SHAWORDS
Abdurrahman Momin

Abdurrahman Momin

Abdurrahman Momin

Abdurrahman Momin

poet
26Shayari
24Ghazal

Popular Shayari

26 total

Ghazalغزل

See all 24
غزل · Ghazal

جب دیکھو چھپ جاتا ہے تو مجھ سے کیا شرماتا ہے تو تیرے یار ہیں تیرے جیسے خود کو کیسا پاتا ہے تو میں نے اس کو بھی دیکھا ہے جس کی قسمیں کھاتا ہے تو ہاں مجھ کو معلوم نہیں ہے میری غزلیں گاتا ہے تو دل تو اپنے آپ میں گم ہے اب کس کو تڑپاتا ہے تو خواب میں ہی جب ملنا ہے تو آنکھیں کیوں کھلواتا ہے تو کیسے کیسے میں بھولا ہوں کیسے یاد آ جاتا ہے تو ایسا بھی کیا چھپنا مومنؔ ڈھونڈو تو مل جاتا ہے تو

jab dekho chhup jaataa hai tu

41 views

غزل · Ghazal

تو اگر میرا تذکرہ کرے گا جھوٹ بولے گا اور کیا کرے گا خود کو تو جانتا نہیں شاید تو سمجھتا ہے سب خدا کرے گا زخم کھا کر بھی جو دعائیں دے کون اس کا مقابلہ کرے گا کیا اسے یاد بھی نہ آؤں گا کیا مجھے یاد وہ کیا کرے گا پھر کہاں مل سکے گا وہ مجھ سے جو مجھے آپ سے جدا کرے گا اپنی جھوٹی انا کی خاطر تو جانے کس کس سے رابطہ کرے گا دل ہی ایسا ہے با وفا مومنؔ بے وفا سے بھی جو وفا کرے گا

tu agar meraa tazkira karegaa

41 views

غزل · Ghazal

کب تلک استخارہ کریں آپ کچھ تو اشارہ کریں آپ کیوں چاہتے ہیں کہ ہم آئنے پر گزارا کریں دل کو سمجھائیں سب کھیل ہے اور پھر دل کو ہارا کریں یاد آتے ہیں وہ دن بہت کیوں نہ وہ دن دوبارہ کریں خواب میں ہی سہی پر کبھی آپ خود کو پکارا کریں آپ ہی جب نہیں ہیں تو پھر کیوں نہ ہم بھی کنارہ کریں

kab talak istikhaara karein

41 views

غزل · Ghazal

یقین کون کرے گا گماں پہ آیا ہوں میں اپنے آپ سے چھپ کر یہاں پہ آیا ہوں مجھے بھی عقل پریشان کرتی رہتی ہے نہیں نہیں سے گزر کر میں ہاں پہ آیا ہوں مجھے وہ دیکھ کے حیران کیوں نہیں ہوگا زمین اوڑھ کے میں آسماں پہ آیا ہوں یہ بات تو ہی بتا کس طرح بتاؤں تجھے میں دل کے راستے تیری زباں پہ آیا ہوں نہ جانے کب سے نہیں مل سکا ہوں میں خود سے میں خود سے ملنے ترے آستاں پہ آیا ہوں یہ اضطراب حقیقت میں اضطراب نہیں خوشی خوشی میں اس آہ و فغاں پہ آیا ہوں مجھے تلاش نہ کر تو یہاں وہاں مومنؔ نظر اٹھا کہ ترے خواب داں پہ آیا ہوں

yaqin kaun karegaa gumaan pe aayaa huun

41 views

غزل · Ghazal

میں اپنے آپ کو پہچان ہی نہیں پایا اسی لئے میں تجھے جان ہی نہیں پایا یہ دیکھ کر وہ پریشاں ہے تیری محفل میں کسی کو اس نے پریشان ہی نہیں پایا ابھی سے تجھ کو پڑی ہے وصال کی مری جاں ابھی تو ہجر نے عنوان ہی نہیں پایا وہ ایک لمحہ مری زندگی پہ طاری ہے جو ایک لمحہ ابھی آن ہی نہیں پایا خوشی خوشی تری دنیا کو چھوڑ آئے ہم خوشی کا جب کوئی سامان ہی نہیں پایا جواز مل نہ سکا مجھ کو اپنے ہونے کا سو اپنے آپ کو انسان ہی نہیں پایا عجیب ہجر کیا ہم نے ہجر میں مومنؔ وصال یار کا ارمان ہی نہیں پایا

main apne aap ko pahchaan hi nahin paayaa

41 views

غزل · Ghazal

میں نے جب خواب نہیں دیکھا تھا تجھ کو بیتاب نہیں دیکھا تھا اس نے سیماب کہا تھا مجھ کو میں نے سیماب نہیں دیکھا تھا ہجر کا باب ہی کافی تھا ہمیں وصل کا باب نہیں دیکھا تھا چاند میں تو نظر آیا تھا مجھے میں نے مہتاب نہیں دیکھا تھا وہ جو نایاب ہوا جاتا ہے اس کو کم یاب نہیں دیکھا تھا ایک مچھلی ہی نظر آئی مجھے میں نے تالاب نہیں دیکھا تھا

main ne jab khvaab nahin dekhaa thaa

41 views

Similar Poets