SHAWORDS
Kaifi Azmi

Kaifi Azmi

Kaifi Azmi

Kaifi Azmi

poet
40Shayari
20Ghazal

Popular Shayari

40 total

Ghazalغزل

See all 20
غزل · Ghazal

شور یوں ہی نہ پرندوں نے مچایا ہوگا کوئی جنگل کی طرف شہر سے آیا ہوگا پیڑ کے کاٹنے والوں کو یہ معلوم تو تھا جسم جل جائیں گے جب سر پہ نہ سایہ ہوگا بانیٔ جشن بہاراں نے یہ سوچا بھی نہیں کس نے کانٹوں کو لہو اپنا پلایا ہوگا بجلی کے تار پہ بیٹھا ہوا ہنستا پنچھی سوچتا ہے کہ وہ جنگل تو پرایا ہوگا اپنے جنگل سے جو گھبرا کے اڑے تھے پیاسے ہر سراب ان کو سمندر نظر آیا ہوگا

shor yunhi na parindon ne machaayaa hogaa

غزل · Ghazal

لائی پھر اک لغزش مستانہ تیرے شہر میں پھر بنیں گی مسجدیں مے خانہ تیرے شہر میں آج پھر ٹوٹیں گی تیرے گھر کی نازک کھڑکیاں آج پھر دیکھا گیا دیوانہ تیرے شہر میں جرم ہے تیری گلی سے سر جھکا کر لوٹنا کفر ہے پتھراؤ سے گھبرانا تیرے شہر میں شاہ نامے لکھے ہیں کھنڈرات کی ہر اینٹ پر ہر جگہ ہے دفن اک افسانہ تیرے شہر میں کچھ کنیزیں جو حریم ناز میں ہیں باریاب مانگتی ہیں جان و دل نذرانہ تیرے شہر میں ننگی سڑکوں پر بھٹک کر دیکھ جب مرتی ہے رات رینگتا ہے ہر طرف ویرانہ تیرے شہر میں

laai phir ik laghzish-e-mastaana tere shahr mein

غزل · Ghazal

کہیں سے لوٹ کے ہم لڑکھڑائے ہیں کیا کیا ستارے زیر قدم رات آئے ہیں کیا کیا نشیب ہستی سے افسوس ہم ابھر نہ سکے فراز دار سے پیغام آئے ہیں کیا کیا جب اس نے ہار کے خنجر زمیں پہ پھینک دیا تمام زخم جگر مسکرائے ہیں کیا کیا چھٹا جہاں سے اس آواز کا گھنا بادل وہیں سے دھوپ نے تلوے جلائے ہیں کیا کیا اٹھا کے سر مجھے اتنا تو دیکھ لینے دے کہ قتل گاہ میں دیوانے آئے ہیں کیا کیا کہیں اندھیرے سے مانوس ہو نہ جائے ادب چراغ تیز ہوا نے بجھائے ہیں کیا کیا

kahin se lauT ke ham laDkhaDaae hain kyaa kyaa

غزل · Ghazal

کیا جانے کس کی پیاس بجھانے کدھر گئیں اس سر پہ جھوم کے جو گھٹائیں گزر گئیں دیوانہ پوچھتا ہے یہ لہروں سے بار بار کچھ بستیاں یہاں تھیں بتاؤ کدھر گئیں اب جس طرف سے چاہے گزر جائے کارواں ویرانیاں تو سب مرے دل میں اتر گئیں پیمانہ ٹوٹنے کا کوئی غم نہیں مجھے غم ہے تو یہ کہ چاندنی راتیں بکھر گئیں پایا بھی ان کو کھو بھی دیا چپ بھی ہو رہے اک مختصر سی رات میں صدیاں گزر گئیں

kyaa jaane kis ki pyaas bujhaane kidhar gaiin

غزل · Ghazal

وہ بھی سراہنے لگے ارباب فن کے بعد داد سخن ملی مجھے ترک سخن کے بعد دیوانہ وار چاند سے آگے نکل گئے ٹھہرا نہ دل کہیں بھی تری انجمن کے بعد ہونٹوں کو سی کے دیکھیے پچھتائیے گا آپ ہنگامے جاگ اٹھتے ہیں اکثر گھٹن کے بعد غربت کی ٹھنڈی چھاؤں میں یاد آئی اس کی دھوپ قدر وطن ہوئی ہمیں ترک وطن کے بعد اعلان حق میں خطرۂ دار و رسن تو ہے لیکن سوال یہ ہے کہ دار و رسن کے بعد انساں کی خواہشوں کی کوئی انتہا نہیں دو گز زمیں بھی چاہئے دو گز کفن کے بعد

vo bhi saraahne lage arbaab-e-fan ke baad

غزل · Ghazal

ملے نہ پھول تو کانٹوں سے دوستی کر لی اسی طرح سے بسر ہم نے زندگی کر لی اب آگے جو بھی ہو انجام دیکھا جائے گا خدا تلاش لیا اور بندگی کر لی نظر ملی بھی نہ تھی اور ان کو دیکھ لیا زباں کھلی بھی نہ تھی اور بات بھی کر لی وہ جن کو پیار ہے چاندی سے عشق سونے سے وہی کہیں گے کبھی ہم نے خودکشی کر لی

mile na phuul to kaanTon se dosti kar li

Similar Poets