SHAWORDS
Jameel Malik

Jameel Malik

Jameel Malik

Jameel Malik

poet
17Shayari
31Ghazal

Popular Shayari

17 total

Ghazalغزل

See all 31
غزل · Ghazal

راہ طلب میں آج یہ کیا معجزہ ہوا خواب عدم میں جو بھی گیا جاگتا ہوا میداں میں ہار جیت کا یوں فیصلہ ہوا دنیا تھی ان کے ساتھ ہمارا خدا ہوا برسوں کی دوستی کا چلن کیا سے کیا ہوا کس منہ سے ہم ملیں گے اگر سامنا ہوا صدیوں کا درد وقت کی آواز بن گیا پھر سے بپا وہ معرکۂ کربلا ہوا لایا ہے رنگ خون شہیداں بہ فیض شوق نظروں کے سامنے ہے گلستاں کھلا ہوا پتھر بنے ہوئے تھے زباں دے گیا ہمیں احساس کی رگوں میں لہو بولتا ہوا راہیں سمٹ سمٹ کے نگاہوں میں آ گئیں جو بھی قدم اٹھا وہی منزل نما ہوا آنکھوں میں مشعلیں ہیں فروزاں دوام کی دل میں ہے تیری یاد کا کانٹا چبھا ہوا تو منزل حیات سے آگے نکل گیا میں آ رہا ہوں تیرا پتہ پوچھتا ہوا جاں نذر کی تو دونوں جہاں مل گئے ہمیں طے مرگ و زندگی کا ہر اک مرحلہ ہوا یوں دل میں آج نور کی بارش ہوئی جمیلؔ جیسے کوئی چراغ جلا دے بجھا ہوا

raah-e-talab mein aaj ye kyaa moajaza huaa

1 views

غزل · Ghazal

یہ منظر یہ روپ انوکھے سب شہکار ہمارے ہیں ہم نے اپنے خون جگر سے کیا کیا نقش ابھارے ہیں صدیوں کے دل کی دھڑکن ہے ان کی جاگتی آنکھوں میں یہ جو فلک پر ہنس مکھ چنچل جگمگ جگمگ تارے ہیں ایک ذرا سی بھول پہ ہم کو اتنا تو بد نام نہ کر ہم نے اپنے گھاؤ چھپا کر تیرے کاج سنوارے ہیں کچھ باتیں کچھ راتیں کچھ برساتیں اپنا سرمایہ ماضی کے اندھیارے میں یہ جلتے دیپ ہمارے ہیں ایک جہاں کی کھوج میں اپنے پیار کی نگری چھوڑ آئے اور زمانہ یہ سمجھا ہم پیار کی بازی ہارے ہیں سب سے ہنس کر ملنے والے ہم کو کسی سے بیر نہیں دنیا ہے محبوب ہمیں اور ہم دنیا کو پیارے ہیں

ye manzar ye ruup anokhe sab shahkaar hamaare hain

1 views

غزل · Ghazal

کس کی محفل سے اٹھ کے آیا ہوں اپنے گھر میں ہوں اور تنہا ہوں تو مری زندگی کی شام نہ بن میں تری صبح کا اجالا ہوں چاند میں بستیاں بسا لینا مجھ کو ڈھونڈھو کہ میں بھی دنیا ہوں جان امروز رونق فردا کوئی سمجھے مجھے تو کیا کیا ہوں کیسے جھٹلائے‌ گی مجھے دنیا میں کہ حالات کا تقاضا ہوں میری خوشبو سے بس رہے ہیں چمن میں ہر اک شاخ گل سے پیدا ہوں یہ جہاں مزرع تمنا ہے اور میں حاصل تمنا ہوں

kis ki mahfil se uTh ke aayaa huun

1 views

غزل · Ghazal

دوستوں کے درمیاں بھی ہم کو تنہا دیکھتے تم کبھی آتے سر محفل تماشا دیکھتے آئنہ خانوں میں کیا رکھا ہے حیرت کے سوا کوچہ و بازار میں خون مسیحا دیکھتے موت کو بھی ہم بنا لیتے متاع زندگی قتل یوں ہوتے کہ سب دانا و بینا دیکھتے قیس کی مانند کیوں تصویر بن کر رہ گئے پردۂ محمل اٹھا کر روئے لیلیٰ دیکھتے میں تمہارے حسن کا بے ساختہ اظہار ہوں اپنے آئینے میں میرا بھی سراپا دیکھتے ڈھونڈنے نکلے ہیں تجھ کو ماورائے آب و گل عمر گزری یم بہ یم صحرا بہ صحرا دیکھتے کیا یہ کم ہے فرش سے تا عرش ہو آئے جمیلؔ چار دن کی زندگی میں اور کیا کیا دیکھتے

doston ke darmiyaan bhi ham ko tanhaa dekhte

1 views

غزل · Ghazal

کل تک کتنے ہنگامے تھے اب کتنی خاموشی ہے پہلے دنیا تھی گھر میں اب دنیا سے رو پوشی ہے پل بھر جاگے گہری نیند کا جھونکا آیا ڈوب گئے کوئی غفلت سی غفلت مدہوشی سی مدہوشی ہے جتنا پیار بڑھایا ہم سے اتنا درد دیا دل کو جتنے دور ہوئے ہو ہم سے اتنی ہم آغوشی ہے سب کو پھول اور کلیاں بانٹو ہم کو دو سوکھے پتے یہ کیسے تحفے لائے ہو یہ کیا برگ فروشی ہے رنگ حقیقت کیا ابھرے گا خواب ہی دیکھتے رہنے سے جس کو تم کوشش کہتے ہو وہ تو لذت-کوشی ہے ہوش میں سب کچھ دیکھ کے بھی چپ رہنے کی مجبوری تھی کتنی معنی خیز جمیلؔ ہماری یہ بے حوشی ہے

kal tak kitne hangaame the ab kitni khaamoshi hai

1 views

غزل · Ghazal

محفلیں خواب ہوئیں رہ گئے تنہا چہرے وقت نے چھین لیے کتنے شناسا چہرے ساری دنیا کے لیے ایک تماشا چہرے دل تو پردے میں رہے ہو گئے رسوا چہرے تم وہ بے درد کہ مڑ کر بھی نہ دیکھا ان کو ورنہ کرتے رہے کیا کیا نہ تقاضا چہرے کتنے ہاتھوں نے تراشے یہ حسیں تاج محل جھانکتے ہیں در و دیوار سے کیا کیا چہرے سوئے پتوں کی طرح جاگتی کلیوں کی طرح خاک میں گم تو کبھی خاک سے پیدا چہرے خود ہی ویرانئ دل خود ہی چراغ محفل کبھی محروم تمنا کبھی شیدا چہرے خاک اڑتی بھی رہی ابر برستا بھی رہا ہم نے دیکھے کبھی صحرا کبھی دریا چہرے یہی امروز بھی ہنگامۂ فردا بھی یہی پیش کرتے رہے ہر دور کا نقشہ چہرے دیپ جلتے ہی رہے طاق پہ ارمانوں کے کتنی صدیوں سے ہے ہر گھر کا اجالا چہرے ختم ہو جائیں جنہیں دیکھ کے بیماری دل ڈھونڈ کر لائیں کہاں سے وہ مسیحا چہرے داستاں ختم نہ ہوگی کبھی چہروں کی جمیلؔ حسن یوسف تو کبھی عشق زلیخا چہرے

mahfilein khvaab huiin rah gae tanhaa chehre

1 views

Similar Poets