SHAWORDS
Mansoor Usmani

Mansoor Usmani

Mansoor Usmani

Mansoor Usmani

poet
17Shayari
13Ghazal

Popular Shayari

17 total

Ghazalغزل

See all 13
غزل · Ghazal

خود آپ اپنی زد میں ستم گر بھی آئے گا تم منتظر رہو کہ یہ منظر بھی آئے گا اس ریت کے نگر کو نہ گھبراؤ دیکھ کر آگے بڑھو کہ ایک سمندر بھی آئے گا خوشبو کا قافلہ یہ بہاروں کا سلسلہ پہنچا ہے شہر تک تو مرے گھر بھی آئے گا چلتے ہو میرے ساتھ تو اتنا بھی سوچ لو راہوں میں میری غم کا سمندر بھی آئے گا مقتل کو جا رہا ہوں یہ منصورؔ سوچ کر چھینٹا کوئی لہو کا تو ان پر بھی آئے گا

khud aap-apni zad mein sitam-gar bhi aaegaa

غزل · Ghazal

دل میں یوں پیار کی اک تازہ کہانی مہکے جیسے آنگن مین کہیں رات کی رانی مہکے میں نے لفظوں کو کہاں اس کی طرف موڑا ہے ذکر آ جائے جو اس کا تو کہانی مہکے سر سے پا تک اسے خوشبو کا خزانہ کہیے بیٹھے دریا میں اتر جائے تو پانی مہکے غم کی صدیوں کی امانت ہے غزل کی تہذیب میرؔ کے بعد اسی رنگ میں فانیؔ مہکے اس کو کہتے ہیں محبت کا کرشمہ منصورؔ میری غزلوں میں مرا دشمن جانی مہکے

dil mein yuun pyaar ki ik taaza kahaani mahke

غزل · Ghazal

حالات کیا یہ تیرے بچھڑنے سے ہو گئے لگتا ہے جیسے ہم کسی میلے میں کھو گئے آنکھیں برس گئیں تو سکوں دل کو مل گیا بادل تو صرف سوکھی زمینیں بھگو گئے کتنی کہانیوں سے ملا زندگی کو حسن کتنے فسانے وقت کی چادر میں سو گئے آنکھوں سے نیند روٹھی تو نقصان یہ ہوا میرے ہزاروں خواب مرے دل میں سو گئے منصورؔ مدتوں سے مجھے ان کی ہے تلاش نفرت کے بیج میرے چمن میں جو بو گئے

haalaat kyaa ye tere bichhaDne se ho gae

غزل · Ghazal

کچھ بھی ہو یہ تو مرے یار نہیں ہو سکتا میں ترا حاشیہ بردار نہیں ہو سکتا دل سے تم جا تو رہے ہو مگر اتنا سن لو یہ دریچہ کبھی دیوار نہیں ہو سکتا رسم اظہار محبت میں ضروری ہی سہی یہ تماشا سر بازار نہیں ہو سکتا وصل کی چاہ کروں ہجر میں بھی آہ بھروں یہ مرے عشق کا معیار نہیں ہو سکتا اپنی تعریف سنی ہے تو یہ سچ بھی سن لے تجھ سے اچھا ترا کردار نہیں ہو سکتا

kuchh bhi ho ye to mire yaar nahin ho saktaa

غزل · Ghazal

ٹوٹ جاتا ہے ستاروں کا بھرم رات گئے جگمگاتے ہیں ترے نقش قدم رات گئے کیا بتائیں جو گزرتی ہے ہمارے دل پر یاد آتے ہیں جب اپنوں کے ستم رات گئے غرق ہو جاتی ہے جب نیند میں ساری دنیا جاگ اٹھتے ہیں ادیبوں کے قلم رات گئے روز آتے ہیں صدا دے کے چلے جاتے ہیں دل کے دروازے پہ کچھ اہل کرم رات گئے روک لیتی ہے تری یاد سہارا بن کر ڈگمگاتے ہیں اگر میرے قدم رات گئے جن کی امید میں ہم دن کو جیا کرتے ہیں ٹوٹ جاتے ہیں وہی قول و قسم رات گئے جن کی قسمت میں نہیں دن کا اجالا منصورؔ ان چراغوں میں جلا کرتے ہیں ہم رات گئے

TuuT jaataa hai sitaaron kaa bharam raat gae

غزل · Ghazal

آوارگی نے دل کی عجب کام کر دیا خوابوں کو بوجھ نیندوں کو الزام کر دیا کچھ آنسو اپنے پیار کی پہچان بن گئے کچھ آنسوؤں نے پیار کو بد نام کر دیا جس کو بچائے رکھنے میں اجداد بک گئے ہم نے اسی حویلی کو نیلام کر دیا دل کو بچا کے رکھا تھا دنیا سے آج تک لے آج ہم نے یہ بھی ترے نام کر دیا تم نے نظر جھکا کے جہاں بات کاٹ دی ہم نے وہیں فسانے کا انجام کر دیا

aavaargi ne dil ki ajab kaam kar diyaa

Similar Poets