dard kaa zaaiqa bataaun kyaa
ye ilaaqa zabaan se baahar hai

Khursheed Akbar
Khursheed Akbar
Khursheed Akbar
Popular Shayari
38 totalshaam ke tiir se zakhmi hai 'khurshid' kaa siina
nuur simaT kar surkh kabutar ban jaataa hai
vo ek aaina chehre ki baat kartaa hai
vo ek aaina patthar se hai ziyaada kyaa
saahil se sunaa karte hain lahron ki kahaani
ye Thahre hue log baghaavat nahin karte
dil hai ki tire paanv se paazeb giri hai
suntaa huun bahut der se jhankaar kahin ki
quraan kaa mafhum unhein kaun bataae
aankhon se jo chehron ki tilaavat nahin karte
dalilein chhin kar mere labon se
vo mujh ko mujh se behtar kaaTtaa hai
zindagi! tujh ko magar sharm nahin aati kyaa
kaisi kaisi tiri tasvir nikal aai hai
duniyaa ko raundne kaa hunar jaantaa huun main
lekin ye sochtaa huun ki duniyaa ke baa'd kyaa
lahu tevar badaltaa hai kahaan tak
miraa beTaa siyaanaa ho to dekhun
khud se likhne kaa ikhtiyaar bhi de
varna qismat ki takhtiyaan le jaa
ai shahr-e-sitam-zaad tiri umr baDi ho
kuchh aur bataa naql-e-makaani ke alaava
Ghazalغزل
مقدس پتھروں پر مدعا روشن نہ ہونے کا کہاں سر پھوڑیے اب معجزہ روشن نہ ہونے کا بھٹکتا پھر رہا ہوں نفس کے اندھے جزیرے میں سنا ہے اپنے حصے کا خدا روشن نہ ہونے کا سرایت کر گئیں ایمان کی خوش فہمیاں خوں میں درون قلب کوئی وسوسہ روشن نہ ہونے کا مرے تلووں پہ مسند ہو گئے کانٹے بیاباں کے دل وحشت زدہ میں آبلہ روشن نہ ہونے کا میں اس کی پہلی بارش بن کے پی جاؤں گا چپکے سے نہیں تو اس زمیں کا ذائقہ روشن نہ ہونے کا
muqaddas pattharon par muddaaa raushan na hone kaa
ایک عرض مدعا ہونے سے پہلے سوچ لینا تھا خدا ہونے سے پہلے خواہشیں کتنی ادھوری رہ گئی ہیں جسم و جاں میں فاصلہ ہونے سے پہلے آخری تحریر ہے آب رواں پر آخری بوسہ قضا ہونے سے پہلے اس قدر میٹھا نہ ہونا چاہئے تھا ان لبوں کو ذائقہ ہونے سے پہلے اس کی آنکھوں کے پیالے ناچتے ہیں کھو گئے کتنے نشہ ہونے سے پہلے کون جانے ڈوبنا ہے یا ابھرنا پانیوں میں راستہ ہونے سے پہلے خود کشی کر لی چمکتے چاند نے بھی آخر شب آئنا ہونے سے پہلے شہر سے شاداں گزر جانا ہے بہتر مشتعل آب و ہوا ہونے سے پہلے وہ مکین دل ہوا خورشید اکبرؔ گھر کا دروازہ کھلا ہونے سے پہلے
ek arz-e-muddaaa hone se pahle
گزر گئی ہے مجھے ریگ زار کرتی ہوئی وہ ایک مچھلی سمندر شکار کرتی ہوئی نہ جانے کتنے بھنور کو رلا کے آئے ہے یہ میری کشتیٔ جاں خود کو پار کرتی ہوئی وہ ایک ساعت معصوم دل کی پروردہ مکر گئی ہے مگر اعتبار کرتی ہوئی جنوں کی آخری لرزیدہ مضمحل سی رات جھپک گئی ہے ذرا انتظار کرتی ہوئی یہ کیسی خواہش نادید ہے دوراہے پر سہم گئی ہے ابھی مجھ پہ وار کرتی ہوئی لپٹ کے سو گئی آخر شمع فراق کے ساتھ شب سیاہ ستارے شمار کرتی ہوئی سفر میں کیسی حرارت قریب تھی خورشیدؔ اتر گئی ہے مجھے دھار دار کرتی ہوئی
guzar gai hai mujhe reg-zaar karti hui
کسی بھی شہر کا موسم سہانا چھوڑ دیتے ہیں گراں ہو جائیں تو ہم آب و دانہ چھوڑ دیتے ہیں فقط اک بھول نے ماں باپ کو القط کیا گھر میں کہ بیٹے جب سیانے ہوں کمانا چھوڑ دیتے ہیں میاں بیوی کے رشتے اعتمادوں کی امانت ہیں مگر اک آنکھ دونوں غائبانہ چھوڑ دیتے ہیں انہیں معلوم ہیں مجبور جیبوں کے تقاضے سب وہ ان میں خوب صورت سا بہانہ چھوڑ دیتے ہیں ہماری فاقہ مستی آسماں کے پیٹ بھرتی ہے ہم اپنے پاؤں کے نیچے خزانہ چھوڑ دیتے ہیں
kisi bhi shahr kaa mausam suhaanaa chhoD dete hain
دن بہت سفاک نکلا رات سب دکھ سہہ گئی دانت میں انگلی دبائے شام تنہا رہ گئی سنگ ریزوں کی طرح بکھری پڑی ہیں خواہشیں دیکھتے ہی دیکھتے کس کی حویلی ڈھ گئی صندلی خوابوں میں لپٹے تھے ہزاروں اژدہے اور پھر تاثیر جسم و جاں میں تہہ در تہہ گئی بے مروت ساعتوں کو روئیے کیوں عمر بھر ایک شے آنکھوں میں جو رہتی تھی کب کی بہہ گئی گھر کی دیواروں پہ سبزہ بن کے اگنا تھا مجھے اک ہوا صحرا سے آئی کان میں کچھ کہہ گئی
din bahut saffaak niklaa raat sab dukh sah gai
خوشی خوشبو خدا کی رو رہی ہے قضا کس کی کہانی ہو رہی ہے ہمارے شہر کی تصویر ہے یہ قیامت بال کھولے سو رہی ہے لہو کا نام سنتے ہی سفیدی ہتھیلی بے ارادہ دھو رہی ہے وہ میرا اشک یا تیری ہنسی ہو کشش ہر شے برابر کھو رہی ہے نہ جانے کس خطا پر اپنی بستی جنازے پر جنازہ ڈھو رہی ہے کہی جاتی نہیں خورشید اکبرؔ غزل میں اپنی کاوش جو رہی ہے
khushi khushbu khudaa ki ro rahi hai





