SHAWORDS
Ashwini Yadav

Ashwini Yadav

Ashwini Yadav

Ashwini Yadav

poet
12Shayari
5Ghazal

Popular Shayari

12 total

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

بندگی رکھیے بھلا کیا ہر کسی سے سارے چہرے لگ رہے ہیں مطلبی سے کب تلک ناراضگی پر ہم منائیں آج رشتہ توڑ لو اپنی خوشی سے آدمی ہی آدمی کا یار کب تھا مل رہے ہیں لوگ سب سے زیادتی سے خود کشی بے حد بری ہے چیز پیارے شاعری کو بھی ملاؤ زندگی سے ہو مبارک تم کو یہ رنگین دنیا ہم کو لمحے کاٹنے ہیں سادگی سے

bandagi rakhiye bhalaa kyaa har kisi se

غزل · Ghazal

وہ منزل دور لگتی جا رہی ہے بھلے گاڑی یہ چلتی جا رہی ہے ہنسا ہوں لذت غم پر بہت میں مری امید بڑھتی جا رہی ہے کسی کی بھوک بڑھتی دیکھ کر ہی ہماری آنکھ مندتی جا رہی ہے مرے آگے یہ دنیا رو رہی ہے مری بھی عمر گھٹتی جا رہی ہے ابھی تک موت سے جھگڑا رہا ہے وہی محبوب بنتی جا رہی ہے جہاں سارا یہیں شمشان ہوگا یہ جو تلوار کھنچتی جا رہی ہے کہ خالی ہاتھ سے میں کیا کروں گا یہی مجھ کو کھٹکتی جا رہی ہے سبھی تیوہار اب ماتم لگیں گے نئی دیوار بنتی جا رہی ہے کہو تو قبر میری کھود آئیں مری بھی نبض رکتی جا رہی ہے

vo manzil duur lagti jaa rahi hai

غزل · Ghazal

زندہ رہتے دل کا درد سنانے والے کتنے اچھے ہوتے ہیں مر جانے والے مر جاتے ہی دنیا کو خوبی دکھتی ہے بدل رہیں ہیں قصہ بھی بتلانے والے ایک شجر نے ویرانے میں عمر گزاری سوکھ گیا تو آئے اسے گرانے والے انگاروں کو پار کیا تب مرکز آیا کتنے ہیں مجھ ایسے پیر جلانے والے اک دریا سیلاب بنا تو آفت آئی اب تک جانے کہاں تھے باندھ بنانے والے یہ دنیا کیول مطلب سے ہی ساتھ رہی ہے دیکھو پھونک رہے ہیں پیار جتانے والے سب کہتے ہیں تو واپس آ جا گھر اپنے کب آتے ہیں راہ جنت جانے والے ہاں میں پاگل ہوں شاعر ہوں دور رہو تم تھک کر مجھ سے ہار گئے سمجھانے والے

zinda rahte dil kaa dard sunaane vaale

غزل · Ghazal

تمہارے دل میں بھی طوفاں اٹھا ہے ہمیں بھی پیار تم سے ہو چلا ہے کسی عیار جیسے ہو گئے ہو تمہارا نام مجھ کو رٹ گیا ہے تمہاری بات بھی اب ٹالنے میں مجھے اب خود سے لڑنا پڑ رہا ہے عجب سی کشمکش ہے زندگی میں کہ میرا میں ہی مجھ سے جا رہا ہے ابھی تک میں یہاں پر سو رہا ہوں مگر پنجرے کا پنچھی اڑ گیا ہے

tumhaare dil mein bhi tufaan uThaa hai

غزل · Ghazal

سوچ رہے ہیں مدد کو نکلیں لیکن ان کا بھی ڈر ہے اس ڈر سے مر جانے دیں حد ہے کیا اتنا بھی ڈر ہے ڈر ڈر کر جینے سے اچھا لڑ کر ہی مر جائیں ہم بے سدھ سہما پاگل بندی ایسے رہنا بھی ڈر ہے گھر میں سر دیواروں سے ٹکرانے سے کیا حاصل ہے کھڑکی کھولو باہر جاؤ گھر میں چھپنا بھی ڈر ہے بندوقوں سے ستہ حاصل کر سکتے ہو تم لیکن روز کوئی آواز دبانا چیخ دبانا بھی ڈر ہے چارہ سازوں کے مرنے پر باغی لوگ بڑھیں گے ہی عجلت میں یوں جیل بنانا ٹیکس بڑھانا بھی ڈر ہے

soch rahe hain madad ko niklein lekin un kaa bhi Dar hai

Similar Poets