SHAWORDS
Khursheed Akbar

Khursheed Akbar

Khursheed Akbar

Khursheed Akbar

poet
38Shayari
31Ghazal

Popular Shayari

38 total

Ghazalغزل

See all 31
غزل · Ghazal

مقدس پتھروں پر مدعا روشن نہ ہونے کا کہاں سر پھوڑیے اب معجزہ روشن نہ ہونے کا بھٹکتا پھر رہا ہوں نفس کے اندھے جزیرے میں سنا ہے اپنے حصے کا خدا روشن نہ ہونے کا سرایت کر گئیں ایمان کی خوش فہمیاں خوں میں درون قلب کوئی وسوسہ روشن نہ ہونے کا مرے تلووں پہ مسند ہو گئے کانٹے بیاباں کے دل وحشت زدہ میں آبلہ روشن نہ ہونے کا میں اس کی پہلی بارش بن کے پی جاؤں گا چپکے سے نہیں تو اس زمیں کا ذائقہ روشن نہ ہونے کا

muqaddas pattharon par muddaaa raushan na hone kaa

غزل · Ghazal

ایک عرض مدعا ہونے سے پہلے سوچ لینا تھا خدا ہونے سے پہلے خواہشیں کتنی ادھوری رہ گئی ہیں جسم و جاں میں فاصلہ ہونے سے پہلے آخری تحریر ہے آب رواں پر آخری بوسہ قضا ہونے سے پہلے اس قدر میٹھا نہ ہونا چاہئے تھا ان لبوں کو ذائقہ ہونے سے پہلے اس کی آنکھوں کے پیالے ناچتے ہیں کھو گئے کتنے نشہ ہونے سے پہلے کون جانے ڈوبنا ہے یا ابھرنا پانیوں میں راستہ ہونے سے پہلے خود کشی کر لی چمکتے چاند نے بھی آخر شب آئنا ہونے سے پہلے شہر سے شاداں گزر جانا ہے بہتر مشتعل آب و ہوا ہونے سے پہلے وہ مکین دل ہوا خورشید اکبرؔ گھر کا دروازہ کھلا ہونے سے پہلے

ek arz-e-muddaaa hone se pahle

غزل · Ghazal

گزر گئی ہے مجھے ریگ زار کرتی ہوئی وہ ایک مچھلی سمندر شکار کرتی ہوئی نہ جانے کتنے بھنور کو رلا کے آئے ہے یہ میری کشتیٔ جاں خود کو پار کرتی ہوئی وہ ایک ساعت معصوم دل کی پروردہ مکر گئی ہے مگر اعتبار کرتی ہوئی جنوں کی آخری لرزیدہ مضمحل سی رات جھپک گئی ہے ذرا انتظار کرتی ہوئی یہ کیسی خواہش نادید ہے دوراہے پر سہم گئی ہے ابھی مجھ پہ وار کرتی ہوئی لپٹ کے سو گئی آخر شمع فراق کے ساتھ شب سیاہ ستارے شمار کرتی ہوئی سفر میں کیسی حرارت قریب تھی خورشیدؔ اتر گئی ہے مجھے دھار دار کرتی ہوئی

guzar gai hai mujhe reg-zaar karti hui

غزل · Ghazal

کسی بھی شہر کا موسم سہانا چھوڑ دیتے ہیں گراں ہو جائیں تو ہم آب و دانہ چھوڑ دیتے ہیں فقط اک بھول نے ماں باپ کو القط کیا گھر میں کہ بیٹے جب سیانے ہوں کمانا چھوڑ دیتے ہیں میاں بیوی کے رشتے اعتمادوں کی امانت ہیں مگر اک آنکھ دونوں غائبانہ چھوڑ دیتے ہیں انہیں معلوم ہیں مجبور جیبوں کے تقاضے سب وہ ان میں خوب صورت سا بہانہ چھوڑ دیتے ہیں ہماری فاقہ مستی آسماں کے پیٹ بھرتی ہے ہم اپنے پاؤں کے نیچے خزانہ چھوڑ دیتے ہیں

kisi bhi shahr kaa mausam suhaanaa chhoD dete hain

غزل · Ghazal

دن بہت سفاک نکلا رات سب دکھ سہہ گئی دانت میں انگلی دبائے شام تنہا رہ گئی سنگ ریزوں کی طرح بکھری پڑی ہیں خواہشیں دیکھتے ہی دیکھتے کس کی حویلی ڈھ گئی صندلی خوابوں میں لپٹے تھے ہزاروں اژدہے اور پھر تاثیر جسم و جاں میں تہہ در تہہ گئی بے مروت ساعتوں کو روئیے کیوں عمر بھر ایک شے آنکھوں میں جو رہتی تھی کب کی بہہ گئی گھر کی دیواروں پہ سبزہ بن کے اگنا تھا مجھے اک ہوا صحرا سے آئی کان میں کچھ کہہ گئی

din bahut saffaak niklaa raat sab dukh sah gai

غزل · Ghazal

خوشی خوشبو خدا کی رو رہی ہے قضا کس کی کہانی ہو رہی ہے ہمارے شہر کی تصویر ہے یہ قیامت بال کھولے سو رہی ہے لہو کا نام سنتے ہی سفیدی ہتھیلی بے ارادہ دھو رہی ہے وہ میرا اشک یا تیری ہنسی ہو کشش ہر شے برابر کھو رہی ہے نہ جانے کس خطا پر اپنی بستی جنازے پر جنازہ ڈھو رہی ہے کہی جاتی نہیں خورشید اکبرؔ غزل میں اپنی کاوش جو رہی ہے

khushi khushbu khudaa ki ro rahi hai

Similar Poets