SHAWORDS
Jameel Mazhari

Jameel Mazhari

Jameel Mazhari

Jameel Mazhari

poet
11Shayari
37Ghazal

Popular Shayari

11 total

Ghazalغزل

See all 37
غزل · Ghazal

خلاف رسم تغزل غزل سرا ہوں میں رباب وقت کی بگڑی ہوئی صدا ہوں میں فضائیں دیں نہ جگہ میری بے قراری کو ہوائیں مجھ کو سلا دیں کہ جاگتا ہوں میں جرس ہوں میں مرا نالہ مری طبیعت ہے یہ کیوں کہوں کہ کسی کو پکارتا ہوں میں گرا تو ہوں مگر اے چشم اعتبار یہ دیکھ کہ کس بلندئ معیار سے گرا ہوں میں مری فغاں سے شکایت ہے سونے والوں کو مرا گناہ یہی ہے کہ جاگتا ہوں میں جمیلؔ خنکئ مرہم کا میں نہیں قائل جراحتوں کو نمک داں دکھا رہا ہوں میں

khilaaf-e-rasm-e-taghazzul ghazal-saraa huun main

غزل · Ghazal

مدت سے ہے لباس بدن تار تار دوست میلا بھی ہے اتار اب اس کو اتار دوست بخیے کی اب جگہ ہے نہ پیوند کی جگہ کیا سی رہے ہیں اس کو ترے غم گسار دوست تھا جس میں زندگی کا گماں وہ تو جا چکی یہ زندگی ہے اس کے قدم کا غبار دوست جو زندگی تھی لغزش پیہم کا سلسلہ ہے جنبش خفیف اسے ناگوار دوست آگے جو جا چکا ہے وہ ہر لمحۂ حیات تجھ کو پکارتا ہے سن اس کی پکار دوست حالات نے جو لاد دیا تیری پیٹھ پر گردن جھٹک کے پھینک دے جلدی وہ بار دوست تھی زندگی خدا کا غضب اور مظہریؔ موت اک خدا کا پیار ہے لے اس کا پیار دوست

muddat se hai libaas-e-badan taar taar dost

غزل · Ghazal

جمیلؔ کو گمرہی مبارک کہ اب تو سامان بھی وہی ہے جو دل کی وحشت کا تھا تقاضہ خرد کا میلان بھی وہی ہے خودی محبت کے فلسفے میں ہے اس کے جذبوں کی موت لیکن کچھ اور دل میں اتر کے دیکھو تو عشق کی جان بھی وہی ہے بنی تھی ہمدرد عشق کی جب تو عقل کو یہ بھی دیکھنا تھا کہ جس کو وو فائدہ سمجھتی ہے اس کا نقصان بھی وہی ہے ہماری میزان آگہی میں یقین کیا ہے گماں کی شدت جو شک کی آغوش میں پلا ہو اصولاً ایمان بھی وہی ہے جمیلؔ کیسی خدا پرستی وہی گھٹی خواہشوں کی مستی ڈبوئی جس نے ہماری کشتی تمہارا طوفان بھی وہی ہے

'jamil' ko gumrahi mubaarak ki ab to saamaan bhi vahi hai

غزل · Ghazal

بہت مشکل ہے پاس لذت درد جگر کرنا کسی سے عشق کرنا اور وہ بھی عمر بھر کرنا سر محفل ترا وہ پرسش زخم جگر کرنا مری جانب بمشکل اک نظر کرنا مگر کرنا مسلم ہو گئی ہے بے اختیاری جذب باطن کی محبت اس سے کرنا جس سے نفرت اس قدر کرنا یہاں بال و پری بھی ایک صورت ہے اسیری کی اسیر بال و پر ہو کر غرور بال و پر کرنا تجھے حق ہے کہ تو پردہ اٹھائے روئے روشن سے کہ تیرے حسن کو آتا ہے تہذیب نظر کرنا بڑھا کر ہاتھ تارے آسماں سے کون توڑے گا جمیلؔ اک کار نا ممکن ہے تقلید قمر کرنا

bahut mushkil hai paas-e-lazzat-e-dard-e-jigar karnaa

غزل · Ghazal

میں کیا بتاؤں کہ تو کیا ہے اور کیا ہوں میں ہجوم لفظ و معانی میں کھو گیا ہوں میں پنہا دے کوئی محبت کی ایک کڑی زنجیر کہ قید فرض سے باہر نکل گیا ہوں میں ثواب کو نئی شکلیں جو دے رہا ہے تو گناہ کے نئے سانچے بنا رہا ہوں میں جنوں مرا خرد آسودۂ نتائج ہے خود اپنے پاؤں کی زنجیر ڈھالتا ہوں میں مری نظر میں تجلی کی کیا حقیقت ہے تجلیوں کی حقیقت کو دیکھتا ہوں میں گرا چکا تھا جسے کل نظر سے اپنی جمیلؔ غرور اب اسی پستی پہ کر رہا ہوں میں

main kyaa bataaun ki tu kyaa hai aur kyaa huun main

غزل · Ghazal

بلاؤ اس کو زباں داں جو مظہریؔ کا ہو مگر ہے شرط کہ اکیسویں صدی کا ہو یقیں وہی ہے جو آغوش تیرگی میں ملے سواد وہم میں ہم سایہ روشنی کا ہو بتوں کو توڑ کے ایسا خدا بنانا کیا بتوں کی طرح جو ہم شکل آدمی کا ہو مرا غرور نہ کیوں ہو سرور سے خالی جب اس کے بھیس میں اک چور کم تری کا ہو بہت بجا ہے یہ مذہب کی موت پر ماتم مگر کوئی تو عزا دار شاعری کا ہو ہے وقت وہ کہ مسلم ہو آذری اس کی صنم کدوں میں صنم ذہن مظہریؔ کا ہو

bulaao us ko zabaan-daan jo 'mazhari' kaa ho

Similar Poets