SHAWORDS
Mustafa Shahab

Mustafa Shahab

Mustafa Shahab

Mustafa Shahab

poet
22Shayari
21Ghazal

Popular Shayari

22 total

Ghazalغزل

See all 21
غزل · Ghazal

قدم قدم پر تمہاری یوں تو عنایتیں بھی بہت ہوئی ہیں مجھے مری بے نیازیوں پر ندامتیں بھی بہت ہوئی ہیں یہ مت سمجھنا کہ آنسوؤں ہی سے بھیگ جاتی ہیں اس کی پلکیں کہ بارہا چشم نم سے اس کی کرامتیں بھی بہت ہوئی ہیں عجب تماشا ہے ظلم سہہ کر بھی سارے مظلوم مطمئن ہیں انہیں کی جانب سے قاتلوں کی ضمانتیں بھی بہت ہوئی ہیں محبتوں میں خموشیاں ہی جواب ہوتی ہیں معترض کا اگرچہ کچھ بے ارادہ مجھ سے وضاحتیں بھی بہت ہوئی ہیں ہوئی ہے اظہار آرزو میں خطائے تاخیر اس لیے بھی رہ تمنا اجالنے میں طوالتیں بھی بہت ہوئی ہیں شہابؔ ساحل سے باندھ رکھو ابھی پرانی وہ ناؤ اپنی کہ جس پہ طوفانی ندیوں میں مسافتیں بھی بہت ہوئی ہیں

qadam qadam par tumhaari yuun to inaayatein bhi bahut hui hain

غزل · Ghazal

اک شمع کا سایہ تھا کہ محراب میں ڈوبا اک میں کہ ترے ہجر کے گرداب میں ڈوبا میری شب تاریک کا چہرہ ہوا روشن سورج سا کوئی شام کو مہتاب میں ڈوبا ہے دیدۂ بے خواب مرا کتنا فریبی جب دیکھیے لگتا ہے کسی خواب میں ڈوبا دل تھا کہ کوئی کھیل میں پھینکا ہوا پتھر موجوں سے جو لڑتا ہوا تالاب میں ڈوبا کھلتا ہے فقط اتنا وہ از راہ مروت ملتا ہے مگر مجلسی آداب میں ڈوبا پاتال کی گہرائی سے ابھرا مرا آنسو چپکے سے پھر اک کوزۂ بے آب میں ڈوبا تھا جس کا فلک بوس فصیلوں میں تحفظ وہ گھر بھی مرا وقت کے سیلاب میں ڈوبا

ik shama kaa saaya thaa ki mehraab mein Duubaa

غزل · Ghazal

پھول نے مرجھاتے مرجھاتے کہا آہستہ سے ہو رہی ہے مجھ سے خوشبو بھی جدا آہستہ سے قربتیں تھیں پھر بھی لگتا ہے ہمارے درمیاں آ کے حائل ہو گیا اک فاصلہ آہستہ سے اک معمہ ہے چمن سے اس پرندے کا سفر شام کو جو آشیاں سے اڑ گیا آہستہ سے رکھ لیا ضدی انا نے پھر مرے سر کا وقار اونچا نیزے کی انی پر کر دیا آہستہ سے بہتے بہتے جب روانی میں کمی آئی شہابؔ ریت پر سر رکھ کے دریا سو گیا آہستہ سے

phuul ne murjhaate murjhaate kahaa aahista se

غزل · Ghazal

اسے دیکھا تو ہر بے چہرگی کاسہ اٹھا لائی تمنا اپنے خالی ہاتھ میں دنیا اٹھا لائی مجھے تو اپنی ساری کھیتیاں سیراب کرنی تھیں مگر وہ موج اپنے ساتھ اک صحرا اٹھا لائی رفاقت کو مری تنہائی بھولی بسری یادوں سے کوئی سایہ اٹھا لائی کوئی چہرہ اٹھا لائی انہیں خوشبو کی چاہت میں بہت نرمی سے چھونا تھا ہوائے شام تو پھولوں کی کوملتا اٹھا لائی وہاں تو آب شیریں کی کئی لبریز جھیلیں تھیں تو پھر کیوں تشنگی میری مجھے پیاسا اٹھا لائی کبھی ان وادیوں میں دور تک رستے فروزاں تھے شہابؔ اک سر پھری موج ہوا کہرا اٹھا لائی

use dekhaa to har be-chehragi kaasa uThaa laai

غزل · Ghazal

کسی نے بھی اسے دیکھا نہیں ہے وہ اک احساس ہے چہرہ نہیں ہے مری جو سانس آ کر جا رہی ہے تو کیا یہ جان کا جانا نہیں ہے عجب شہر انا میں جی رہا ہوں کسی کے پاس آئینا نہیں ہے مجھے جو لوگ رستہ دے رہے ہیں انہیں خود راستہ ملتا نہیں ہے اکیلا سا جو ہے اک شخص باہر وہ مجھ میں ہے مگر تنہا نہیں ہے محبت ہے شہابؔ اک اسم اعظم در دل خود ہی وا ہوتا نہیں ہے

kisi ne bhi use dekhaa nahin hai

غزل · Ghazal

دل اک دنیا بسا لیتا ہے گر کوئی نہیں آتا فقط محسوس کرتا ہے نظر کوئی نہیں آتا خبر اچھی بری تازہ پرانی ہو نہ ہو پھر بھی ہماری محفلوں میں بے خبر کوئی نہیں آتا جو پیچھے چھوڑ آئے ہیں اسی پہ لوٹ جائیں گے کھلے گا جب کہ ان رستوں پہ گھر کوئی نہیں آتا کبھی شاطر سے شاید اس لیے بھی جیت سکتا ہوں کہ مجھ کو چال چلنے کا ہنر کوئی نہیں آتا برے وقتوں نے ایسا گھیر رکھا ہے کہ برسوں سے ادھر اچھے دنوں کا نامہ بر کوئی نہیں آتا گزر جاؤ شہابؔ اس پر خطر کانٹوں کے جنگل سے کہ اس کے بعد پھر ایسا سفر کوئی نہیں آتا

dil ik duniyaa basaa letaa hai gar koi nahin aataa

Similar Poets