SHAWORDS
Hosh Tirmizi

Hosh Tirmizi

Hosh Tirmizi

Hosh Tirmizi

poet
6Sher
6Shayari
11Ghazal

Sherشعر

Popular Sher & Shayari

12 total

Ghazalغزل

See all 11
غزل · Ghazal

dil ko gham raas hai yuun gul ko sabaa ho jaise

دل کو غم راس ہے یوں گل کو صبا ہو جیسے اب تو یہ درد کی صورت ہی دوا ہو جیسے ہر نفس حلقۂ زنجیر نظر آتا ہے زندگی جرم تمنا کی سزا ہو جیسے کان بجتے ہیں سکوت شب تنہائی میں وہ خموشی ہے کہ اک حشر بپا ہو جیسے اب تو دیوانوں سے یوں بچ کے گزر جاتی ہے بوئے گل بھی ترے دامن کی ہوا ہو جیسے کہتے کہتے غم دل عمر گزاری لیکن پھر بھی احساس یہ ہے کچھ نہ کہا ہو جیسے ہوشؔ بیتابئ احساس کا عالم توبہ مجھ میں چھپ کر وہ مجھے دیکھ رہا ہو جیسے

غزل · Ghazal

paas-e-naamus-e-tamannaa har ik aazaar mein thaa

پاس‌ ناموس تمنا ہر اک آزار میں تھا نشۂ‌ نگہت گل بھی خلش خار میں تھا کس سے کہیے کہ زمانے کو گراں گزرا ہے وہ فسانہ کہ مری حسرت گفتار میں تھا دل کہ آتا ہی نہیں ترک تمنا کی طرف کوئی اقرار کا پہلو ترے انکار میں تھا کچھ تجھے یاد ہے اے چشم‌ زلیخائے جہاں ہم سا یوسف بھی کوئی مصر کے بازار میں تھا زندگی جا نہ سکی شام و سحر سے آگے سارا عالم اسی آئینۂ تکرار میں تھا عمر بھر چشم تماشا کو رہی جس کی تلاش ہوشؔ وہ حسن گریزاں مرے اشعار میں تھا

غزل · Ghazal

laaegaa rang zabt-e-fughaan dekhte raho

لائے گا رنگ ضبط فغاں دیکھتے رہو پھوٹے گی ہر کلی میں زباں دیکھتے رہو برپا سر حیات ہے اک حشر دار و گیر دیتا ہے کون کس کو اماں دیکھتے رہو دم بھر کو آستان تمنا پہ ہے ہجوم جائے بچھڑ کے کون کہاں دیکھتے رہو ملنے کو ہے خموشئ اہل جنوں کی داد اٹھنے کو ہے زمیں سے دھواں دیکھتے رہو محفل میں ان کی شمع جلی ہے کہ جان و دل کھلتا ہے کب یہ راز نہاں دیکھتے رہو ہے برگ گل کو بارش مقراض کے پیام طرز تپاک اہل جہاں دیکھتے رہو آئی نگار غم کی صدا ہوشؔ ہم چلے تم امتیاز سود و زیاں دیکھتے رہو

غزل · Ghazal

yaadein chalein khayaal chalaa ashk-e-tar chale

یادیں چلیں خیال چلا اشک تر چلے لے کر پیام شوق کئی نامہ بر چلے دل کو سنبھالتے رہے ہر حادثے یہ ہم اب کیا کریں کہ خود ترے گیسو بکھر چلے ہر گام پر شکست نے یوں حوصلہ دیا جس طرح ساتھ ساتھ کوئی ہم سفر چلے شوق طلب نہ ہو کوئی بانگ جرس تو ہو آخر کوئی چلے تو کس امید پر چلے اب کیا کرو گے سیر سمن زار آرزو رت جا چکی چڑھے ہوئے دریا اتر چلے راہوں میں ہوشؔ سنگ برستے ہیں ہر طرف لے کر یہ کاروان تمنا کدھر چلے

غزل · Ghazal

vo taqaazaa-e-junun ab ke bahaaron mein na thaa

وہ تقاضائے جنوں اب کے بہاروں میں نہ تھا ایک دامن بھی تو الجھا ہوا خاروں میں نہ تھا اشک غم تھم گئے یاد آتے ہی ان کی صورت جب چڑھا چاند تو پھر نور ستاروں میں نہ تھا مرنے جینے کو نہ سمجھے تو خطا کس کی ہے کون سا حکم ہے جو ان کے اشاروں میں نہ تھا ہر قدم خاک سے دامن کو بچایا تم نے پھر یہ شکوہ ہے کہ میں راہ گزاروں میں نہ تھا تم سا لاکھوں میں نہ تھا جان تمنا لیکن ہم سا محروم تمنا بھی ہزاروں میں نہ تھا ہوشؔ کرتے نہ اگر ضبط فغاں کیا کرتے پرسش غم کا سلیقہ بھی تو یاروں میں نہ تھا

غزل · Ghazal

miltaa nahin mizaaj khud apni adaa mein hai

ملتا نہیں مزاج خود اپنی ادا میں ہے تیری گلی سے آ کے صبا بھی ہوا میں ہے اے عشق تیری دوسری منزل بھی ہے کہیں مرنا ہے ابتدا میں تو کیا انتہا میں ہے لاتی ہے جب صبا تو چمکتے ہیں بام و در یہ روشنی سی کیا تری بوئے قبا میں ہے ہر رہ گزر نشاں ہے تری سمت کا مگر اقرار نا رسی بھی ہر اک نقش پا میں ہے توصیف حسن اصل میں ہے وصف حسن ساز بندوں سے جس کو پیار ہے یاد خدا میں ہے یہ تشنگی یہ پاس وفا یہ ہجوم غم کیا کاروان شوق کسی کربلا میں ہے سن کر کہ ہوشؔ نے بھی کیا ترک آرزو کہرام اک مچا ہوا شہر وفا میں ہے

Similar Poets