SHAWORDS
Ravish Siddiqi

Ravish Siddiqi

Ravish Siddiqi

Ravish Siddiqi

poet
18Shayari
10Ghazal

Popular Shayari

18 total

Ghazalغزل

See all 10
غزل · Ghazal

کون کہتا مجھے شائستۂ تہذیب جنوں میں تری زلف پریشاں کو اگر چھیڑ نہ دوں کون حسرت زدۂ شوق تکلم ہے یہاں لڑکھڑاتا ہے تری چشم سخن گو کا فسوں یہ ہجوم غم دوراں میں کہاں یاد رہا داستان غم دل تیرے تغافل سے کہوں کیا خبر خیمۂ لیلےٰ کے نگہبانوں کو کہ حریم دل لیلےٰ میں ہے مہمان جنوں رنگ رہ رہ کے ترے رخ کا اڑا جاتا ہے ورنہ میں اور تری محفل تمکیں سے اٹھوں قید ہستی میں یہ اک گوشۂ دامان خیال پھر غنیمت ہے کہ زنداں میں بھی آزاد تو ہوں ہو سلیقے سے بہکنا تو مزہ دیتا ہے مرے ساقی کو گماں ہے کہ بہت ہوش میں ہوں جستجو کی کوئی منزل جو نہیں ہے تو نہ ہو ہمت عشق یہ کہتی ہے کہ بڑھتا ہی رہوں اب ترے حال پہ تجھ کو دل ناداں چھوڑا سوچنا بھی تو قیامت ہے کہاں تک سوچوں میں نے پہچان لیا اس کو سر بزم روشؔ اس کی آنکھوں کو ہے اصرار کہ خاموش رہوں

kaun kahtaa mujhe shaaista-e-tahzib-e-junun

2 views

غزل · Ghazal

چلا ہے لے کے مجھے ذوق جستجو میرا اب انتظار کر اے جان آرزو میرا میں بن سکا نہ تیرا یہ بجا سہی لیکن کسی کو کیوں یہ گماں ہو نہیں ہے تو میرا ہوائے دشت بہت دور لے گئی اکثر نہیں اسیر چمن ذوق رنگ و بو میرا شکست دل کی تلافی نظر سے کیا ہوگی ٹپک پڑے نہ تری آنکھ سے لہو میرا مری غزل کے لیے کون منتظر ہے روشؔ پہنچ گیا ہے کہاں شوق گفتگو میرا

chalaa hai le ke mujhe zauq-e-justuju meraa

1 views

غزل · Ghazal

عمر ابد سے خضر کو بے زار دیکھ کر خوش ہوں فسون نرگس بیمار دیکھ کر کیا جلوہ‌ گاہ حسرت نظارہ ہے بہشت حیراں ہوں صورت در و دیوار دیکھ کر بادہ بقدر ظرف سہی رسم مے کدہ ساقی نزاکت‌ دل مے خوار دیکھ کر اب جستجوئے دوست کی منزل کہیں بھی ہو ہم چل پڑے ہیں راہ کو دشوار دیکھ کر شایان جرم عشق نہ تھی قید زندگی جی شاد ہو گیا رسن و دار دیکھ کر اب اس سے کیا غرض یہ حرم ہے کہ دیر ہے بیٹھے ہیں ہم تو سایۂ دیوار دیکھ کر اب حشر تک حجاب نشیں ہے نگاہ شوق چھپنا تھا رنگ حسرت دیدار دیکھ کر راز فروغ آخر شب کچھ نہ کھل سکا کیوں خوش ہے شمع صبح کے آثار دیکھ کر ساز غزل اٹھا ہی لیا ہم نے اے روشؔ اس چشم نیم باز کا اصرار دیکھ کر

umr-e-abad se khizr ko be-zaar dekh kar

1 views

غزل · Ghazal

خواب دیدار نہ دیکھا ہم نے غائبانہ انہیں چاہا ہم نے کم نہ تھا عشق ازل سے رسوا کر دیا اور بھی رسوا ہم نے زندگی محو خود آرائی تھی آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھا ہم نے راہ سے دور نظر آئے جو خار ان کو پلکوں سے اٹھایا ہم نے لے لیا کوہ حوادث سر پر وقت کے دل کو نہ توڑا ہم نے کر دیا فاش ترا غم لے کر راز اعجاز مسیحا ہم نے کوہ سنگین حقائق تھا جہاں حسن کا خواب تراشا ہم نے درد آلودۂ درماں تھا روشؔ درد کو درد بنایا ہم نے

khvaab-e-didaar na dekhaa ham ne

1 views

غزل · Ghazal

سکوں ہے ہمنوائے اضطراب آہستہ آہستہ محبت ہو رہی ہے کامیاب آہستہ آہستہ عجب عالم ہے آغاز سرور عشق کا عالم اٹھے جیسے افق سے ماہتاب آہستہ آہستہ سرشک غم کبھی شمع جدائی کو بجھا دیں گے یہی تارے بنیں گے آفتاب آہستہ آہستہ خراب نرگس ستانا آخر ہو گیا زاہد رسا ہوتی ہے تاثیر شراب آہستہ آہستہ نشاط آرزو خواب تمنا درد محرومی محبت نے اٹھائے سب حجاب آہستہ آہستہ بہ ہر عنواں مسلسل چھیڑ ہے اب ان کے جلووں سے بہک نکلی نگاہ باریاب آہستہ آہستہ روشؔ راز محبت آج بھی ہے راز لا ینحل غلط ثابت ہوئے سارے جواب آہستہ آہستہ

sukun hai hamnavaa-e-iztiraab aahista aahista

1 views

غزل · Ghazal

نقاب شب میں چھپ کر کس کی یاد آئی سمجھتے ہیں اشارے ہم ترے اے شمع تنہائی سمجھتے ہیں نہ سمجھیں بات واعظ کی ہم اتنے بھی نہیں ناداں کہاں تک ہے بساط عقل و دانائی سمجھتے ہیں توجہ پھر توجہ ہے مگر ہم تیرے دیوانے تغافل کو بھی اک انداز رعنائی سمجھتے ہیں ہمیں نا آشنا سمجھو نہ رسم و راہ منزل سے کہاں لے جا رہا ہے ذوق رسوائی سمجھتے ہیں ہم ایسے سرپھروں کو کام کیا ہے مرگ و ہستی سے یہ سب ہے شوخئ ناز مسیحائی سمجھتے ہیں ہم اے خلوت نشیں آخر میں تیرے دیکھنے والے یہ کیوں ہے اہتمام محفل آرائی سمجھتے ہیں ردائے پاکی و تقویٰ کی عظمت میں تو کیا شک ہے روشؔ ہم تو غبار کوئے رسوائی سمجھتے ہیں

naqaab-e-shab mein chhup kar kis ki yaad aai samajhte hain

1 views

Similar Poets