ہے کہ مجھ سے مری رنجش بھی رہے مجھ کو معلوم ہے میرا ہے وہ میں اس کا ہوں اس کی چاہت ہے کہ رسموں کی یہ بندش بھی رہے موسموں سے رہیں وشواسؔ کے ایسے رشتے کچھ عداوت بھی رہے تھوڑی نوازش بھی رہے
sab tamannaaein hon puuri koi khvaahish bhi rahe
میں تو جھونکا ہوں ہواؤں کا اڑا لے جاؤں گا جاگتی رہنا تجھے تجھ سے چرا لے جاؤں گا ہو کے قدموں پہ نچھاور پھول نے بت سے کہا خاک میں مل کر بھی میں خوشبو بچا لے جاؤں گا کون سی شے مجھ کو پہنچائے گی تیرے شہر تک یہ پتا تو تب چلے گا جب پتا لے جاؤں گا کوششیں مجھ کو مٹانے کی بھلے ہوں کامیاب مٹتے مٹتے بھی میں مٹنے کا مزہ لے جاؤں گا شہرتیں، جن کی وجہ سے دوست دشمن ہو گئے سب یہیں رہ جائیں گی میں ساتھ کیا لے جاؤں گا
main to jhonkaa huun havaaon kaa uDaa le jaaungaa
ان کی خیر و خبر نہیں ملتی ہم کو ہی خاص کر نہیں ملتی شاعری کو نظر نہیں ملتی مجھ کو تو ہی اگر نہیں ملتی روح میں دل میں جسم میں دنیا ڈھونڈھتا ہوں مگر نہیں ملتی لوگ کہتے ہیں روح بکتی ہے میں جدھر ہوں ادھر نہیں ملتی
un ki khair-o-khabar nahin milti





