kuchh aur de na paae zamaane ko ham 'hilaal'
paighaam-e-amn deinge isi shaaeri se ham

Hilal Badayuni
Hilal Badayuni
Hilal Badayuni
Popular Shayari
17 totalgharib shakhs ko miltaa nahin kisi bhi tarah
ye ishq ho gayaa sarkaari naukri ki tarah
jab chhuaa hogaa us ne phulon ko
hosh khushbu ke uD gae honge
tum ne jo mere dil ko pareshaan kiyaa hai
ye ghar to tumhaaraa thaa jo viraan kiyaa hai
kahne pe tere maan ko bhalaa kaise chhoD duun
tu aisaa kar ki dusraa shauhar talaash kar
mire nikaah se pahle ye baat likh denaa
tum apne mehr mein meri hayaat likh denaa
tumhaare saamne jazbaat saare khol saktaa huun
jo sunnaa chaahte ho tum main vo bhi bol saktaa huun
maujud mere dil mein tumhaari jo yaad hai
ye meri milkiyat hai miri jaaedaad hai
'hilaal' aur ziyaada ho teraa zor-e-qalam
ye shaaeri tiri dil ki zabaan tak pahunchi
saare jahaan mein mere sukun kaa nishaan nahin
sab kuchh hai mere paas magar meri maan nahin
sirf rishta nahin ek ehsaas hai
duur ho kar bhi maan to mire paas hai
maujud mere dil mein jo zakhmon ke daagh hain
vo ek bevafaa ke sitam ke charaagh hain
Ghazalغزل
سمجھیں جو میرے غم کو وہ اپنے نہیں رہے جھوٹے بہت ہیں شہر میں سچے نہیں رہے تو نے تو اپنی زیست بھی کر لی بسر مگر تجھ سے بچھڑ کے ہم تو کہیں کے نہیں رہے ہم خوش ہوئے سبھی کی ترقی کو دیکھ کر لیکن تمہاری طرح سلگتے نہیں رہے کل تو کسی بھی راہ میں خوف و خطر نہ تھا محفوظ آج شہر کے رستے نہیں رہے راہ وفا میں مشکلیں آئی تو تھیں بہت لیکن ہم اپنی راہ بدلتے نہیں رہے جب سے حیات اشک ندامت سے دھوئی ہے آئینۂ حیات پے دھبے نہیں رہے جو حکم والدین کی تعمیل کر سکیں اس دور میں ہلالؔ وہ بچہ نہیں رہے
samjhein jo mere gham ko vo apne nahin rahe
میں دل میں زخم اس کے پھر سلگتا چھوڑ آیا ہوں کہ صحن گلستاں میں اک شرارہ چھوڑ آیا ہوں کڑکتی دھوپ میں بادل برستا چھوڑ آیا ہوں میں اس کی آنکھ میں اشکوں کا دریا چھوڑ آیا ہوں برائے روزگار آیا تو ہوں پردیس میں لیکن کسی کو گھر کی چوکھٹ پر میں روتا چھوڑ آیا ہوں دیا لے کر چلا ہوں میں جہاں میں روشنی کرنے مگر اپنے گھر آنگن میں اندھیرا چھوڑ آیا ہوں امیروں نے بھلا ڈالا روایات قدیمہ کو مگر گھر میں غریبوں کے میں پردہ چھوڑ آیا ہوں وہ جن کے سینہ میں ہر دم تعصب رقص کرتا تھا دلوں میں ان کے بھی الفت کا جذبہ چھوڑ آیا ہوں نگاہ بد نہ پڑ جائے کہیں صیاد کی یا رب میں اپنے گھونسلے میں ایک بچہ چھوڑ آیا ہوں اسے محرومیٔ قرب وفا کا کیا ہو اندازہ میں اس کے پاس یادوں کا سہارا چھوڑ آیا ہوں ہلالؔ انسانیت جس پر پشیماں ہو کے روتی ہے میں وہ گلشن وہ صحرا وہ علاقہ چھوڑ آیا ہوں
main dil mein zakhm us ke phir sulagtaa chhoD aaya huun
مزاج درد کا خوگر اسی لیے تو ہے غم فراق مقدر اسی لیے تو ہے تجھے خبر تھی مرا دل ہے آئینہ جیسا یہ گفتگو تری پتھر اسی لیے تو ہے پناہ لے نہ سکا جو خدا کے گھر میں کبھی زمانہ بھر میں وہ بے گھر اسی لئے تو ہے تمہیں تو دوست بنانے کا شوق تھا ہی بہت تمہاری پیٹھ میں خنجر اسی لیے تو ہے تمہاری یاد کے بادل برس رہے ہیں یہاں یہ آنسوؤں کا سمندر اسی لیے تو ہے تمہاری نسل کی حالت بگڑنے والی ہے تمہارے ہاتھ میں ساغر اسی لیے تو ہے انہیں بتاؤ بزرگوں کا ہے کرم اس پر ہلالؔ اچھا سخنور اسی لیے تو ہے
mizaaj dard kaa khugar isi liye to hai
مرے گماں سے بھی اونچی اڑان تک پہنچی مری غزل کی زمیں آسمان تک پہنچی وہ بات جس کی خبر تک نہ تھی زمانے کو تمہاری وجہ سے دنیا کے کان تک پہنچی تصورات کی امداد ہو گئی حاصل تمہارے وصل کی حسرت اڑان تک پہنچی ہمارے عشق کی تعلیم نا مکمل تھی مگر ہماری وفا امتحان تک پہنچی ہلالؔ اور زیادہ ہو تیرا زور قلم یہ شاعری تری دل کی زبان تک پہنچی
mire gumaan se bhi unchi uDaan tak pahunchi
جس پر جبیں جھکائی تھی وہ در تلاش کر جس گھر کو تو نے چھوڑا ہے وہ گھر تلاش کر چاندی نہ سونا ہیرا نہ گوہر تلاش کر عقبیٰ میں کام آئے وہ زیور تلاش کر چاقو نہ سیف برچھی نہ خنجر تلاش کر جو ہو سکے تو امن کا منظر تلاش کر کہنے پے تیرے ماں کو بھلا کیسے چھوڑ دوں تو ایسا کر کہ دوسرا شوہر تلاش کر پردیس میں سکون کسے ملتا ہے ہلالؔ دل کا سکون اپنے ہی گھر پر تلاش کر
jis par jabin jhukaai thi vo dar talaash kar
فقط میں کیوں رہوں رسوا تری رسوائی بھی تو ہو ستم گر تیری محفل میں شب تنہائی بھی تو ہو تجھے پانے کی خواہش میں جو رکھ دے جان بھی گروی زمانہ میں مرے جیسا کوئی سودائی بھی تو ہو میں تم کو بے وفا کہتا ہوں تو اس میں برا کیا ہے یہ مانا میں کہ تم اپنے ہو مگر ہرجائی بھی تو ہو میں کیسے ڈوب سکتا ہوں وفا کے خشک دریا میں ترے دریائے الفت میں کوئی گہرائی بھی تو ہو شب فرقت کا ہر لمحہ ستارے گن کے کاٹا ہے بچھڑ کے تجھ سے اک پل کو ہمیں نیند آئی بھی تو ہو میں کیسے مان لوں تو ہجر میں رہتا ہے نم دیدہ تری آواز میری طرح سے بھرائی بھی تو ہو مسرت کے ترانے کیا سنائیں ساز غم پر ہم خوشی کے گیت گانے کے لیے شہنائی بھی تو ہو ہلالؔ اپنے مقدر میں نہیں تھا وصل جانانہ دعا ہم نے بہت کی تھی مگر بر آئی بھی تو ہو
faqat main kyon rahun rusvaa tiri rusvaai bhi to ho





