SHAWORDS
Nazm Tabatabai

Nazm Tabatabai

Nazm Tabatabai

Nazm Tabatabai

poet
20Shayari
16Ghazal

Popular Shayari

20 total

Ghazalغزل

See all 16
غزل · Ghazal

احسان لے نہ ہمت مردانہ چھوڑ کر رستہ بھی چل تو سبزۂ بیگانہ چھوڑ کر مرنے کے بعد پھر نہیں کوئی شریک حال جاتا ہے شمع کشتہ کو پروانہ چھوڑ کر ہونٹوں پہ آج تک ہیں شب عیش کے مزے ساقی کا لب لیا لب پیمانہ چھوڑ کر افعی نہیں کھلی ہوئی زلفوں کا عکس ہے جاتے کہاں ہو آئینہ و شانہ چھوڑ کر طول امل پہ دل نہ لگانا کہ اہل بزم جائیں گے ناتمام یہ افسانہ چھوڑ کر لبریز جام عمر ہوا آ گئی اجل لو اٹھ گئے بھرا ہوا پیمانہ چھوڑ کر اس پیر زال دہر کی ہم ٹھوکروں میں ہیں جب سے گئی ہے ہمت مردانہ چھوڑ کر پہروں ہمارا آپ میں آنا محال ہے کوسوں نکل گیا دل دیوانہ چھوڑ کر اترا جو شیشہ طاق سے زاہد کا ہے یہ حال کرتا ہے رقص سجدۂ شکرانہ چھوڑ کر یہ سمعۂ و ریا تو نشانی ہے کفر کی زنار باندھ سبحۂ صد دانہ چھوڑ کر رندان مے کدہ بھی ہیں اے خضر منتظر بستی میں آئیے کبھی ویرانہ چھوڑ کر احسان سر پہ لغزش مستانہ کا ہوا ہم دو قدم نہ جا سکے مے خانہ چھوڑ کر وادی بہت مہیب ہے بیم و امید کا دیکھیں گے شیر پر دل دیوانہ چھوڑ کر رو رو کے کر رہی ہے صراحی وداع اسے جاتا ہے دور دور جو پیمانہ چھوڑ کر توبہ تو کی ہے نظمؔ بنا ہوگی کس طرح کیوں کر جیو گے مشرب رندانہ چھوڑ کر

ehsaan le na himmat-e-mardaana chhoD kar

غزل · Ghazal

یہ آہ بے اثر کیا ہو یہ نخل بے ثمر کیا ہو نہ ہو جب درد ہی یا رب تو دل کیا ہو جگر کیا ہو بغل گیر آرزو سے ہیں مرادیں آرزو مجھ سے یہاں اس وقت تو اک عید ہے تم جلوہ گر کیا ہو مقدر میں یہ لکھا ہے کٹے گی عمر مر مر کر ابھی سے مر گئے ہم دیکھیے اب عمر بھر کیا ہو مروت سے ہو بیگانہ وفا سے دور ہو کوسوں یہ سچ ہے نازنیں ہو خوبصورت ہو مگر کیا ہو لگا کر زخم میں ٹانکے قضا تیری نہ آ جائے جو وہ سفاک سن پائے بتا اے چارہ گر کیا ہو قیامت کے بکھیڑے پڑ گئے آتے ہی دنیا میں یہ مانا ہم نے مر جانا تو ممکن ہے مگر کیا ہو کہا میں نے کہ نظمؔ مبتلا مرتا ہے حسرت میں کہا اس نے اگر مر جائے تو میرا ضرر کیا ہو

ye aah-e-be-asar kyaa ho ye nakhl-e-be-samar kyaa ho

غزل · Ghazal

اڑا کر کاگ شیشہ سے مے گلگوں نکلتی ہے شرابی جمع ہیں مے خانہ میں ٹوپی اچھلتی ہے بہار مے کشی آئی چمن کی رت بدلتی ہے گھٹا مستانہ اٹھتی ہے ہوا مستانہ چلتی ہے زخود رفتہ طبیعت کب سنبھالے سے سنبھلتی ہے نہ بن آتی ہے ناصح سے نہ کچھ واعظ کی چلتی ہے یہ کس کی ہے تمنا چٹکیاں لیتی ہے جو دل میں یہ کس کی آرزو ہے جو کلیجہ کو مسلتی ہے وہ دیوانہ ہے جو اس فصل میں فصدیں نہ کھلوائے رگ ہر شاخ گل سے خون کی ندی ابلتی ہے سحر ہوتے ہی دم نکلا غش آتے ہی اجل آئی کہاں ہوں میں نسیم صبح پنکھا کس کو جھلتی ہے تمتع ایک کا ہے ایک کے نقصاں سے عالم میں کہ سایہ پھیلتا جاتا ہے جوں جوں دھوپ ڈھلتی ہے بنا رکھی ہے غم پر زیست کی یہ ہو گیا ثابت نہ لپکا آہ کا چھوٹے گا جب تک سانس چلتی ہے قرار اک دم نہیں آتا ہے خون بے گنہ پی کر کہ اب تو خود بہ خود تلوار رہ رہ کر اگلتی ہے جہنم کی نہ آنچ آئے گی مے خواروں پہ او واعظ شراب آلودہ ہو جو شے وہ کب آتش میں جلتی ہے نہ دکھلانا الٰہی ایک آفت ہے شب فرقت نہ جو کاٹے سے کٹتی ہے نہ جو ٹالے سے ٹلتی ہے یہ اچھا شغل وحشت میں نکالا تو نے اے حیدرؔ گریباں میں الجھنے سے طبیعت تو بہلتی ہے

uDaa kar kaag shishe se mai-e-gul-gun nikalti hai

غزل · Ghazal

سنگ جفا کا غم نہیں دست طلب کا ڈر نہیں اپنا ہے اس پر آشیاں نخل جو بارور نہیں سنتے ہو اہل قافلہ میں کوئی راہ بر نہیں دیکھ رہا ہوں تم میں سے ایک بھی راہ پر نہیں موت کا گھر ہے آسماں اس سے کہیں مفر نہیں نکلیں تو کوئی در نہیں بھاگیں تو رہ گزر نہیں پہلے جگر پر آہ کا نام نہ تھا نشاں نہ تھا آخر کار یہ ہوا آہ تو ہے جگر نہیں صبح ازل سے تا ابد قصہ نہ ہوگا یہ تمام جور فلک کی داستاں ایسی بھی مختصر نہیں برگ خزاں رسیدہ ہوں چھیڑ نہ مجھ کو اے نسیم ذوق فغاں کا ہے مجھے شکوۂ ابر تر نہیں منکر حشر ہے کدھر دیکھے تو آنکھ کھول کر حشر کی جو خبر نہ دے ایسی کوئی سحر نہیں شبنم و گل کو دیکھ کر وجد نہ آئے کس طرح خندہ بے سبب نہیں گریہ بے اثر نہیں تیرے فقیر کا غرور تاجوروں سے ہے سوا طرف کلہ میں دے شکن اس کو یہ درد سر نہیں کوشک و قصر و بام و در تو نے بنا کئے تو کیا حیف ہے خانماں خراب دل میں کسی کے گھیر نہیں نالہ کشی رقیب سے میری طرح محال ہے دل نہیں حوصلہ نہیں زہرہ نہیں جگر نہیں شاطر پیر آسماں واہ ری تیری دست برد خسرو و کیقباد کی تیغ نہیں کمر نہیں شان کریم کی یہ ہے ہاں سے ہو پیشتر عطا لطف عطا کا کیا ہو جب ہاں سے ہو پیشتر نہیں لاکھ وہ بے رخی کرے لاکھ وہ کج روی کرے کچھ تو ملال اس کا ہو دل کو مرے مگر نہیں سن کے برا نہ مانئے سچ کو نہ جھوٹ جانئے ذکر ہے کچھ گلہ نہیں بات ہے نیشتر نہیں

sang-e-jafaa kaa gham nahin dast-e-talab kaa Dar nahin

غزل · Ghazal

یہ ہوا مآل حباب کا جو ہوا میں بھر کے ابھر گیا کہ صدا ہے لطمۂ موج کی سر پر غرور کدھر گیا مجھے جذب دل نے اے جز بہک کے رکھا قدم کوئی مجھے پر لگائے شوق نے کہیں تھک کے میں جو ٹھہر گیا مجھے پیری اور شباب میں جو ہے امتیاز تو اس قدر کوئی جھونکا باد سحر کا تھا مرے پاس سے جو گزر گیا اثر اس کے عشوۂ ناز کا جو ہوا وہ کس سے بیاں کروں مجھے تو اجل کی ہے آرزو اسے وہم ہے کہ یہ مر گیا تجھے اے خطیب چمن نہیں خبر اپنے خطبۂ شوق میں کہ کتاب گل کا ورق ورق تری بے خودی سے بکھر گیا کسے تو سناتا ہے ہم نشیں کہ ہے عشوۂ دشمن عقل و دیں ترے کہنے کا ہے مجھے یقیں میں ترے ڈرانے سے ڈر گیا کروں ذکر کیا میں شباب کا سنے کون قصہ یہ خواب کا یہ وہ رات تھی کہ گزر گئی یہ وہ نشہ تھا کہ اتر گیا دل ناتواں کو تکان ہو مجھے اس کی تاب نہ تھی ذرا غم انتظار سے بچ گیا تھا نوید وصل سے مر گیا مرے صبر و تاب کے سامنے نہ ہجوم خوف و رجا رہا وہ چمک کے برق رہ گئی وہ گرج کے ابر گزر گیا مجھے بحر غم سے عبور کی نہیں فکر اے مرے چارہ گر نہیں کوئی چارہ کار اب مرے سر سے آب گزر گیا مجھے راز عشق کے ضبط میں جو مزہ ملا ہے نہ پوچھیے مے انگبیں کا یہ گھونٹ تھا کہ گلے سے میرے اتر گیا نہیں اب جہان میں دوستی کبھی راستے میں جو مل گئے نہیں مطلب ایک کو ایک سے یہ ادھر چلا وہ ادھر گیا اگر آ کے غصہ نہیں رہا تو لگی تھی آگ کہ بجھ گئی جو حسد کا جوش فرو ہوا تو یہ زہر چڑھ کے اتر گیا تجھے نظمؔ وادئ شوق میں عبث احتیاط ہے اس قدر کہیں گرتے گرتے سنبھل گیا کہیں چلتے چلتے ٹھہر گیا

ye huaa maaal hubaab kaa jo havaa mein bhar ke ubhar gayaa

غزل · Ghazal

جنوں کے ولولے جب گھٹ گئے دل میں نہاں ہو کر تو اٹھے ہیں دھواں ہو کر گرے ہیں بجلیاں ہو کر کچھ آگے بڑھ چلے سامان راحت لا مکاں ہو کر فلک پیچھے رہا جاتا ہے گرد کارواں ہو کر کسی دن تو چلے اے آسماں باد مراد ایسی کہ اتریں کشتیٔ مے پر گھٹائیں بادباں ہو کر نہ جانے کس بیاباں مرگ نے مٹی نہیں پائی بگولے جا رہے ہیں کارواں در کارواں ہو کر وفور ضبط سے بیتابیٔ دل بڑھ نہیں سکتی گلے تک آ کے رہ جاتے ہیں نالے ہچکیاں ہو کر گلو گیر اب تو ایسا انقلاب رنگ عالم ہے کہ نغمے نکلے منقار عنادل سے فغاں ہو کر جو ہو کر ابر سے مایوس خود سینچے کبھی دہقاں جلا دیں کھیت کو پانی کی لہریں بجلیاں ہو کر جہاں میں واشد خاطر کے ساماں ہو گئے لاشے جگہ راحت کی نا ممکن ہوئی ہے لا مکاں ہو کر ہنسے کوئی نہ بجلی کے سوا اس دار ماتم میں اگر رہ جائے سارا کھیت کشت‌ زعفراں ہو کر الم میں آشیاں کے اس قدر تنکے چنے میں نے کہ آخر باعث تسکیں ہوئے ہیں آشیاں ہو کر گھٹائیں گھر کے کیا کیا حسرت فرہاد پر روئیں چمن تک آ گئیں نہریں پہاڑوں سے رواں ہو کر دل شیدا نے پایا عشق میں معراج کا رتبہ یہاں اکثر بتوں کے ظلم ٹوٹے آسماں ہو کر جو ڈرتے ڈرتے دل سے ایک حرف شوق نکلا تھا وہ اس کے سامنے آیا زباں پر داستاں ہو کر نکل آئے ہیں ہر اقرار میں انکار کے پہلو بنا دیتی ہیں حیراں تیری باتیں مکر یاں ہو کر نزاکت کا یہ عالم پھول بھی توڑے تو بل کھا کر نہ جانے دل مرا کس طرح توڑا پہلواں ہو کر تدرو و کبک پر ہنس کر اٹھے خود لڑکھڑاتے ہیں سبک کرتے ہیں ان کو پائنچے نار گراں ہو کر گلا گھونٹا ہے ضبط غم نے کچھ ایسا کہ مشکل ہے کہ نکلے منہ سے آواز شکست دل فغاں ہو کر پتہ اندیشۂ سالک نے پایا منزل دل کا تو پلٹا لا مکاں سے آسماں در آسماں ہو کر ہوئی پھر دیکھیے آ بستن شادی و غم دنیا ابھی پیدا ہوئے تھے رنج و راحت تو اماں ہو کر جو نکلی ہوگی کوئی آرزو تو یہ بھی نکلے گا تمہارا تیر حسرت بن گیا دل میں نہاں ہو کر اتر جائے گا تو او آفتاب حسن کوٹھے سے گرے گا سایۂ دیوار ہم پر آسماں ہو کر

junun ke valvale jab ghuT gae dil mein nihaan ho kar

Similar Poets