SHAWORDS
Jagat Mohan Lal Ravan

Jagat Mohan Lal Ravan

Jagat Mohan Lal Ravan

Jagat Mohan Lal Ravan

poet
12Shayari
11Ghazal

Popular Shayari

12 total

Ghazalغزل

See all 11
غزل · Ghazal

یوں ہی گر ہر سانس میں تھوڑی کمی ہو جائے گی ختم رفتہ رفتہ اک دن زندگی ہو جائے گی دیکھنے والے فقط تصویر ظاہر پر نہ جا ہر نفس کے ساتھ دنیا دوسری ہو جائے گی گر یہی فصل جنوں زا ہے یہی ابر بہار عظمت توبہ نثار میکشی ہو جائے گی مرگ بے ہنگام کہتے ہیں جسے آج اہل درد کل یہی صورت بدل کر زندگی ہو جائے گی ذکر ہے زنداں میں وہ گلزار پر بجلی گری آج میرے آشیاں میں روشنی ہو جائے گی سجدہ گاہ عام پر سجدے سے کچھ حاصل نہیں مفت آلودہ جبین بندگی ہو جائے گی ختم ہے شب چہرۂ مشرق سے اٹھتی ہے نقاب دم زدن میں روشنی ہی روشنی ہو جائے گی متصل ہیں ضعف و قوت کی حدیں ہاں ہوشیار ورنہ اس ترک خودی میں خودکشی ہو جائے گی زخم بھی تازہ ہے اور دل بھی نہیں مانوس درد رفتہ رفتہ یوں ہی عادت صبر کی ہو جائے گی شمع سا جب شام ہی سے ہے گداز دل رواںؔ صبح تک کیا جانے کیا حالت تری ہو جائے گی

yunhi gar har saans mein thoDi kami ho jaaegi

غزل · Ghazal

گل ویرانہ ہوں کوئی نہیں ہے قدرداں میرا تو ہی دیکھ اے مرے خلاق حسن رائیگاں میرا یہ کہہ کر روح نکلی ہے تن عاشق سے فرقت میں مجھے عجلت ہے بڑھ جائے نہ آگے کارواں میرا ہوا اس کو اڑا لے جائے اب یا پھونک دے بجلی حفاظت کر نہیں سکتا مری جب آشیاں میرا زمیں پر بار ہوں اور آسمان سے دور اے مالک نہیں معلوم کچھ آخر ٹھکانا ہے کہاں میرا مجھے نغمے کا لطف آتا ہے راتوں کی خموشی میں دل بشکستہ ہے اک ساز آہنگ فغاں میرا وہیں سے ابتدائے کوچۂ دلدار کی حد ہے قدم خود چلتے چلتے آ کے رک جائے جہاں میرا ذرا دور اور ہے اے کشتئ عمر رواں ساحل کہ اس بحر جہاں میں ہر نفس ہے بادباں میرا ہوئی جاتی ہے تنہائی میں لذت روح کی ضائع لٹا جاتا ہے ویرانے میں گنج شائگاں میرا عناصر ہنستے ہیں دنیا کی وسعت مسکراتی ہے کسی سے پوچھتے ہیں اہل بینش جب نشاں میرا مرے بعد اور پھر کوئی نظر مجھ سا نہیں آتا بہت دن تک رکھیں گے سوگ اہل خانداں میرا غنیمت ہے نفس دو چار جو باقی ہیں اب ورنہ کبھی کا لٹ چکا سرمایۂ سود و زیاں میرا ابھی تک فصل گل میں اک صدائے درد آتی ہے وہاں کی خاک سے پہلے جہاں تھا آشیاں میرا رواںؔ سچ ہے محبت کا اثر ضائع نہیں ہوتا وہ رو دیتے ہیں اب بھی ذکر آتا ہے جہاں میرا

gul-e-viraana huun koi nahin hai qadr-daan meraa

غزل · Ghazal

غرض رہبر سے کیا مجھ کو گلہ ہے جذب کامل سے کہ جتنا بڑھ رہا ہوں ہٹ رہا ہوں دور منزل سے سکوت بے محل تقریر بے موقع کی تہمت کیوں اٹھانا ہو تو یوں ہم کو اٹھا دو اپنی محفل سے یہ ارمان ترقی آج ہے دعویٰ خدائی کا اسی دل کا جو کل تک تھا لہو کی بوند مشکل سے گل و لالہ پہ آخر کر رہا ہے غور کیا گلچیں یہ وہ خوں ہے جو ٹپکا تھا کبھی چشم عنادل سے شب مہتاب دریا کا کنارہ اور یہ سناٹا تمہیں اس ساز پر ہم خوش کریں گے نغمۂ دل سے غضب ہے جل کے پروانوں کا ان کی بزم میں کہنا رواںؔ یا یوں فدا ہو جاؤ یا اٹھ جاؤ محفل سے

gharaz rahbar se kyaa mujh ko gila hai jazb-e-kaamil se

غزل · Ghazal

جینے میں تھی نہ نزع کے رنج و محن میں تھی عاشق کی ایک بات جو دیوانہ پن میں تھی سادہ ورق تھا باہمہ گل ہائے رنگ رنگ تفسیر جان پاک بیاض کفن میں تھی بڑھتا تھا اور ذوق طلب بیکسی کے ساتھ کچھ دل کشی عجیب نواح وطن میں تھی بیمار جب ہیں کرتے ہیں فریاد چارہ گر کیا داستان درد سکوت محن میں تھی کہتا تھا چشم شوق سے وہ آفتاب حسن ہلکی سی اک شعاع تھی جو انجمن میں تھی کچھ اضطراب عشق کا عالم نہ پوچھئے بجلی تڑپ رہی تھی کہ جان اس بدن میں تھی کس سے کہوں کہ تھی وہی گل ہائے رنگ رنگ بکھری ہوئی جو خاک سواد چمن میں تھی

jiine mein thi na nazaa ke ranj o mehan mein thi

غزل · Ghazal

سب کو گمان بھی کہ میں آگاہ راز تھا کس درجہ کامیاب فریب مجاز تھا مثل مہہ دو ہفتہ وہی سرفراز تھا جس کی جبین شوق پہ داغ نیاز تھا پوچھو نہ حال کشمکش یاس و آرزو وہ بھی عجیب مرحلۂ جانگداز تھا جب تک حقیقتوں سے مرا دل تھا بے خبر بیچارہ مبتلائے غم امتیاز تھا جھونکا ہوائے سرو کا رندوں کے واسطے خمخانۂ بہار سے حکم جواز تھا اہل جہاں کے کفر و توہم کا کیا علاج آئینہ کہہ رہا ہے کہ آئینہ ساز تھا مضمر تھے میری ذات میں اسرار کائنات میں آپ راز آپ ہی خود شرح راز تھا آئیں پسند کیا اسے دنیا کی راحتیں جو لذت آشنائے ستم ہائے ناز تھا خلقت سمجھ رہی تھی جسے اضطراب دل پنہاں اسی میں ہستی عاشق کا راز تھا اچھا ہوا ہمیشہ کو چپ ہو گیا رواںؔ اک اک نفس غریب کا ہستی گداز تھا

sab ko gumaan bhi ki main aagaah-e-raaz thaa

غزل · Ghazal

انجام یہ ہوا ہے دل بے قرار کا تھمتا نہیں ہے پانوں ہمارے غبار کا پہلے کیا خیال نہ گل کا نہ خار کا اب دکھ رہا ہے پانوں نسیم بہار کا پیہم دیے وہ رنج کہ انساں بنا دیا منت پذیر ہوں ستم روزگار کا اس کو خزاں کے آنے کا کیا رنج کیا قلق روتے کٹا ہو جس کو زمانہ بہار کا مخفی ہے اس میں راز بقائے حیات عشق کیا پوچھتے ہو حال دل بے قرار کا مجبوریاں ستم ہیں وگرنہ خدا کی شان میں اور یوں گزار دوں موسم بہار کا غافل نگاہ ہوش سے رنگ چمن کو دیکھ پروردۂ خزاں ہے زمانہ بہار کا نکلا ہے دم رواںؔ کا تمنا کے ساتھ ساتھ اللہ رے زور نالۂ بے اختیار کا

anjaam ye huaa hai dil-e-be-qaraar kaa

Similar Poets