SHAWORDS
Waseem Barelvi

Waseem Barelvi

Waseem Barelvi

Waseem Barelvi

poet
85Shayari
24Ghazal

Popular Shayari

85 total

Ghazalغزل

See all 24
غزل · Ghazal

اندھیرا ذہن کا سمت سفر جب کھونے لگتا ہے کسی کا دھیان آتا ہے اجالا ہونے لگتا ہے وہ جتنی دور ہو اتنا ہی میرا ہونے لگتا ہے مگر جب پاس آتا ہے تو مجھ سے کھونے لگتا ہے کسی نے رکھ دیے ممتا بھرے دو ہاتھ کیا سر پر مرے اندر کوئی بچہ بلک کر رونے لگتا ہے محبت چار دن کی اور اداسی زندگی بھر کی یہی سب دیکھتا ہے اور کبیراؔ رونے لگتا ہے سمجھتے ہی نہیں نادان کے دن کی ہے ملکیت پرائے کھیتوں پہ اپنوں میں جھگڑا ہونے لگتا ہے یہ دل بچ کر زمانے بھر سے چلنا چاہے ہے لیکن جب اپنی راہ چلتا ہے اکیلا ہونے لگتا ہے

andheraa zehn kaa samt-e-safar jab khone lagtaa hai

غزل · Ghazal

محبت نا سمجھ ہوتی ہے سمجھانا ضروری ہے جو دل میں ہے اسے آنکھوں سے کہلانا ضروری ہے اصولوں پر جہاں آنچ آئے ٹکرانا ضروری ہے جو زندہ ہو تو پھر زندہ نظر آنا ضروری ہے نئی عمروں کی خود مختاریوں کو کون سمجھائے کہاں سے بچ کے چلنا ہے کہاں جانا ضروری ہے تھکے ہارے پرندے جب بسیرے کے لیے لوٹیں سلیقہ مند شاخوں کا لچک جانا ضروری ہے بہت بے باک آنکھوں میں تعلق ٹک نہیں پاتا محبت میں کشش رکھنے کو شرمانا ضروری ہے سلیقہ ہی نہیں شاید اسے محسوس کرنے کا جو کہتا ہے خدا ہے تو نظر آنا ضروری ہے مرے ہونٹوں پہ اپنی پیاس رکھ دو اور پھر سوچو کہ اس کے بعد بھی دنیا میں کچھ پانا ضروری ہے

mohabbat naa-samajh hoti hai samjhaanaa zaruri hai

غزل · Ghazal

آتے آتے مرا نام سا رہ گیا اس کے ہونٹوں پہ کچھ کانپتا رہ گیا رات مجرم تھی دامن بچا لے گئی دن گواہوں کی صف میں کھڑا رہ گیا وہ مرے سامنے ہی گیا اور میں راستے کی طرح دیکھتا رہ گیا جھوٹ والے کہیں سے کہیں بڑھ گئے اور میں تھا کہ سچ بولتا رہ گیا آندھیوں کے ارادے تو اچھے نہ تھے یہ دیا کیسے جلتا ہوا رہ گیا اس کو کاندھوں پہ لے جا رہے ہیں وسیمؔ اور وہ جینے کا حق مانگتا رہ گیا

aate aate miraa naam saa rah gayaa

غزل · Ghazal

چاند کا خواب اجالوں کی نظر لگتا ہے تو جدھر ہو کے گزر جائے خبر لگتا ہے اس کی یادوں نے اگا رکھے ہیں سورج اتنے شام کا وقت بھی آئے تو سحر لگتا ہے ایک منظر پہ ٹھہرنے نہیں دیتی فطرت عمر بھر آنکھ کی قسمت میں سفر لگتا ہے میں نظر بھر کے ترے جسم کو جب دیکھتا ہوں پہلی بارش میں نہایا سا شجر لگتا ہے بے سہارا تھا بہت پیار کوئی پوچھتا کیا تو نے کاندھے پہ جگہ دی ہے تو سر لگتا ہے تیری قربت کے یہ لمحے اسے راس آئیں کیا صبح ہونے کا جسے شام سے ڈر لگتا ہے

chaand kaa khvaab ujaalon ki nazar lagtaa hai

غزل · Ghazal

یہ ہے تو سب کے لیے ہو یہ ضد ہماری ہے اس ایک بات پہ دنیا سے جنگ جاری ہے اڑان والو اڑانوں پہ وقت بھاری ہے پروں کی اب کے نہیں حوصلوں کی باری ہے میں قطرہ ہو کے بھی طوفاں سے جنگ لیتا ہوں مجھے بچانا سمندر کی ذمہ داری ہے اسی سے جلتے ہیں صحرائے آرزو میں چراغ یہ تشنگی تو مجھے زندگی سے پیاری ہے کوئی بتائے یہ اس کے غرور بے جا کو وہ جنگ میں نے لڑی ہی نہیں جو ہاری ہے ہر ایک سانس پہ پہرا ہے بے یقینی کا یہ زندگی تو نہیں موت کی سواری ہے دعا کرو کہ سلامت رہے مری ہمت یہ اک چراغ کئی آندھیوں پہ بھاری ہے

ye hai to sab ke liye ho ye zid hamaari hai

غزل · Ghazal

تمہاری راہ میں مٹی کے گھر نہیں آتے اسی لئے تو تمہیں ہم نظر نہیں آتے محبتوں کے دنوں کی یہی خرابی ہے یہ روٹھ جائیں تو پھر لوٹ کر نہیں آتے جنہیں سلیقہ ہے تہذیب غم سمجھنے کا انہیں کے رونے میں آنسو نظر نہیں آتے خوشی کی آنکھ میں آنسو کی بھی جگہ رکھنا برے زمانے کبھی پوچھ کر نہیں آتے بساط عشق پہ بڑھنا کسے نہیں آتا یہ اور بات کہ بچنے کے گھر نہیں آتے وسیمؔ ذہن بناتے ہیں تو وہی اخبار جو لے کے ایک بھی اچھی خبر نہیں آتے

tumhaari raah mein miTTi ke ghar nahin aate

Similar Poets