SHAWORDS
Akhtar Ansari

Akhtar Ansari

Akhtar Ansari

Akhtar Ansari

poet
27Shayari
42Ghazal

Popular Shayari

27 total

Ghazalغزل

See all 42
غزل · Ghazal

جاں سپاری کے بھی ارماں زندگی کی آس بھی حفظ ناموس الم بھی نیش غم کا پاس بھی خاک در بر ہی سہی میں خاک بھی وہ خاک ہے جس میں میرے زخم دل کی بو بھی ہے اور باس بھی کتنے دور چرخ ان آنکھوں نے دیکھے کچھ نہ پوچھ مٹ چکا ہے وقت کی رفتار کا احساس بھی ہائے وہ اک نشتر آگیں نیشتر افروز یاد جس کے آگے ہیچ اپنی برش انفاس بھی ہم نہ تھے کچھ خود ہی اس سودے پہ راضی ورنہ یوں راس آنے کو یہ دنیا آ ہی جاتی راس بھی خود کو اے دل یاس کامل کے حوالے یوں نہ کر جھانکتی ہے ذہن کے غرفے سے کوئی آس بھی کون اس وادی سے اچھلا تا سر عرش بریں گم ہیں جس وادی میں اخترؔ خضر بھی الیاس بھی

jaan-sapaari ke bhi armaan zindagi ki aas bhi

40 views

غزل · Ghazal

مطرب دل کی وہ تانیں کیا ہوئیں وہ تخیل کی اڑانیں کیا ہوئیں کیا ہوئے وہ ترچھی نظروں کے خدنگ ابرووں کی وہ کمانیں کیا ہوئیں وہ ادائیں جن پہ ہوتی تھیں نثار چاہنے والوں کی جانیں کیا ہوئیں کیا ہوئے ٹوٹے دلوں کے زمزمے بے زبانوں کی زبانیں کیا ہوئیں کیا ہوئے اخترؔ امیدوں کے حصار وہ عزائم کی چٹانیں کیا ہوئیں

mutrib-e-dil ki vo taanein kyaa huiin

40 views

غزل · Ghazal

چرخ کی سعیٔ جفا کوشش ناکارہ ہے گردش دہر یہاں جنبش گہوارہ ہے چاند تاروں کے تلاطم سے یہ آتا ہے خیال دل وحشی کوئی طوفاں زدہ سیارہ ہے بہہ گئے دیدۂ نم ناک سے دریا لیکن دل وہی ایک دہکتا ہوا انگارہ ہے دل ہوا سوز جہنم میں گرفتار مگر روح اب بھی کسی فردوس میں آوارہ ہے کیسی تقدیر کی گردش غم دل کو میں نے گردش گنبد افلاک پہ دے مارا ہے میرے شعروں سے تعرض نہ کر اے ناقد فن میری بربادئ دل ہی مرا شہ پارا ہے بہجت فکر پہ قادر ہوں میں جب تک اخترؔ مجھے سرمایۂ اندوہ بہت پیارا ہے

charkh ki sai-e-jafaa koshish naakaara hai

40 views

غزل · Ghazal

دل فسردہ میں کچھ سوز و ساز باقی ہے وہ آگ بجھ گئی لیکن گداز باقی ہے نیاز کیش بھی میری طرح نہ ہو کوئی امید مر چکی ذوق نیاز باقی ہے وہ ابتداے محبت کی لذتیں واللہ کہ اب بھی روح میں اک اہتزاز باقی ہے نہ ساز دل ہے اب اخترؔ نہ حسن کی مضراب مگر وہ فطرت نغمہ نواز باقی ہے

dil-e-fasurda mein kuchh soz o saaz baaqi hai

40 views

غزل · Ghazal

بہار آئی زمانہ ہوا خراباتی ہمارے دل میں بھی اک لہر کاش آ جاتی ہوا بھی سرد ہے بھیگی ہے رات بھی لیکن سلگ رہی ہے کسی آگ سے مری چھاتی مرے پڑوس میں یہ ذکر ہے کئی دن سے صدا جو آتی تھی رونے کی اب نہیں آتی لگا کے سینے سے شادابیوں کو سو جاتا مجھے بہار جوانی میں موت آ جاتی بجا رہا ہے کوئی رات میں ستار اخترؔ دھڑک رہی ہے مری آرزوؤں کی چھاتی

bahaar aai zamaana huaa kharaabaati

40 views

غزل · Ghazal

آئینۂ نگاہ میں عکس شباب ہے دنیا سمجھ رہی ہے کہ آنکھوں میں خواب ہے روئے بغیر چارہ نہ رونے کی تاب ہے کیا چیز اف یہ کیفیت اضطراب ہے اے سوز جاں گداز ابھی میں جوان ہوں اے درد لا علاج یہ عمر شباب ہے

aaina-e-nigaah mein aks-e-shabaab hai

Similar Poets