SHAWORDS
Mah Laqa Chanda

Mah Laqa Chanda

Mah Laqa Chanda

Mah Laqa Chanda

poet
14Shayari
12Ghazal

Popular Shayari

14 total

Ghazalغزل

See all 12
غزل · Ghazal

گرچہ گل کی سیج ہو تس پر بھی اڑ جاتی ہے نیند سر رکھوں قدموں پہ جب تیرے مجھے آتی ہے نیند دیکھ سکتا ہی نہیں آنکھوں سے ٹک آنکھیں ملا منتظر سے مثل نرگس تیرے شرماتی ہے نیند جب سے یہ مژگاں ہوئے در پر ترے جاروب کش روبرو تب سے مری آنکھوں کے ٹل جاتی ہے نیند دھیان میں گل رو کے چین آتا نہیں افسانہ گر لے صبا سے گاہ بوئے یار بہلاتی ہے نیند اشک تو اتنے بہے چنداؔ کہ چشم خلق سے قرۃالعین علیؓ کے غم میں بہہ جاتی ہے نیند

garche gul ki sej ho tis par bhi uD jaati hai niind

غزل · Ghazal

عالم تری نگہ سے ہے سرشار دیکھنا میری طرف بھی ٹک تو بھلا یار دیکھنا ناداں سے ایک عمر رہا مجھ کو ربط عشق دانا سے اب پڑا ہے سروکار دیکھنا گردش سے تیری چشم کے مدت سے ہوں خراب تس پر کرے ہے مجھ سے یہ اقرار دیکھنا ناصح عبث کرے ہے منع مجھ کو عشق سے آ جائے وہ نظر تو پھر انکار دیکھنا چنداؔ کو تم سے چشم یہ ہے یا علی کہ ہو خاک نجف کو سرمۂ ابصار دیکھنا

aalam tiri nigah se hai sarshaar dekhnaa

غزل · Ghazal

نہ گل سے ہے غرض تیرے نہ ہے گلزار سے مطلب رکھا چشم نظر شبنم میں اپنے یار سے مطلب یہ دل دام نگہ میں ترک کے بس جا ہی اٹکا ہے بر آوے کس طرح اللہ اب خوں خوار سے مطلب بجز حق کے نہیں ہے غیر سے ہرگز توقع کچھ مگر دنیا کے لوگوں میں مجھے ہے پیار سے مطلب نہ سمجھا ہم کو تو نے یار ایسی جاں فشانی پر بھلا پاویں گے اے ناداں کسی ہشیار سے مطلب نہ چنداؔ کو طمع جنت کی نے خوف جہنم ہے رہے ہے دو جہاں میں حیدر کرار سے مطلب

na gul se hai gharaz tere na hai gulzaar se matlab

غزل · Ghazal

گل کے ہونے کی توقع پہ جئے بیٹھی ہے ہر کلی جان کو مٹھی میں لیے بیٹھی ہے کبھی صیاد کا کھٹکا ہے کبھی خوف خزاں بلبل اب جان ہتھیلی پہ لیے بیٹھی ہے تیر و شمشیر سے بڑھ کر ہے تری ترچھی نگاہ سیکڑوں عاشقوں کا خون کیے بیٹھی ہے تیرے رخسار سے تشبیہ اسے دوں کیوں کر شمع تو چربی کو آنکھوں میں دیئے بیٹھی ہے تشنہ لب کیوں رہے اے ساقیٔ کوثر چنداؔ یہ ترے جام محبت کو پیے بیٹھی ہے

gul ke hone ki tavaqqo pe jiye baiThi hai

غزل · Ghazal

رہے نو روز عشرت آفریں جوش بہار افزا گل افشاں ہے کرم تیرا چمن میں دہر کے ہر جا نہ پوچھو کوئی عیش و خرمی کو عہد میں اس کے کہ جس کے فیض سے گھر گھر ہے دور ساغر صہبا ارسطو جاہ وہ فرخ نژاد اہل عالم ہے کہ جس کے فضل و بخشش کا جہاں میں ہے علم برپا دعا ہے یہ موالی کی تصدق سے ائمہ کے رکھے سائے میں اپنے لطف کے تجھ کو علی مولیٰ نہیں کچھ زیب اے مہر سپہر معدلت اس میں عیاں چنداؔ پہ جو کچھ ہے نوازش یہ کرم فرما

rahe nau-roz ishrat-aafrin josh-e-bahaar-afzaa

غزل · Ghazal

بسنت آئی ہے موج رنگ گل ہے جوش صہبا ہے خدا کے فضل سے عیش و طرب کی اب کمی کیا ہے بیاں میں کیا کروں اس کے شبستاں کا تعالی اللہ قضا و قدر جس کے جشن کا اب کار فرما ہے سخاوت میں کوئی ہم سر نہ ہو اس کا زمانہ میں وہی کرتا ہے پورا جس کے دل میں جو ارادہ ہے خضر کی عمر ہو اس کی تصدق سے ائمہ کے نظام الدولہ آصف جاه جو سب کا مسیحا ہے بہی خوان کرم سے ہے صدا امید چنداؔ کو کسی کی بھی نہ ہو محتاج تم سے یہ تمنا ہے

basant aai hai mauj-e-rang-e-gul hai josh-e-sahbaa hai

Similar Poets