SHAWORDS
Qayyum Nazar

Qayyum Nazar

Qayyum Nazar

Qayyum Nazar

poet
4Shayari
15Ghazal

Popular Shayari

4 total

Ghazalغزل

See all 15
غزل · Ghazal

کیوں وہم سا رہتا ہے اس ہونے نہ ہونے کا ہوتے نہ تو کیا ہوتے اور ہوتے تو کیا ہوتے کل آیا نظر جز میں تقصیر یہ تھی کس کی ہوتا نہ خدا بندہ بندے نہ خدا ہوتے منت کش ضبط آہیں محروم صدا نالے کچھ بن نہ پڑا ہم سے راضی بہ رضا ہوتے انجام خدا جانے کیا دیدہ و دل کا ہو خاک سر رہ بنتے نقش کف پا ہوتے

kyon vahm saa rahtaa hai is hone na hone kaa

غزل · Ghazal

ان کو دیکھ کے دل سا مورکھ جب سانچے میں ڈھل جاتا ہے میری بساط تو کیا ہے اک عالم پر جادو چل جاتا ہے اپنا فسانہ یا روداد زمانہ کہتے کب بنتی ہے آنکھوں میں آنسو آتے ہیں خوں کا رنگ بدل جاتا ہے ہوتے ہوتے کون سی مشکل ہے جو نہیں آساں ہو جاتی جیتے جیتے موت کا کانٹا بھی تو جی سے نکل جاتا ہے اب اس عمر میں اور ان حالوں دل کو سمجھانے سے حاصل لاکھ سہی بوسیدہ رسی کب جلنے سے بل جاتا ہے میرؔ سے لے کر میراجیؔ تک عشق کے مارے ہی مرتے ہیں ان ایسے وارفتوں سے تو ورنہ زمانہ چل جاتا ہے

un ko dekh ke dil saa murakh jab saanche mein Dhal jaataa hai

غزل · Ghazal

فریب حسن کی گھاتیں حسیں ہیں محبت میں بھی کیا باتیں حسیں ہیں جمایا رنگ ایسا آنسوؤں نے سمجھتا ہوں کہ برساتیں حسیں ہیں ستارے ٹوٹتے ہیں صورت دل بظاہر چاندنی راتیں حسیں ہیں میسر جو کسی پہلو نہ آئیں وہی ان کی ملاقاتیں حسیں ہیں نہ کیوں دبتی فغاں سرگوشیوں میں دعاؤں سے مناجاتیں حسیں ہیں نظرؔ جن سے شکست زیست دیکھی جوانی کی وہی ماتیں حسیں ہیں

fareb-e-husn ki ghaatein hasin hain

غزل · Ghazal

اب چھوڑ تصور میں مرنا میداں میں نکل آ جینے کو طوفان کے سینے پر کھینا ہے تجھ کو اپنے سفینے کو گرتوں کا سنبھلنا خوب سہی لیکن یہ سنبھلنے کو گرنا حیرت ہے کہ چاہا کیوں تو نے جینے کے ایسے قرینے کو کیوں لرزہ بر اندام ہے یوں پھیلی ہوئی دیکھ کے تاریکی بن صبح کی پہلی روپہلی کرن اور چیر دے رات کے سینے کو پامال چمن میں تیرے اگر آئے تو بہار نو آئے شبنم کی بجائے غنچوں کو تاروں کا لہو دے پینے کو ہر چند پسند ہیں تجھ کو نظرؔ یہ خاک یہ چاک گریباں کے یوں منظر عام پہ لانے سے کیا بربادئ دل کے خزینے کو

ab chhoD tasavvur mein marnaa maidaan mein nikal aa jiine ko

غزل · Ghazal

انجمن میں ان کی دل پر اختیار آساں نہیں مشکلوں کا میری کر لینا شمار آساں نہیں ہر نفس ہے ایک شرح درد ہائے آرزو داستان زندگی کا اختصار آساں نہیں آتشیں آہوں کے تنکوں سے بنا ہے آشیاں خاک کرنا اس کو برق شعلہ بار آساں نہیں توبہ کرتا میکدے میں بیٹھ کر ممکن مگر توبہ پہلو میں ترے جان بہار آساں نہیں کیوں نہ اکسیر محبت دہر میں نایاب ہو دل کا ہونا تیری خاک رہ گزر آساں نہیں ہو گئیں ناکامیاں غارت گر دنیائے یاس موت سے بھی اب تو ہونا ہم کنار آساں نہیں خاک چھانو اب نظرؔ دشت جنون عشق کی حسن کی دنیا میں رہنا ہوشیار آساں نہیں

anjuman mein un ki dil par ikhtiyaar aasaan nahin

غزل · Ghazal

تیری نگہ سے تجھ کو خبر ہے کہ کیا ہوا دل زندگی سے بار دگر آشنا ہوا اک اک قدم پہ اس کے ہوا سجدہ ریز میں گزرا تھا جس جہاں کو کبھی روندتا ہوا دیکھا تجھے تو آرزوؤں کا ہجوم تھا پایا تجھے تو کچھ نہ تھا باقی رہا ہوا دشت جنوں میں ریگ رواں سے خبر ملی پھرتا رہا ہے تو بھی مجھے ڈھونڈھتا ہوا احساس نو نے زیست کا نقشہ بدل دیا محرومیوں کا یوں تو چمن ہے کھلا ہوا چمکا ہے بن کے سرو چراغاں تمام عمر کیا آنسوؤں کا تار تھا تجھ سے بندھا ہوا بکھرے ہیں زندگی کے کچھ اس طرح تار و پود ہر ذرہ اپنے آپ میں محشر نما ہوا پوچھو تو ایک ایک ہے تنہا سلگ رہا دیکھو تو شہر شہر ہے میلہ لگا ہوا پردہ اٹھا سکو تو جگر تک گداز ہے چاہو کہ خود ہو یوں تو ہے پتھر پڑا ہوا انسان دوستی کے تقاضوں کا سلسلہ انسان دشمنی کی حدوں سے ملا ہوا اقدار کے فریب میں اب آ چکا نظرؔ کشتی ڈبو گیا جو خدا، ناخدا ہوا

teri nigah se tujh ko khabar hai ki kyaa huaa

Similar Poets