SHAWORDS
M

Munawar Khan Ghafil

Munawar Khan Ghafil

Munawar Khan Ghafil

poet
32Sher
32Shayari
17Ghazal

Sherشعر

See all 32

Popular Sher & Shayari

64 total

Ghazalغزل

See all 17
غزل · Ghazal

chashm-e-khunbaar saa barse na kabhu paani ek

چشم خونبار سا برسے نہ کبھو پانی ایک ابر ہر چند کرے اپنا لہو پانی ایک شست و شو نامۂ اعمال کی جس سے ہوئے برس اے ابر کرم مجھ پہ وہ تو پانی ایک لاکھ پانی سے میں دھویا نہ چھٹا زخم کا خون کام آیا نہ مرے وقت رفو پانی ایک آج تک اشک مری آنکھ سے گرتے ہیں سفید ظرف میں اپنے یہ رکھتا ہے سبو پانی ایک تا کمر ابر مژہ اپنا تو برسا سو بار نہ ہوا موج زناں تابہ گلو پانی ایک ہم تری چال سے دل کیونکہ نہ ہاریں اس اے چرخ بازی دشوار ہے تجھ سے تو عدو پانی ایک بازیٔ مرغ میں بھی ہار رہی غافلؔ کی تجھ سے جیتا نہ وہ اے عربدہ جو پانی ایک

غزل · Ghazal

har uzv-e-badan ek se hai ek tiraa khuub

ہر عضو بدن ایک سے ہے ایک ترا خوب سینے کی صفائی سے ہے چہرے کی صفا خوب قاصد کے بدن پر الف زخم لگے ہیں خط کا مرے لکھا یہ جواب آپ نے کیا خوب آگاہ نہیں ہے کوئی احوال سے میرے جو مجھ پہ گزرتی ہے وہ جانے ہے خدا خوب بن بن کے دہن حلقۂ گیسوئے مسلسل لوٹے ہے ترے بوسۂ عارض کا مزا خوب ابتر ہوا جو شعر کہا زلف کا تیری باندھا کوئی مضمون حنا کا تو بندھا خوب مدفوں کیا تیری ہی گلی میں اسے آخر پائی ترے عاشق نے پس مرگ بھی جا خوب دو چار ہی شب ماہ تو رہتا ہے نہفتہ مدت ہوئی دیکھا نہیں وہ ماہ چھپا خوب شربت کے عوض سودۂ الماس پلایا کی آپ نے بیمار محبت کی دوا خوب رک رک کے جو دم نکلے ہے مذبوح کا تیرے کیا خنجر خونخوار ترا تیز نہ تھا خوب مغرور نہ ہونا کرم یار پہ غافلؔ پائے گا ابھی دل کے لگانے کی سزا خوب

غزل · Ghazal

ye kaun saa parvaana muaa jal ke lagan mein

یہ کون سا پروانہ موا جل کے لگن میں حیرت سے جو ہے شمع کی انگشت دہن میں کہتے ہیں اسے چاہ زنخداں غلطی سے بوسے کا نشاں ہے یہ ترے سیب ذقن میں وہ آئنہ تن آئنہ پھر کس لیے دیکھے جو دیکھ لے منہ اپنا ہر اک عضو بدن میں وہ صبح کو اس ڈر سے نہیں بام پر آتا نامہ نہ کوئی باندھ دے سورج کی کرن میں مضموں نہیں لکھتے ہم اسے داغ جگر کا رکھ دیتے ہیں لالے کی کلی خط کی شکن میں یہ گرد کدورت سے پس مرگ تھا دل صاف دھبا نہ لگا خاک کا بھی میرے کفن میں زنداں میں اسیروں سے یہ کہتا تھا مہ مصر غربت ہی میں آرام ملا اور نہ وطن میں

غزل · Ghazal

shaana to chhuTaa zulf-e-pareshaan se ulajh kar

شانہ تو چھٹا زلف پریشاں سے الجھ کر سلجھا نہ یہ دل کاکل پیچاں سے الجھ کر لیتا ہے خبر کون اسیران بلا کی مر مر گئے تاریکیٔ زنداں سے الجھ کر زوروں پہ چڑھا ہے یہ مرا پنجۂ وحشت دامن سے الجھتا ہے گریباں سے الجھ کر دیوانے خط‌ و زلف کے سودے کی لہر میں کیا کیا نہ بکے سنبل و ریحاں سے الجھ کر آثار قیامت کہیں جلدی ہو نمایاں گھبرائے ہے جی اب شب ہجراں سے الجھ کر ڈرتا ہوں کہیں تاب نزاکت سے نہ کھاوے موئے کمر اس زلف پریشاں سے الجھ کر سو پیچ میں آیا ہے ہمارا دل صد چاک شانہ کی طرح کاکل پیچاں سے الجھ کر گرداب بلا میں دل عاشق کو پھنسایا بالی نے تری زلف پریشاں سے الجھ کر طے کر گئے سب کعبۂ مقصود کی منزل اک رہ گئے ہم نخل مغیلاں سے الجھ کر دوڑا ہوا جاتا ہے رقیب اس کی گلی کو یا رب یہ گرے رستے میں داماں سے الجھ کر جذب دل مجنوں نے کیا کام جو اپنا ناقہ نہ رکا خار بیاباں سے الجھ کر یا رب میں اسے دیکھوں اگر دیدۂ‌ بد سے رہ جائے نظر پنجۂ مژگاں سے الجھ کر اے تیر فگن بس ہے یہی مجھ کو تمنا چھوٹے نہ رگ جاں ترے پیکاں سے الجھ کر مت بحث رقیبان کج اندیش سے غافلؔ بے قدر نہ ہو ایسے سفیہاں سے الجھ کر

غزل · Ghazal

tegh-e-pur-khun vo agar dhoe kanaar-e-dariyaa

تیغ پر خوں وہ اگر دھوئے کنار دریا خندہ زن رنگ چمن پر ہو بہار دریا عطش عشق کی لذت یہ ملی ہے ہم کو جا گریں آگ میں اور ہوں نہ دوچار دریا درۂ موج لگاتا ہے اسے بے تقصیر کیوں نہ ہو لاشہ مرا شکوہ گزار دریا سرخیٔ عکس شفق پر جو پڑا لب کا گماں لعل‌ و یاقوت کیے ہم نے نثار دریا نخل خواہش جو نہیں ہوتا ہے اس سے سرسبز گریہ کرتا ہے مرا خندہ بہ کار دریا مچھلیاں لخت جگر بنتی ہیں دریا آنسو کس گل تر کو ہوا شوق شکار‌ دریا کیا گل اندام کوئی اس میں نہایا تھا جو آج رگ گل سے ہیں معطر خس و خار دریا کس کی زلف عرق افشاں کا تصور ہے انہیں لپٹے ہی جاتے ہیں بہروں سے جو مار دریا سیل‌ آفات میں تن دیتے ہیں جو اے غافلؔ مثل‌ خاشاک وہ رہتے ہیں سوار دریا

غزل · Ghazal

ham faqiron kaa sune gar zikr-e-arra faakhta

ہم فقیروں کا سنے گر ذکر ارہ فاختہ اپنی کو‌ کو پر کرے ہرگز نہ غرہ فاختہ جل کے خاکستر ابھی ہو جائے تو اک آن میں گر ترے دل میں ہو سوز عشق ذرہ فاختہ چشم تر سے اپنی تو سیراب رکھ شمشاد کو یاں درخت خشک پر چلتا ہے ارہ فاختہ جامۂ خاکستری سے تیرے یہ ثابت ہوا اپنی درویشی کا ہے تجھ بھی غرہ فاختہ جس پر اس ماہ تمامی پوش کا سایہ پڑے باغ میں وہ سرو ہو رشک‌ محرہ فاختہ عشق مژگاں نے بھی تو کھینچا ہے دار سرو پر یاد ابرو میں اگر ہے زیر ارہ فاختہ مرغ‌ بستانی کا اس کے سامنے دم بند ہے نغمہ‌ سنجی میں نہ کر غافلؔ سے غرہ فاختہ

Similar Poets