SHAWORDS
Naresh Kumar Shad

Naresh Kumar Shad

Naresh Kumar Shad

Naresh Kumar Shad

poet
16Shayari
13Ghazal

Popular Shayari

16 total

Ghazalغزل

See all 13
غزل · Ghazal

ناروا ہے کسی کی ہم راہی راہ میں جا رہا ہوں تنہا ہی پھر بھی کیسا نفیس دھوکا ہے رنگ و بو ہے اگرچہ دھوکا ہی دل تری یاد میں تڑپتا ہے جیسے بے آب ہو کوئی ماہی فیض ساقی کا عام تھا ہر چند ہم کو رہنا مگر تھا پیاسا ہی آدمی تو فقیر ہی سا ہے ٹھاٹ ہیں شادؔ کے مگر شاہی

naaravaa hai kisi ki hamraahi

1 views

غزل · Ghazal

کون سلگتے آنسو روکے آگ کے ٹکڑے کون چبائے اے ہم کو سمجھانے والے کوئی تجھے کیوں کر سمجھائے جیون کے اندھیارے پتھ پر جس نے تیرا ساتھ دیا تھا دیکھ کہیں وہ کومل آشا آنسو بن کر ٹوٹ نہ جائے اس دنیا کے رہنے والے اپنا اپنا غم کھاتے ہیں کون پرایا روگ خریدے کون پرایا دکھ اپنائے ہائے مری مایوس امیدیں وائے مرے ناکام ارادے مرنے کی تدبیر نہ سوجھی جینے کے انداز نہ آئے اس دنیا کے غم خانے میں غم سے اتنی فرصت کب ہے کون ستاروں کا منہ چومے کون بہاروں میں لہرائے ضبط بھی کب تک ہو سکتا ہے صبر کی بھی اک حد ہوتی ہے پل بھر چین نہ پانے والا کب تک اپنا روگ چھپائے شادؔ وہی آوارہ شاعر جس نے تجھ سے پیار کیا تھا شہروں شہروں گھوم رہا ہے ارمانوں کی لاش اٹھائے

kaun sulagte aansu roke aag ke TukDe kaun chabaae

1 views

غزل · Ghazal

رونق بڑھے گی روئے نشاط جمال کی تھوڑی سی گرد ڈال دو اس پر ملال کی دیتی رہی فریب انہیں بھی تری وفا آغاز میں بھی جن کو خبر تھی مآل کی اب اس مقام پر ہے مری زندگی جہاں کیفیت ایک سی ہے نشاط و ملال کی اللہ رے جذب دید کہ اہل نگاہ سے خود حسن بھیک مانگ رہا ہے جمال کی دل پھر بھی آ گیا غم دوراں کے پھیر میں ہر چند مصلحت نے بڑی دیکھ بھال کی پھولوں کی دل کشی ہو کہ تاروں کی روشنی پرچھائیاں ہیں سب مرے حسن خیال کی

raunaq baDhegi ru-e-nashaat-e-jamaal ki

غزل · Ghazal

ڈوب کر پار اتر گئے ہیں ہم لوگ سمجھے کہ مر گئے ہیں ہم اے غم دہر تیرا کیا ہوگا یہ اگر سچ ہے مر گئے ہیں ہم خیر مقدم کیا حوادث نے زندگی میں جدھر گئے ہیں ہم یا بگڑ کر اجڑ گئے ہیں لوگ یا بگڑ کر سنور گئے ہیں ہم موت کو منہ دکھائیں کیا یا رب زندگی ہی میں مر گئے ہیں ہم ہائے کیا شے ہے نشۂ مے بھی فرش سے عرش پر گئے ہیں ہم آرزوؤں کی آگ میں جل کر اور بھی کچھ نکھر گئے ہیں ہم جب بھی ہم کو کیا گیا محبوس مثل نکہت بکھر گئے ہیں ہم شادمانی کے رنگ محلوں میں شادؔ با چشم تر گئے ہیں ہم

Duub kar paar utar gae hain ham

غزل · Ghazal

کسی کے جور و ستم کا تو اک بہانہ تھا ہمارے دل کو بہر حال ٹوٹ جانا تھا تری نظر نے نئی روح پھونک دی ورنہ ہمارے درد کا قصہ بہت پرانا تھا ہمیں کو بار طرب ناگوار تھا لیکن ہمیں کو شدت غم میں بھی مسکرانا تھا یہ کم شناس تلاطم کسے ڈراتا ہے وہ لوگ ڈوب گئے جن کو ڈوب جانا تھا بجا کہ دیر و حرم بھی قریب تھے لیکن ہماری راہ میں حائل شراب خانہ تھا گناہ سے ہمیں رغبت نہ تھی مگر یارب تری نگاہ کرم کو تو منہ دکھانا تھا

kisi ke jaur-o-sitam kaa to ik bahaana thaa

غزل · Ghazal

ایک دھوکا ہے یہ شب رنگ سویرا کیا ہے یہ اجالا ہے اجالا تو اندھیرا کیا ہے تو مرے غم میں نہ ہنستی ہوئی آنکھوں کو رلا میں تو مر مر کے بھی جی سکتا ہوں میرا کیا ہے ذرے ذرے میں دھڑکتی ہے کوئی شے جیسے تری نظروں نے فضاؤں میں بکھیرا کیا ہے درد دنیا کی تڑپ دل میں مرے رہنے دے تو تو آنکھوں میں بھی رہ سکتی ہے تیرا کیا ہے تنگ ہے شادؔ مرے ذوق کی وسعت کے لیے حلقۂ زلف ہے آفاق کا گھیرا کیا ہے

ek dhokaa hai ye shab-rang saveraa kyaa hai

Similar Poets