eid kaa chaand tum ne dekh liyaa
chaand ki eid ho gai hogi

Idris Azad
Idris Azad
Idris Azad
Popular Shayari
22 totalmain ne jitne bhi log dekhe hain
sab ke sinon mein rog dekhe hain
itne zaalim na bano kuchh to muravvat sikho
tum pe marte hain to kyaa maar hi Daaloge hamein
main to itnaa bhi samajhne se rahaa hon qaasir
raah takne ke sivaa aankh kaa maqsad kyaa hai
main apne aap se rahtaa huun duur eid ke din
ik ajnabi saa takalluf nae libaas mein hai
dil kaa darvaaza khulaa thaa koi Tiktaa kaise
jo bhi aataa thaa vo jaane ke liye aataa thaa
tiri taarif karne lag gayaa huun
mohabbat ne diyaanat chhin li hai
nahin nahin main akelaa to dil-girafta na thaa
shajar bhi baiThaa thaa mujh se kamar lagaae hue
jab chhoD gayaa thaa to kahaan chhoD gayaa thaa
lauTaa hai to lagtaa hai ki ab chhoD gayaa hai
main khud udaas khaDaa thaa kaTe darakht ke paas
parinda uD ke mire haath par utar aaya
main jis mein dafn huun ik chalti phirti qabr hai ye
janam nahin thaa vo dar-asl mar gayaa thaa main
use ehsaas honaa chaahiye thaa
ki bachche ko khilaunaa chaahiye thaa
Ghazalغزل
دائرے پر ہی کہیں ہوں کوئی منقوط وجود گنبد نیلی کا میں نقطۂ پرکار نہیں میں زمیں پر تو مقید ہوں مگر دم میں ہے دم آسماں بھی تو مکاں ہے پہ ہوا دار نہیں اب ترے بعد کسے دیکھوں کوئی ہے تو بتا اب کوئی زلف طرح دار طرح دار نہیں ورنہ صحرا سے بڑا شہر نہ ہوتا کوئی فطرت ریگ میں افرازیٔ دیوار نہیں میں ترے حسن کی قیمت تو لگانے سے رہا یہ مرا دل ہے کوئی مصر کا بازار نہیں آسماں پر ہے زمیں عرش کی مانند مقیم اور اس عرش پہ جز احمد مختار نہیں اس کے آنے سے کہیں دور چلے جاتے ہیں سچ کہوں چاند سے تاروں کو ذرا پیار نہیں سنت ہجرت یثرب پہ بھی چلتا لیکن غار ہر راہ میں موجود ہے پر یار نہیں
daaere par hi kahin huun koi manqut-e-vajud
صبر سے ٹوٹا ہوا ضبط سے ہارا ہوا میں جتنا باقی بچا ہوں اتنا تمہارا ہوا میں پھول کھلتے گئے بنتا گیا تن گلدستہ دیکھتے دیکھتے زخموں سے نظارہ ہوا میں عمر بھر دنیا کے ایندھن میں پکایا گیا ہوں آپ کے چاک سے ناپختہ اتارا ہوا میں اب زمیں زاد مجھے دیکھ کے رہ دیکھتے ہیں اونچا اڑتا گیا اتنا کہ ستارا ہوا میں چننے والوں کا بھلا ہو جو مجھے ڈھونڈ کے لائے ٹکڑے ٹکڑے کو ملا کر ہی تو سارا ہوا میں زندگی ایک جواری کا گزارا ہوا پل اور اس پل کے شبستان میں ہارا ہوا میں جب مرے دل کا مچلتا ہوا ارماں ہوئے آپ آپ کی جنبش ابرو کا اشارہ ہوا میں آپ کو دیکھ کے کافر ہوا تھا شومئی بخت آپ سے مل کے مسلمان دوبارہ ہوا میں اب کسی لوح لحد کی طرح مٹتا ہوا نقش اور پھر حشر میں اک نام پکارا ہوا میں اپنی دیرینہ روایات کا سودا کر کے اپنے اجداد کی دولت کا خسارہ ہوا میں سالہا سال نگاہوں کے چلن سیکھے ہیں اب کہیں جا کے زمانے کو گوارا ہوا میں
sabr se TuuTaa huaa zabt se haaraa huaa main
مرے واسطے وہ عدم ہوئے جو صف عدو سے نکل گئے مری محفلوں سے نکل گئے مری گفتگو سے نکل گئے وہ جو ایک پانی کی بوند تھی ترے بحر زہر میں ضم ہوئی وہ جو قطرہ ہائے شراب تھے تری آب جو سے نکل گئے جو مقام لا پہ کھڑے رہے صف سرخ رو میں کھڑے رہے جو مقام لا سے نکل گئے صف سرخ رو سے نکل گئے ترے رنگ و بو کو بھی دیکھتے نہ خیال تھا نہ مجال تھی جو سکت ملی تجھے دیکھنے کی تو رنگ و بو سے نکل گئے ہمیں صرف تیری تلاش تھی سفر آسماں کا کیا شروع ابھی سنگ میل تھا ساتواں تری جستجو سے نکل گئے تھے جو حکم سجدہ پہ معترض کہ شرار دہر کا ناز تھے وہ فصیل وقت کو توڑ کر ترے کاخ و کو سے نکل گئے
mire vaaste vo adam hue jo saf-e-adu se nikal gae
وفور شعر ہے اور رات ہونے والی ہے تو چاند ہے تو ملاقات ہونے والی ہے تمہاری بات نے دل کی گھٹا کو چھیڑ دیا ہماری آنکھوں سے برسات ہونے والی ہے یہ ایک ساتھ جو خاموش ہو گئے ہیں لوگ ضرور کوئی بڑی بات ہونے والی ہے ہر ایک شخص ہی تیشہ اٹھائے پھرتا ہے بتوں کی شہر میں بہتات ہونے والی ہے وہ اپنی آنکھوں میں آیات لکھ کے لایا ہے اس اجنبی سے مجھے مات ہونے والی ہے میں جانتا ہوں حقیقت سوانگ محشر کی یہ دل لگی بھی مرے ساتھ ہونے والی ہے وہ کار عشق میں بھی کامیاب ہو گیا ہے اب اس کو لمبی حوالات ہونے والی ہے ہمارے ضبط کی پختہ روی سے لگتا ہے کچھ اور تلخیٔ اوقات ہونے والی ہے سفر تو ہوگا مگر راستے نہیں ہوں گے عجیب صورت حالات ہونے والی ہے
vafur-e-sher hai aur raat hone vaali hai
میں اپنے عشق میں پیہم زوال دیکھتا ہوں جو تیرے چاہنے والوں کا حال دیکھتا ہوں میں اس لیے بھی نہیں دیکھتا ہوں آئینہ وہاں جو چہرہ ہے اس پر جلال دیکھتا ہوں بدل گئی ہے سماعت مری بصارت سے میں خواب سنتا ہوں لیکن خیال دیکھتا ہوں کہا ہے تو نے کہ تیری مثال کوئی نہیں مگر میں نور میں تیری مثال دیکھتا ہوں میں چاہتا ہوں کہ خود خاک پر اتر آؤں جب آسماں سے زمیں کا جمال دیکھتا ہوں ہزار وسوسے دل میں ابھرنے لگتے ہیں جب کسی غریب کے شانے پہ شال دیکھتا ہوں میں ہونٹ دیکھتا ہوں پھول دیکھنے کے بعد تو تیرے دست ہنر کا کمال دیکھتا ہوں پھر اس کے بعد کوئی بات کر نہیں پاتا جب اس فقیر کی آنکھوں کو لال دیکھتا ہوں بصد خلوص نصیحت کو سنتا رہتا ہوں پھر اپنے ہاتھ سے میں اپنا گال دیکھتا ہوں جو درد سہتے ہیں لیکن خموش رہتے ہیں اب ایسے لوگ بڑے خال خال دیکھتا ہوں
main apne ishq mein paiham zavaal dekhtaa huun
زمانہ آنکھ سے اوجھل مکان سامنے ہے چھپی ہوئی ہے حقیقت گمان سامنے ہے نگاہ الجھی ہوئی ہے وہیں مگر دل کے کھلی زمین کھلا آسمان سامنے ہے کھڑا ہے تان کے وہ ابروؤں کی شمشیریں ادھر یہ جان مری ناتوان سامنے ہے کروں گا روزے کا اظہار کس طرح تم پر نماز کا تو جبیں پر نشان سامنے ہے جھکاؤں سر تو زمیں کھینچتی ہے سوئے پتال اٹھاؤں سر کو تو سارا جہان سامنے ہے رکا ہوا وہ کوئی کاروان سامنے ہے وہ چل کے ٹھہر گیا ہے چٹان سامنے ہے مرے وجود کو جنبش کا اختیار نہیں تمہاری آنکھوں کا آئینہ دان سامنے ہے میں اشتہا کی اذیت میں ہوں نہ کھینچ مجھے ابھی ہے طور بہت دور نان سامنے ہے
zamaana aankh se ojhal makaan saamne hai





