main charaagh se jalaa charaagh huun
raushni hai pesha khaandaan kaa

Irshad Khan Sikandar
Irshad Khan Sikandar
Irshad Khan Sikandar
Popular Shayari
24 totalkar gayaa khamosh mujh ko der tak
chikhnaa vo ek be-zabaan kaa
bah gae aansuon ke dariyaa mein
aap ki baat yaad hi na rahi
khinch laai hai mohabbat tire dar par mujh ko
itni aasaani se varna kise haasil huaa main
buDhi maan kaa shaayad lauT aayaa bachpan
guDiyon kaa ambaar lagaa kar baiTh gai
mire khilaaf sabhi saazishein rachin jis ne
vo ro rahaa hai miri daastaan sunaataa huaa
kal teri tasvir mukammal ki main ne
fauran us par titli aa kar baiTh gai
rishta bahaal kaash phir us ki gali se ho
ji chaahtaa hai ishq dobaara usi se ho
kaam sab ho gae mire aasaan
kaun samjhegaa meri mushkil ko
khvaab kyaa us kaa bunaa main ruuh tak tar ho gayaa
ek qatra is qadar phailaa samundar ho gayaa
kyaa kisi kaa lams phir insaan banaaegaa mujhe
us ke jaate hi samucha jism patthar ho gayaa
raat guzre to safar par niklein
mujh mein soe hain musaafir mere
Ghazalغزل
اچانک سارے منظر بول اٹھے ہنسی گونجی تو پتھر بول اٹھے پڑھا جیسے ہی میں نے عشق نامہ سبھی جانب سے خنجر بول اٹھے وہی سونی سڑک تھی اور میں تھا تری یادوں کے لشکر بول اٹھے زبانیں بند ہوں گی شہر بھر کی کسی دن گر سمندر بول اٹھے میں جن کے ہجر میں سر دھن رہا تھا وہ اک دن میرے اندر بول اٹھے
achaanak saare manzar bol uTThe
رشتہ بحال کاش پھر اس کی گلی سے ہو جی چاہتا ہے عشق دوبارہ اسی سے ہو انجام جو بھی ہو مجھے اس کی نہیں ہے فکر آغاز داستان سفر آپ ہی سے ہو خواہش ہے پہنچوں عشق کے میں اس مقام پر جب ان کا سامنا مری دیوانگی سے ہو کپڑوں کی وجہ سے مجھے کم تر نہ آنکئے اچھا ہو میری جانچ پرکھ شاعری سے ہو اب میرے سر پہ سب کو ہنسانے کا کام ہے میں چاہتا ہوں کام یہ سنجیدگی سے ہو دنیا کے سارے کام تو کرنا دماغ سے لیکن جب عشق ہو تو سکندرؔ وہ جی سے ہو
rishta bahaal kaash phir us ki gali se ho
چھاؤں افسوس دائمی نہ رہی دھوپ کا کیا رہی رہی نہ رہی آسرا چھن گیا ہے جینے کا آس تھی جو رہی سہی نہ رہی ہو گیا خواب پھول سا چہرہ شاخ دل بھی ہری بھری نہ رہی بہہ گئے آنسوؤں کے دریا میں آپ کی بات یاد ہی نہ رہی اک اداسی تھی رات تھی ہم تھے اور پھر حاجت خوشی نہ رہی مشورہ جس کا تس رہا لیکن مشوروں کی کبھی کمی نہ رہی واقعہ جو ہوا ہوا لیکن داستاں آپ سے جڑی نہ رہی ان علاقوں میں کیا رہا صاحب جن علاقوں میں شاعری نہ رہی اک تمنا تھی تیری محفل میں کیوں رہیں ہم اگر وحی نہ رہی
chhaanv afsos daaimi na rahi
بہت چپ ہوں کہ ہوں چونکا ہوا میں زمیں پر آ گرا اڑتا ہوا میں بدن سے جان تو جا ہی چکی تھی کسی نے چھو لیا زندہ ہوا میں نہ جانے لفظ کس دنیا میں کھوئے تمہارے سامنے گونگا ہوا میں بھنور میں چھوڑ آئے تھے مجھے تم کنارے آ لگا بہتا ہوا میں بظاہر دکھ رہا ہوں تنہا تنہا کسی کے ساتھ ہوں بچھڑا ہوا میں چلا آیا ہوں صحراؤں کی جانب تمہارے دھیان میں ڈوبا ہوا میں اب اپنے آپ کو خود ڈھونڈھتا ہوں تمہاری کھوج میں نکلا ہوا میں مری آنکھوں میں آنسو تو نہیں ہیں مگر ہوں روح تک بھیگا ہوا میں بنائی کس نے یہ تصویر سچی وہ ابھرا چاند یہ ڈھلتا ہوا میں
bahut chup huun ki huun chaunkaa huaa main
باندھتے شاعری میں ہو تل کو کیا کوئی راس آ گیا دل کو جانتی ہیں کہ اب وداعی ہے کشتیاں چومتی ہیں ساحل کو کام سب ہو گئے مرے آساں کون سمجھے گا میری مشکل کو پاؤں میں آنکھ تو نہیں پھر بھی دیکھتے ہیں قدم یہ منزل کو شام ہے میں ہوں بند کمرہ ہے ڈھونڈھتے ہیں چراغ محفل کو غم سے اک عمر کے مراسم ہیں توڑ دوں کیسے میں سلاسل کو دیکھ کر رو پڑا مری حالت کون سا غم ہے میرے قاتل کو
baandhte shaaeri mein ho til ko
رشتہ بحال کاش پھر اس کی گلی سے ہو جی چاہتا ہے عشق پھر اسی سے ہو خواہش ہے پہنچوں عشق کے میں اس مقام پر جب ان کا سامنا میری دیوانگی سے ہو اب میرے سر پہ سب کو ہنسانے کا کام ہے میں چاہتا ہوں کام یہ سنجیدگی سے ہو کپڑوں کی وجہ سے مجھے کمتر نہ آنکئے اچھا ہو میری جانچ پرکھ شاعری سے ہو
rishta bahaal kaash phir us ki gali se ho





