SHAWORDS
Syed Amin Ashraf

Syed Amin Ashraf

Syed Amin Ashraf

Syed Amin Ashraf

poet
15Sher
15Shayari
36Ghazal

Sherشعر

See all 15

Popular Sher & Shayari

30 total

Ghazalغزل

See all 36
غزل · Ghazal

be-lutf hai ye soch ki saudaa nahin rahaa

بے لطف ہے یہ سوچ کہ سودا نہیں رہا آنکھیں نہیں رہیں کہ تماشا نہیں رہا دنیا کو راس آ گئیں آتش پرستیاں پہلے دماغ لالہ و گل تھا نہیں رہا فرصت کہاں کہ سوچ کے کچھ گنگنایئے کوئی کہیں ہلاک تمنا نہیں رہا اونچی عمارتوں نے تو وحشت خرید لی کچھ بچ گئی تو گوشۂ صحرا نہیں رہا دل مل گیا تو وہ اتر آیا زمین پر آہٹ ملی قدم کی تو رستہ نہیں رہا گرداب چیختا ہے کہ دریا اداس ہے دریا یہ کہہ رہا ہے کنارا نہیں رہا مٹی سے آگ آگ سے گل گل سے آفتاب تیرا خیال شہپر تنہا نہیں رہا باطل یہ اعتراض کہ تجھ سے لپٹ گیا مجھ کو نشے میں ہوش کسی کا نہیں رہا اک بار یوں ہی دیکھ لیا تھا خرام ناز پھر لب پہ نام سرو و سمن کا نہیں رہا

غزل · Ghazal

ru-e-khandaan rag-e-jaan dida-e-giryaan jaise

روئے خنداں رگ جاں دیدۂ گریاں جیسے قفس رنگ ہے یہ عالم امکاں جیسے نشۂ شعر اڑائے لیے جاتا ہے مجھے جیسے رہوار صبا تخت سلیماں جیسے آرزو ہی سے ہے ہنگامۂ عالم سارا آرزو ہی سے ہے دل طفلک ناداں جیسے آنچ بھی آتی ہے خوش پیرہنی سے اکثر کہیں روئیدگیٔ شعلہ ہو پنہاں جیسے شام تنہائی کلید در نظارا ہے جیسے مژگان‌ سیہ ابروئے جاناں جیسے حرف سادہ ورق نم سخن خود رفتہ دل ہے یا میر تقی میرؔ کا دیواں جیسے بے روا بے سر و پا ایک الم ناک صدا زندگی قافلۂ شام غریباں جیسے بوڑھے برگد کے تلے سوچ میں گم مرد فقیر آنے والا ہے کہیں سے کوئی طوفاں جیسے

غزل · Ghazal

laraz rahaa thaa falak arz-e-haal aisaa thaa

لرز رہا تھا فلک عرض حال ایسا تھا شکستگی میں زمیں کا سوال ایسا تھا کمال ایسا کہ حیرت میں چرخ نیلی فام شجر اٹھا نہ سکا سر زوال ایسا تھا کسی وجود کی کوئی رمق نہ ہو جیسے دراز سلسلۂ ماہ و سال ایسا تھا کھلا ہوا تھا بدن پر جراحتوں کا چمن کہ زخم پھیل گیا اندمال ایسا تھا کبھی یہ تخت سلیماں کبھی صبا رفتار نشہ چڑھا تو سمند خیال ایسا تھا گھرے ہوئے تھے جو بادل برس کے تھم بھی گئے بچھا ہوا تھا جو تاروں کا جال ایسا تھا کبھی وہ شعلۂ گل تھا کبھی گل شعلہ مزاج حسن میں کچھ اعتدال ایسا تھا وہ آنکھیں قہر میں بھی کر گئیں مجھے شاداب فروغ بادہ میں رنگ جمال ایسا تھا کسی سے ہاتھ ملانے میں دل نہیں ملتا طلب میں شائبہ احتمال ایسا تھا

غزل · Ghazal

safar ke tajrabon mein gard-e-paa bhi aa hi jaati hai

سفر کے تجربوں میں گرد پا بھی آ ہی جاتی ہے مگر اس پیچ و خم سے کچھ جلا بھی آ ہی جاتی ہے جو چلتا ہوں فلک سے خوں کے فوارے برستے ہیں جو رکتا ہوں سموم فتنہ زا بھی آ ہی جاتی ہے خرد کی سانس بھی رک جاتی ہے تیرہ خیالی سے تہہ احساس نادیدہ بلا بھی آ ہی جاتی ہے جو پودے صحن میں کھلتے ہیں ان کو دھوپ لگتی ہے درختوں سے تر و تازہ ہوا بھی آ ہی جاتی ہے ہرے رہ جائیں گے جاں دار پتے زرد موسم میں خزاں بختی میں جینے کی ادا بھی آ ہی جاتی ہے انہیں سے قریۂ جاں میں وفور درد ہوتا ہے انہیں نظروں میں تاثیر شفا بھی آ ہی جاتی ہے

غزل · Ghazal

shauq-e-vaarafta ko malhuz-e-adab bhi hogaa

شوق وارفتہ کو ملحوظ ادب بھی ہوگا شرط ہے مال عرب پیش عرب بھی ہوگا لب و رخسار میں ہوگی گل و مہتاب کی بات آنکھ میں تذکرۂ بنت عنب بھی ہوگا مان لیتا ہے مری بات مرا حیلہ طراز اور سب وعدوں میں اک وعدۂ شب بھی ہوگا عشق وہ شے ہے کہ برفیلے نہاں خانوں میں سرد پڑ جائے شرر بار تو جب بھی ہوگا بے تعلق ہی سہی یہ مگر اس شخص کے پاس دل جو لگتا ہے تو لگنے کا سبب بھی ہوگا ہر گلی شہر کی غالیچۂ عشاق نہیں خون ناحق ہے تو پھر داد طلب بھی ہوگا قہر درویش تو ہوتا ہے بہ جان درویش زیر فرمان جو ہوتا تھا سو اب بھی ہوگا کرب کے زہر کا مارا ہوا انسان ہے یہ سر پہ سو بوجھ مگر خندہ بہ لب بھی ہوگا اک عصا پاس نہ ہو زعم کلیمی بھی ہو ایسا لگتا ہے کہ یہ کار عجب بھی ہوگا یوں تو بے آب ہیں خیمے یہ جہاں تک بھی ہیں دل یہ کہتا ہے کہیں ابر طرب بھی ہوگا

غزل · Ghazal

dalil-e-kun hai magar dard-e-laa-davaa nikli

دلیل کن ہے مگر درد لا دوا نکلی یہ کائنات عجب حیرت آزما نکلی یہ مانا سچ ہے کوئی غم سدا نہیں رہتا خوشی ملی تھی تو وہ بھی گریز پا نکلی ہوا کی طرح سے اڑ جاؤں گا جہاں بھی رہوں پئے خبر قفس رنگ سے صدا نکلی کہاں سے آئی ہوا اس اجاڑ منظر میں جو گھر سے نکلی تو وہ بھی شکستہ پا نکلی وہ نیم شب وہ رخ ماہتاب و ابر سیہ شکستگی تھی کہ چشم فلک نما نکلی وہ موج مے تھی جو چمکا گئی اداسی کو کسی کی خندہ لبی بوئے آشنا نکلی حیا کے ساتھ تقاضائے قہر و مہر بھی ہے تری نظر سے طبیعت مری جدا نکلی

Similar Poets