"likh ke rakh deta huun alfaz sabhi kaghaz par lafz khud bol ke tasir bana lete hain"

Mohammad Mustahsan Jami
Mohammad Mustahsan Jami
Mohammad Mustahsan Jami
Sherشعر
See all 67 →likh ke rakh deta huun alfaz sabhi kaghaz par
لکھ کے رکھ دیتا ہوں الفاظ سبھی کاغذ پر لفظ خود بول کے تاثیر بنا لیتے ہیں
ik karb ka mausam hai jo daa.im hai abhi tak
اک کرب کا موسم ہے جو دائم ہے ابھی تک اک ہجر کا قصہ کہ مکمل نہیں ہوتا
ham talvar uTha nahin paa.e
ہم تلوار اٹھا نہیں پائے ہم آواز اٹھا سکتے تھے
hamare purkhon ne juute ki nok par rakkhi
ہمارے پرکھوں نے جوتے کی نوک پر رکھی ہمارے پاس بھی دنیا تبھی نہیں آتی
dastak dene vaale tujh ko ilm nahin
دستک دینے والے تجھ کو علم نہیں دروازے کے دونوں جانب تالا ہے
rang badla hua tha phulon ka
رنگ بدلا ہوا تھا پھولوں کا تم یقیناً اداس گزرے تھے
Popular Sher & Shayari
134 total"ik karb ka mausam hai jo daa.im hai abhi tak ik hijr ka qissa ki mukammal nahin hota"
"ham talvar uTha nahin paa.e ham avaz uTha sakte the"
"hamare purkhon ne juute ki nok par rakkhi hamare paas bhi duniya tabhi nahin aati"
"dastak dene vaale tujh ko ilm nahin darvaze ke donon janib taala hai"
"rang badla hua tha phulon ka tum yaqinan udaas guzre the"
mujhe khabar hai kyaa kuchh hai buniyaadon mein
teri basti kaa pahlaa mazdur thaa main
meri khvaahish hai ki ji bhar ke use dekh to luun
hijr ke mumkina sadmaat se pahle pahle
main use yaksui se paDh hi nahin paayaa kabhi
zindagi ke lafz mein kitne jahaan aabaad the
ghurbat kaa ehsaan thaa ham par
ik thaali mein khaa sakte the
lafz aur aavaaz donon kho gae
mujh se haq chhinaa gayaa hai baat kaa
ik karb kaa mausam hai jo daaim hai abhi tak
ik hijr kaa qissa ki mukammal nahin hotaa
Ghazalغزل
sunaa kisi ne na girya-e-mukhtasar hamaaraa
سنا کسی نے نہ گریۂ مختصر ہمارا ہوا ہے چھلنی چھنن چھنن سے جگر ہمارا یہ زرد وحشت ہمارے باطن میں رس گئی ہے طویل مدت سے ہم پہ حاوی ہے ڈر ہمارا ترے قبیلے سے جنگ لڑ کے شہید ہوں گے کٹا ہوا ہی ملے گا تجھ کو یہ سر ہمارا سبھی منازل پہ جا کے واپس پلٹ رہے ہیں کہ رائیگاں جا رہا ہے ہر اک سفر ہمارا چہار جانب پہاڑ مستی سے جھومتے ہوں حسین شاداب وادیوں میں ہو گھر ہمارا ہوئی نہیں ہے کسی طرف سے بھی اجنبیت ہوا تھا ان جنگلوں سے پہلے گزر ہمارا خبر ملی ہے وفا کی سرحد پہ مر گیا ہے وہ اک سپاہی جو تھا بہت معتبر ہمارا کریں تو کس طرح بات اشعار پہ ہمارے کھلا نہیں ہے کسی پہ اب تک ہنر ہمارا
kiyaa hai hijr mein daaman ko taar aahista-aahista
کیا ہے ہجر میں دامن کو تار آہستہ آہستہ ہوا ہوں ایک سے میں بے شمار آہستہ آہستہ ہم اہل ہجر وحشت میں کبھی مسکن نہ بدلیں گے اٹھا لیں گے تمناؤں کا بار آہستہ آہستہ بھلے جیسی بھی مشکل ہو صفوں میں منتظر رہنا وہ کرتے ہیں غلاموں کو شمار آہستہ آہستہ یہاں پہ سبزہ و گل مستقل بالکل نہیں رہتے مرے گلشن میں آتی ہے بہار آہستہ آہستہ ابھی ان پہ تسلط ہے عجب دنیائے وحشت کا پلٹ آئیں گے تیرے جاں نثار آہستہ آہستہ ہماری زندگانی کرب کے عالم میں گزری ہے ہمیں ہجرت کے لمحوں سے گزار آہستہ آہستہ مری اس گریہ و زاری کا جامیؔ خاص مقصد ہے بچھڑتے جا رہے ہیں میرے یار آہستہ آہستہ
khushbu hai agar yaar to khushbu pe fidaa main
خوشبو ہے اگر یار تو خوشبو پہ فدا میں وہ حسن چراغوں کا چراغوں کی ضیا میں کرتا ہوں سفر گزرے زمانوں کا شب و روز رہتا نہیں اک لمحہ بزرگوں سے جدا میں دنیا کے جزیروں میں ترا بھید نہ پایا حالانکہ خلاؤں میں بھی ہر سمت گیا میں شاید کوئی زرخیز بھنور یاد کا ابھرا کل رات کسی آنکھ سے بہتا ہی رہا میں مارے ہیں غم زیست نے پر درد طمانچے لیکن کسی منزل پہ نہیں تھک کے گرا میں حیرت کی نگاہوں سے سبھی دیکھ رہے تھے جب کوچۂ جاناں میں گیا بن کے گدا میں جامیؔ مری گفتار کسی پر نہ کھلی تھی سب لوگ پرانے تھے فقط ایک نیا میں
jab peDon ki khidmat par maamur thaa main
جب پیڑوں کی خدمت پر مامور تھا میں جامیؔ پورے جنگل میں مشہور تھا میں مجھے خبر ہے کیا کچھ ہے بنیادوں میں تیری بستی کا پہلا مزدور تھا میں کچھ نہ کچھ تو فاصلہ تھا جو ماپا گیا چاہے پاس تھا چاہے تجھ سے دور تھا میں ایک سنہرے نور نے مجھ میں رنگ بھرے مجھ میں کوئی رنگ نہ تھا بے نور تھا میں سوچ رہا ہوں کتنا روشن منظر تھا تو ذاکر تھا اور جہاں مذکور تھا میں سر پہ جب تک ماں کا دست شفقت تھا رب شاہد ہے ہر اک دکھ سے دور تھا میں تیری ایک نظر سے میں تبدیل ہوا عشق سے پہلے حد درجہ مغرور تھا میں
ik main huun jo hotaa nahin divaana-e-duniyaa
اک میں ہوں جو ہوتا نہیں دیوانۂ دنیا ہے راس ہر اک شخص کو ویرانۂ دنیا سب عارضی لذات کے دیوانے ہوئے ہیں اک روز کبھی دیکھیے مے خانہ دنیا بنیاد میں جس چیز کے ہیں مادی عناصر آباد بھلا کیسے ہو وہ خانۂ دنیا درویش ہوں اور دور ہی رہتا ہوں ہمیشہ سو مجھ کو میسر نہیں کاشانۂ دنیا دنیاوی خرافات سے نفرت تھی ازل سے میں سن نہیں پایا کبھی افسانۂ دنیا
is kaifiyat ki koi nahin hai khabar mujhe
اس کیفیت کی کوئی نہیں ہے خبر مجھے یہ کون کر رہا ہے مسلسل بسر مجھے راس آ گیا ہے دشت کا پیہم سفر مجھے رہنا ہے اس دیار میں اب عمر بھر مجھے بکھراؤ اپنی ذات کا مجھ کو پسند ہے جتنا بھی ٹوٹ جاؤں سمیٹا نہ کر مجھے اپنی تو کوئی سمت نہیں راستہ نہیں جانا ہے تیرے ساتھ تو لے جا جدھر مجھے حالت کو میری دیکھ پریشان یوں نہ ہو حیراں کھڑے ہیں دیکھ کے سب نقش گر مجھے اس کے سوا کوئی بھی ٹھکانہ نہیں مرا باہو سخی کا یاد ہے ہر پل نگر مجھے





