SHAWORDS
Khalilur Rahman Azmi

Khalilur Rahman Azmi

Khalilur Rahman Azmi

Khalilur Rahman Azmi

poet
58Shayari
61Ghazal

Popular Shayari

58 total

Ghazalغزل

See all 61
غزل · Ghazal

میں دیر سے دھوپ میں کھڑا ہوں سایہ سایہ پکارتا ہوں سونا ہوں کرید کر تو دیکھو مٹی میں دبا ہوا پڑا ہوں لے مجھ کو سنبھال گردش وقت ٹوٹا ہوا تیرا آئینہ ہوں یوں ربط تو ہے نشاط سے بھی در اصل میں غم سے آشنا ہوں صحبت میں گلوں کی میں بھی رہ کر کانٹوں کی زباں سمجھ گیا ہوں دشمن ہو کوئی کہ دوست میرا ہر ایک کے حق میں میں دعا ہوں کیوں آب حیات کو میں ترسوں میں زہر حیات پی چکا ہوں تقدیر جنوں پہ چپ رہا میں تعبیر جنوں پہ رو رہا ہوں ہر عہد کے لوگ مجھ سے ناخوش ہر عہد میں خواب دیکھتا ہوں

main der se dhuup mein khaDaa huun

غزل · Ghazal

تمہارے پاس اک وحشی نے یہ پیغام بھیجا ہے کہ اب ہجراں نصیبوں کو بھلا دینا ہی اچھا ہے جنوں میں یوں تو کچھ اپنی خبر ملتی نہیں ہم کو کہ ایسا نام ہے جس پر ابھی تک دل دھڑکتا ہے یہ مانا سخت ہے یہ وادئ غربت کی تنہائی مجھے رہنے دے اے ہم دم یہیں اب جی بہلتا ہے دل ناداں کو راس آئی تمہاری کج ادائی بھی تمہاری بے وفائی میں بھی اک عالم نکلتا ہے یقیں آ کر دلاتے ہیں مجھے یہ قافلے والے ذرا کچھ اور آگے کوچۂ جاناں کا رستا ہے

tumhaare paas ik vahshi ne ye paighaam bhejaa hai

غزل · Ghazal

یہ الگ بات کہ ہر سمت سے پتھر آیا سر بلندی کا بھی الزام مرے سر آیا زندگی چھوڑ نے آئی مجھے دروازے تک رات کے پچھلے پہر میں جو کبھی گھر آیا بس دعا ہے کہ الٰہی یہ کوئی خواب نہ ہو کوئی سایہ مرے سائے کے برابر آیا بارہا سوچا کہ اے کاش نہ آنکھیں ہوتیں بارہا سامنے آنکھوں کے وہ منظر آیا کیا کہیں اب تو یہ عادت نہیں جاتی ہم سے جھوٹ بھی بولے تو سچ بن کے زباں پر آیا میں نہیں حق میں زمانے کو برا کہنے کے اب کے میں کھا کے زمانے کی جو ٹھوکر آیا سرخیٔ مے بھی ٹھہرتی نہیں ہر چہرے پر بو الہوس بھی اسی مے خانے سے ہو کر آیا

ye alag baat ki har samt se patthar aayaa

غزل · Ghazal

سوئی ہے کلی دل کی اس کو بھی جگا جانا اس راہ سے بھی ہو کر اے باد صبا جانا ہم بھولتے جاتے ہیں اس چہرۂ زیبا کو اے خواب ذرا اس کی صورت تو دکھا جانا جب موسم گل آئے اے نکہت آوارہ آ کر در زنداں کی زنجیر ہلا جانا پھر ہاتھ چھڑاتی ہے مجھ سے مری تنہائی پھر دل کے سنبھلنے کے انداز بتا جانا کس ناز سے پالا ہے ہم نے غم ہجراں کو اس غم کو ذرا آ کر سینے سے لگا جانا اوروں کے لیے یوں تو اک سنگ‌ راں ہم ہیں ہاں تم جو کبھی چاہو مٹی میں ملا جانا آنکھوں سے بھی اب دل کی روداد نہیں کہتے اب ہم سے کوئی سیکھے ہر بھید چھپا جانا اپنے ہی خرابے میں ہم عمر گزاریں گے جب تم کو ملے فرصت یہ گھر بھی بسا جانا

soi hai kali dil ki us ko bhi jagaa jaanaa

غزل · Ghazal

الٰہی آ نہ پڑے پھر کوئی غم تازہ اڑا اڑا سا ہے روئے نگار کا غازہ ابھی تو کتنے ہیں جن پر حرام ہے ساقی کہیں یہ توڑ نہ دیں مے کدے کا دروازہ اب انقلاب کی زد میں ہے تیری دنیا بھی بہت بچا کے تو دامن چلی تھی طنازہ یہ ایک قطرۂ خوں مرکز دو عالم ہے تمہیں نہیں ہے دل ناتواں کا اندازہ بھری بہار میں یہ میری چاک دامانی نہ جانے کب کا اٹھانا پڑا ہے خمیازہ

ilaahi aa na paDe phir koi gham-e-taaza

غزل · Ghazal

رخ پہ گرد ملال تھی کیا تھی حاصل ماہ و سال تھی کیا تھی ایک صورت سی یاد ہے اب بھی آپ اپنی مثال تھی کیا تھی میری جانب اٹھی تھی کوئی نگہ ایک مبہم سوال تھی کیا تھی اس کو پا کر بھی اس کو پا نہ سکا جستجوئے جمال تھی کیا تھی صبح تک خود سے ہم کلام رہا یہ شب جذب و حال تھی کیا تھی دل میں تھی پر لبوں تک آ نہ سکی آرزوئے وصال تھی کیا تھی اپنے زخموں پہ اک فسردہ ہنسی کوشش اندمال تھی کیا تھی عمر بھر میں بس ایک بار آئی ساعت لا زوال تھی کیا تھی خوں کی پیاسی تھی سر زمین وطن ایک شہر خیال تھی کیا تھی باعث رنجش عزیزاں تھی خوئے کسب کمال تھی کیا تھی اک جھلک لمحۂ فراغت تھی ایک امر محال تھی کیا تھی کوئی خواہاں نہ تھا کہ جنس ہنر ایک مفلس کا مال تھی کیا تھی

rukh pe gard-e-malaal thi kyaa thi

Similar Poets