SHAWORDS
Mazhar Imam

Mazhar Imam

Mazhar Imam

Mazhar Imam

poet
29Shayari
58Ghazal

Popular Shayari

29 total

Ghazalغزل

See all 58
غزل · Ghazal

جو اب تک ناؤ یہ ڈوبی نہیں ہے تو ساحل پر بھی بے چینی نہیں ہے چلو ہم بھی وفا سے باز آئے محبت کوئی مجبوری نہیں ہے ذرا تاریکیوں کو بھی پکارو کہ اتنی روشنی اچھی نہیں ہے ابھی سے کانپتا ہے شمع کا دل ابھی اس نے نقاب الٹی نہیں ہے رہا کرتی ہے حسرت بن کے دل میں متاع آرزو لٹتی نہیں ہے حیات جاوداں پانے کی خاطر حیات مختصر چھوٹی نہیں ہے امامؔ آئیں ذرا اس بزم تک وہ جنہیں احساس محرومی نہیں ہے

jo ab tak naav ye Duubi nahin hai

غزل · Ghazal

اپنے رستے ہوئے زخموں کی قبا لایا ہوں زندگی میری طرف دیکھ کہ میں آیا ہوں کسی سنسان جزیرے سے پکارو مجھ کو میں صداؤں کے سمندر میں نکل آیا ہوں کام آئی ہے وہی چھاؤں گھنی بھی جو نہ تھی وقت کی دھوپ میں جس وقت میں کمھلایا ہوں خیریت پوچھتے ہیں لوگ بڑے طنز کے ساتھ جرم بس یہ ہے کہ اک شوخ کا ہمسایہ ہوں صبح ہو جائے تو اس پھول کو دیکھوں کہ جسے میں شبستان بہاراں سے اٹھا لایا ہوں عصر نو مجھ کو نگاہوں میں چھپا کر رکھ لے ایک مٹتی ہوئی تہذیب کا سرمایہ ہوں

apne riste hue zakhmon ki qabaa laayaa huun

غزل · Ghazal

یہ تجربہ بھی کروں یہ بھی غم اٹھاؤں میں کہ خود کو یاد رکھوں اس کو بھول جاؤں میں اسی سے پوچھ کے دیکھوں وہ میرا ہے کہ نہیں اب اور کتنا فریب جمال کھاؤں میں وہ بے لباس سہی جامہ زیب کتنا ہے مہ خیال کو پوشاک کیا پہناؤں میں وہ پل کہاں ہے جو دنیا سے جوڑتا تھا مجھے جو تو قریب ہو سب سے قریب آؤں میں کبھی تو ہو مرے احساس کم تری میں کمی کبھی تو ہو کہ اسے کھل کے یاد آؤں میں وہ شخص ہے کہ نسیم سحر کا جھونکا ہے بکھر ہی جاؤں جو اس کو گلے لگاؤں میں اذاں کے بعد دعا کو جو ہاتھ اٹھائے وہ امامؔ اپنی نمازیں بھی بھول جاؤں میں

ye tajraba bhi karun ye bhi gham uThaaun main

غزل · Ghazal

ہے بھرے درختوں کے باوجود بن تنہا روز و شب کے ہنگامے پھر بھی انجمن تنہا رتجگوں کے وہ ساتھی کس جہاں میں بستے ہیں کیا ہمیں تک آئے گی صبح کی کرن تنہا زلف کی حسیں راتیں کس پہ سایہ افگن ہیں میرے گھر تک آئی ہے بوئے یاسمن تنہا تیری یاد نے اٹھ کر مجھ سے کل یہ پوچھا تھا اپنے غم کے صحرا میں جا سکو گے تن تنہا کچھ کمی نہ تھی دل کی کوچۂ محبت میں ایک ہم ہی آئے تھے لے کے جان و تن تنہا ہائے یہ شب وعدہ دل کا حال کیا کہئے حجلۂ عروسی میں جس طرح دلہن تنہا تھی خدا کی شرکت بھی ورنہ بوجھ نفرت کا کس طرح اٹھا پائے شیخ و برہمن تنہا

hai bhare darakhton ke baavajud ban tanhaa

غزل · Ghazal

تجھے بھی جانچتے اپنا بھی امتحاں کرتے کہیں چراغ جلاتے کہیں دھواں کرتے کئی تھے جلوۂ نایاب تجھ سے پہلے بھی کس آسرے پہ ترا نقش جاوداں کرتے سفینہ ڈوب رہا تھا تو کیوں نہ یاد آیا تری طلب ترے ارماں کو بادباں کرتے محبتیں بھی تری ہیں شکایتیں بھی تری یقین تجھ پہ نہ ہوتا تو کیوں گماں کرتے ہوا تھی تیز جلاتے رہے دلوں میں چراغ کٹی ہے عمر لہو اپنا رائیگاں کرتے وہ بے جہت کا سفر تھا سواد شام نہ صبح کہاں پہ رکتے کہاں یاد رفتگاں کرتے دیار خواب میں ٹھہرے حصار گل میں رہے مگر یہ غم ہی رہا خود کو شادماں کرتے

tujhe bhi jaanchte apnaa bhi imtihaan karte

غزل · Ghazal

میرے حریف ہی کو سہی چاہتا تو ہے اب اس کی زندگی میں کوئی تیسرا تو ہے مانا گزارتا ہے وہ مصروف زندگی لیکن کبھی کبھی ہی مجھے سوچتا تو ہے چھلکی ہوئی ہیں ساعت جاں کی گلابیاں محفل میں آنسوؤں کی ابھی رت جگا تو ہے اس کو اداس دیکھ کے کتنی خوشی ہوئی میری تمام عمر کا غم آشنا تو ہے نوک مژہ پہ اس کی ستارہ کبھی کبھی میرے دھڑکتے دل کی طرح کانپتا تو ہے سچ ہے کہ تتلیوں سے اسے ہے مناسبت کم کم ہی برگ دل پہ مگر بیٹھتا تو ہے انگڑائیوں سے پھول کی آتی تو ہے صدا خوشبو کا شوخ و شنگ بدن ٹوٹتا تو ہے

mere harif hi ko sahi chaahtaa to hai

Similar Poets