SHAWORDS
Mohammad Deen Taseer

Mohammad Deen Taseer

Mohammad Deen Taseer

Mohammad Deen Taseer

poet
9Sher
9Shayari
7Ghazal

Sherشعر

See all 9

Popular Sher & Shayari

18 total

Ghazalغزل

See all 7
غزل · Ghazal

meri vafaaein yaad karoge

میری وفائیں یاد کرو گے روؤ گے فریاد کرو گے ہم بھی ہنسیں گے تم پر اک دن تم بھی کبھی فریاد کرو گے محفل کی محفل ہے غمگیں کس کس کا دل شاد کرو گے آ کر بھی ناشاد کیا تھا جا کر بھی ناشاد کرو گے ختم ہوئی دشنام طرازی یا کچھ اور ارشاد کرو گے مجھ کو تو برباد کیا ہے اور کسے برباد کرو گے چھوڑو بھی تاثیرؔ کی باتیں کب تک اس کو یاد کرو گے

غزل · Ghazal

lutf-e-vafaa nahin ki vo bedaad-gar nahin

لطف وفا نہیں کہ وہ بیداد گر نہیں خاموش ہوں کہ میری فغاں بے اثر نہیں تیرے بغیر تلخی کام و دہن حرام درد جگر ہے لذت درد جگر نہیں سجدوں سے نامراد ہے جلووں سے ناامید وہ رہ گزر کہ اب جو تری رہ گزر نہیں تم کیا گئے کہ سارا زمانہ چلا گیا وہ رات دن نہیں ہیں وہ شام و سحر نہیں ہر ہر روش معاملۂ حسن و عاشقی ہر ہر قدم فروغ جمال نظر نہیں بے باک چال چال سے بیباک تر نظر اب حسن تو بہت ہے مگر فتنہ گر نہیں زخموں سے چور قافلے پر خار راستے اس میں ترا قصور تو اے راہبر نہیں دنیائے چشم و گوش تو برباد ہو گئی اب کچھ بغیر معرکۂ خیر و شر نہیں

غزل · Ghazal

shikva-e-bejaa ki kyaa un se shikaayat ham karein

شکوۂ بے جا کی کیا ان سے شکایت ہم کریں کچھ تو ہیں پہلے ہی برہم اور کیا برہم کریں وہ توجہ دیں تو ہو آراستہ بزم حیات وہ نگاہیں پھیر لیں تو انجمن برہم کریں یوں بدل لیں طالع خورشید سے بخت سیاہ آسماں کی طرح سر کو تیرے در پر خم کریں آئنہ دار نمود حسن روز افزوں جو ہو ہم کہاں سے روز پیدا اک نیا عالم کریں آگہی سر چشمۂ رنج و الم تاثیرؔ ہے ہم خوشی سے ہی نہیں واقف تو پھر کیا غم کریں

غزل · Ghazal

huzur-e-yaar bhi aansu nikal hi aate hain

حضور یار بھی آنسو نکل ہی آتے ہیں کچھ اختلاف کے پہلو نکل ہی آتے ہیں مزاج ایک نظر ایک دل بھی ایک سہی معاملات من و تو نکل ہی آتے ہیں ہزار ہم سخنی ہو ہزار ہم نظری مقام جنبش ابرو نکل ہی آتے ہیں حنائے ناخن پا ہو کہ حلقۂ سر زلف چھپاؤ بھی تو یہ جادو نکل ہی آتے ہیں جناب شیخ وضو کے لیے سہی لیکن کسی بہانے لب جو نکل ہی آتے ہیں متاع عشق وہ آنسو جو دل میں ڈوب گئے زمیں کا رزق جو آنسو نکل ہی آتے ہیں

غزل · Ghazal

vo mile to be-takalluf na mile to be-iraada

وہ ملے تو بے تکلف نہ ملے تو بے ارادہ نہ طریق آشنائی نہ رسوم جام و بادہ تری نیم کش نگاہیں ترا زیر لب تبسم یونہی اک ادائے مستی یونہی اک فریب سادہ وہ کچھ اس طرح سے آئے مجھے اس طرح سے دیکھا مری آرزو سے کم تر مری تاب سے زیادہ یہ دلیل خوش دلی ہے مرے واسطے نہیں ہے وہ دہن کہ ہے شگفتہ وہ جبیں کہ ہے کشادہ وہ قدم قدم پہ لغزش وہ نگاہ مست ساقی یہ تراش زلف سرکش یہ کلاہ کج نہادہ

غزل · Ghazal

daagh siine pe jo hamaare hain

داغ سینے پہ جو ہمارے ہیں گل کھلائے ہوئے تمہارے ہیں ربط ہے حسن و عشق میں باہم ایک دریا کے دو کنارے ہیں کوئی جدت نہیں حسینوں میں سب نے نقشے ترے اتارے ہیں تیری باتیں ہیں کس قدر شیریں تیرے لب کیسے پیارے پیارے ہیں جس طرح ہم نے راتیں کاٹی ہیں اس طرح ہم نے دن گزارے ہیں

Similar Poets