SHAWORDS
Amaan Ali Khan

Amaan Ali Khan

Amaan Ali Khan

Amaan Ali Khan

poet
12Shayari
7Ghazal

Popular Shayari

12 total

Ghazalغزل

See all 7
غزل · Ghazal

جو لوگ آپ سے بڑا ہی پیار رکھ چکے قدموں پہ آپ ان کی ہی دستار رکھ چکے تم بجلیاں رکھو تو رکھو حسن کی یہاں ہم بھی ترازو میں یہ دل زار رکھ چکے عاشق جو سرپھرے سے تمہیں لگ رہے ہیں اب دل میں دبا کے وہ کئی اسرار رکھ چکے جس آگ سے ہے روشنی دنیا میں آج بھی سینہ میں قید وہ سبھی فنکار رکھ چکے

jo log aap se baDaa hi pyaar rakh chuke

غزل · Ghazal

یہ زندگی تمام بتا دی ہے پیاس میں پھر کیوں ہر ایک رات بتاتے ہیں آس میں سب یار سوچتے تھے رہے گا وہی سماں اک میں ہی بس بچا ہوں کوئی سو پچاس میں میں گھول کر کے پی گیا ہوں زندگی کو یوں پوری کتاب بس گئی ہے اقتباس میں ہم نے بھی تو نکالے ہیں ناسور کاٹ کر ہم نے بھی دن گزارے ہیں کالے لباس میں تم جام مانگتے ہو بڑی چھوٹی چیز ہے میں دھڑکنیں رکھوں جو کہو اس گلاس میں کیسے امانؔ اب یہ سدھر جائیں عادتیں ہم نے بتائے دن ہیں خرابوں کے پاس میں

ye zindagi tamaam bitaa di hai pyaas mein

غزل · Ghazal

اس دور مفلسی کا ہم نے علاج دیکھا سارے سخنوروں کو عاشق مزاج دیکھا مہتاب دیکھتا تھا میں گھر کی کھڑکیوں سے مہتاب نے دریچے سے مجھ کو آج دیکھا پٹ بھی سبھی کھلے ہیں دربان بھی نہیں ہے اس بزم کا الگ ہی رسم و رواج دیکھا آج آخری دفعہ تھا پانی سے پیٹ بھرنا بچوں نے آج جا کے گھر میں اناج دیکھا سچ کی ڈگر پہ جب بھی رکھے قدم کسی نے پہلے تو دیکھی غربت پھر تخت و تاج دیکھا

is daur-e-muflisi kaa ham ne 'ilaaj dekhaa

غزل · Ghazal

قید سے باہر میں آنا چاہتا ہوں آج پھر سے مسکرانا چاہتا ہوں رات ہو کتنی ہی کالی ختم ہوگی اس غزل میں یہ بتانا چاہتا ہوں میں بھلے بے بس ہوں لیکن تو نہیں ہے پھر تری چوکھٹ پہ آنا چاہتا ہوں کاش مل جائیں پرانے یار پھر سے پھر پرانے گیت گانا چاہتا ہوں میں نے اپنی جان کی بازی لگا دی ہار کر تجھ کو ہرانا چاہتا ہوں جا نکل جا عشق اب تو دل سے میرے تجھ سے میں پیچھا چھڑانا چاہتا ہوں اب نہ گھر ٹوٹے کسی عاشق کا مولیٰ میں بس اپنا گھر بسانا چاہتا ہوں

qaid se baahar main aanaa chaahtaa huun

غزل · Ghazal

اس غم دل کا کوئی سرا ہی نہیں راہ منزل کا کوئی سرا ہی نہیں سانس اکھڑنے لگی دل بھی ناساز ہے دور مشکل کا کوئی سرا ہی نہیں تم بھلے چھوڑ جاؤ گے مجھ کو صنم عشق بسمل کا کوئی سرا ہی نہیں میں رفیقوں میں بیٹھا ہوا ہوں مگر فکر قاتل کا کوئی سرا ہی نہیں یہ عذابوں میں بھی ڈھونڈھ لے گا خوشی ہمت دل کا کوئی سرا ہی نہیں

is gham-e-dil kaa koi siraa hi nahin

غزل · Ghazal

اکیلا جو رہا ہر دم کسی کا ہو نہیں سکتا بھلے ہو مستقل گردش مگر وہ رو نہیں سکتا حسین اتنی ہے تو ذوق نظر تو بن گیا ہوں میں مگر دل کی کیاری میں نیا کچھ بو نہیں سکتا سنبھل جا دل یہ کیا سپنے بنے جاتا ہے تو دن رات ملے گا کیا تجھے وہ سوچ کر جو ہو نہیں سکتا میں اپنی بے قراری کا تجھے عالم بتاؤں کیا بدلتا ہوں میں کروٹ رات بھر اب سو نہیں سکتا کہا جو کرشن نے گیتا میں رکھے گا اگر تو یاد بھلے جتنا گھنا جنگل ہو پر تو کھو نہیں سکتا

akelaa jo rahaa har dam kisi kaa ho nahin saktaa

Similar Poets