main tujhe bhuul na paayaa to ye chaahat hai miri
yaad rakkhaa hai jo tu ne tiraa ehsaan jaanaan

Amanullah Khalid
Amanullah Khalid
Amanullah Khalid
Popular Shayari
9 totalruko to yuun ki Thahar jaae gardish-e-dauraan
chalo to aise ki saare jahaan ko saath liye
kitaab ziist mein baab-e-alam bhi ho mahfuz
siyaah-raat kaa manzar sahar mein rakkhaa jaae
vaqt ki tez havaaon ne ajab moD liyaa
phuul se haath jo the un mein bhi patthar nikle
dard aisaa diyaa ehsaas-e-vafaa ne ham ko
na davaa ne hi shifaa di na duaa ne ham ko
jise bhi dekho vahi ajnabi saa lagtaa hai
tumhaare shahr mein koi bhi aashnaa na milaa
main hi thaa ik aankh na bhaaon vo to ab bhi yaar hain tere
jin logon ne teraa charchaa baazaaron mein aam kiyaa
har dar pe ik baang lagaavein bhalaa karo bas bhalaa karo
ek hi shikva ek hi naala subh kiyaa aur shaam kiyaa
un ki tamannaa meri koshish baaham vaade aur qasmein
kuchh meri taqdir ke sadqe baaqi sab haalaat ke naam
Ghazalغزل
زمیں جیسے کی آتش فشاں کو ساتھ لیے یوں جی رہا ہوں میں درد نہاں کو ساتھ لیے ہوا شکار سیاست کا اب کے موسم بھی بہار آئی ہے لیکن خزاں کو ساتھ لیے رکو تو یوں کہ ٹھہر جائے گردش دوراں چلو تو ایسے کہ سارے جہاں کو ساتھ لیے نفس نفس ہیں اجالے ہزار کرب لیے ہر ایک رات ہے اک داستاں کو ساتھ لیے کسے زمیں کے مسائل کی فکر ہو خالدؔ ہر اک نظر ہے یہاں آسماں کو ساتھ لیے
zamin jaise ki aatish-fishaan ko saath liye
1 views
کچھ سوچوں کے کچھ فکروں کے کچھ تھے احساسات کے نام جتنے بھی پتھر آئے سب آئینۂ جذبات کے نام ان کی نگاہیں بے پروا ہیں کچھ بھی نہیں جذبات کے نام وقف کیے ہیں جن لوگوں نے دن کے اجالے رات کے نام تپتے ہوئے صحرا میں جیسے شبنم کی بے رنگ نمود جانے کتنے خط لکھے ہیں میں نے بھی برسات کے نام وقت کے ہونٹوں پہ رقصاں ہیں مستی کا اک راگ لیے صبح قیامت کے ہنگامے حسن موجودات کے نام موج سکوں کے ساتھ ملے زنجیر الم بے تابئ دل ہم نے کتنی دولت پائی الفت کی سوغات کے نام ان کی تمنا میری کوشش باہم وعدے اور قسمیں کچھ میری تقدیر کے صدقے باقی سب حالات کے نام سجی ہوئی ہے ادب کی محفل حال کے ایسے نغموں سے بے مقصد بے کیف کتابیں حسن تخلیقات کے نام حسرت و ارماں بزم تصور دامن صحرا دست جنوں خوشیوں کے پیغام ہیں خالدؔ غم کے حسیں لمحات کے نام
kuchh sochon ke kuchh fikron ke kuchh the ehsaasaat ke naam
1 views
نگاہ شوق کو جب تیرا نقش پا نہ ملا مجھے بھی حسن حقیقت کا آئنہ نہ ملا جسے بھی دیکھو وہی اجنبی سا لگتا ہے تمہارے شہر میں کوئی بھی آشنا نہ ملا حدود دیر و کلیسا میں خانقاہوں میں بہت تلاش کیا ہم کو پارسا نہ ملا تڑپتے رہ گئے دن میں بھی روشنی کے لیے چراغ بیچنے والوں کو مشعلہ نہ ملا ہمارے درس پہ غیروں نے پا لیا ساحل ہمارے اپنے سفینے کو ناخدا نہ ملا سکوں ملے گا انہیں کس کے آستانے پر وہ اہل درد جنہیں تیرا آسرا نہ ملا متاع دل وہ مری لوٹنے چلا تھا مگر یہ اور بات کہ رہزن کو حوصلہ نہ ملا مری وفاؤں پہ الزام تو بہت آئے مری وفاؤں کا مجھ کو مگر صلہ نہ ملا وفا کے تذکرے ہم نے بہت سنے خالدؔ مگر جہاں میں کوئی ہم کو با وفا نہ ملا
nigaah-e-shauq ko jab teraa naqsh-e-paa na milaa
1 views
گھر اپنا وادی برق و شرر میں رکھا جائے تعلقات کا سودا نہ سر میں رکھا جائے اگر طلب ہو کبھی چند گھونٹ پانی کی سمندروں کا تصور نظر میں رکھا جائے سنا ہے دختر تہذیب گھر سے بھاگ گئی چھپا کے بچوں کو ہرگز نہ گھر میں رکھا جائے پتہ نہیں کہ کہاں رہ زنوں کی ہو یلغار کوئی دفاع بھی رخت سفر میں رکھا جائے بتاؤ کیسے ملے گی ہمیں صحیح تعبیر جب اپنا خواب ہی چشم دگر میں رکھا جائے لو اب تو ہم بھی ہواؤں کے ساتھ چلنے لگے ہمارا نام بھی اہل ہنر میں رکھا جائے کتاب زیست میں باب الم بھی ہو محفوظ سیاہ رات کا منظر سحر میں رکھا جائے قفس کو لے کے جو اڑا جائے گلستاں کی طرف وہ عزم طائر بے بال و پر میں رکھا جائے
ghar apnaa vaadi-e-barq-o-sharar mein rakkhaa jaae
1 views
سائیں اپنے نفس کو ہم نے یوں ہی نہیں ناکام کیا عمر گزاری در بدری میں کب کس جا آرام کیا غیر تو آخر غیر ہیں یارو کیا سوچیں اب کس کے تئیں ہم نے کون جگہ اپنے کو پابند احکام کیا اہل خرد نے جشن بہاراں یوں بھی منایا اب کے برس جیب و گریباں چاک کیے اور دیوانوں میں نام کیا ہر در پہ اک بانگ لگاویں بھلا کرو بس بھلا کرو ایک ہی شکوہ ایک ہی نالہ صبح کیا اور شام کیا اونچے اونچے محلوں سے کیا غرض ہے ہم بنجاروں کو ٹھنڈی چھایا دیکھ کے خود کو کبھی نہ زیر بام کیا میں ہی تھا اک آنکھ نہ بھاؤوں وہ تو اب بھی یار ہیں تیرے جن لوگوں نے تیرا چرچا بازاروں میں عام کیا دکھ نا پہنچا کسی کو بابا تیرے خالدؔ سے ان نے تو سو بار خوشی کو غم کے عوض نیلام کیا
saain apne nafas ko ham ne yuun hi nahin naakaam kiyaa
درد ایسا دیا احساس وفا نے ہم کو نہ دوا نے ہی شفا دی نہ دعا نے ہم کو یہ تو صحرا کی ہوائیں ہیں گلہ کیا ان کا خوب جھلسایا ہے گلشن کی صبا نے ہم کو سوز آفاق کا احساس بھی ہم کو نہ ہوا اتنا بے ہوش کیا تیری ادا نے ہم کو دور ہوتا ہی گیا چہرۂ منزل ہم سے راہ دکھلائی ہے وہ راہنما نے ہم کو دیکھتی ہی رہی یہ عقل تماشائے جنوں جب بھی مجبور کیا عہد وفا ہم کو زلف ادراک چھپاتی رخ ہستی کب تک آخرش تھام لیا دست فضا نے ہم کو ڈوبی کشتی جو ہماری لب ساحل خالدؔ نا خدا نے نہیں دیکھا کہ خدا نے ہم کو
dard aisaa diyaa ehsaas-e-vafaa ne ham ko





