SHAWORDS
Shad Lakhnavi

Shad Lakhnavi

Shad Lakhnavi

Shad Lakhnavi

poet
21Shayari
35Ghazal

Popular Shayari

21 total

Ghazalغزل

See all 35
غزل · Ghazal

ہم نے باندھے ہیں اس پہ کیا کیا جوڑ پر چلا ایک بھی نہ فقرا جوڑ جوڑتا ہے جو تو محبت کا ہم سے زنار دار رشتا جوڑ سر دشمن نہ توڑیئے کب تک مجھ پہ چلتا ہے وہ ہمیشہ جوڑ اے رفو گر جو ٹانک جامۂ تن تار تار اور پرزہ پرزہ جوڑ ذوالفقار علی کی تجھ کو قسم سر جدا جس سے ہو وہ فقرا جوڑ نسبت زلف جیسے سنبل کو ویسے نافہ کا مشک نافہ جوڑ ہم اسی کو کہیں گے آئینہ ساز دے ہمارا جو دل شکستہ جوڑ مظہرہ بے کا شادؔ اردو میں جانتا ہوں الف ہی ہے کا جوڑ

ham ne baandhe hain us pe kyaa kyaa joD

غزل · Ghazal

لب بہ لب نبت العنب ہر دم رہے دور دور جام مے جم جم رہے ذکر قمری بھی جو کرتے ہم رہے اس سہی قامت کا بھرتے دم رہے دود خط ہو یا دخان زلف ہو جس جگہ دھونی رمائی رم رہے شوخ کیسا ہے عقیق سرخ ہو لعل لب سے رنگ میں مدھم رہے ناتوانی نے بٹھایا جس جگہ پھر نہ اٹھے لیس ہو کر جم رہے جب میں رویا بارش باراں ہوئی کھل گیا منہ اشک جس دم تھم رہے شادؔ پیچھا کر کے غول نفس کا راہ حق بھولے بھٹکتے ہم رہے

lab-ba-lab bint-ul-anab har-dam rahe

غزل · Ghazal

جس کے ہم بیمار ہیں غم نے اسے بھی راندہ ہے ہو چکا درماں مسیحا آپ ہی درماندہ ہے جیتے جی کیا مر گئے پر بھی وبال دوش ہے جو مری میت اٹھاتا ہے وہ دیتا کاندھا ہے تا قیامت گردش تقدیر جانے کی نہیں اپنی برگشتہ نصیبی نے وہ چرخا ناندہ ہے ہے عیاں ہر شے سے دکھلائی نہیں دیتا مگر واہ رے ڈھٹ بندی کیا سب کی نظر کو باندھا ہے ہم ادھر بیتاب ادھر وہ برق وش بیتاب ہے کوندتی بجلی کسی جانب لپکتا کاندہ ہے اڑ گیا بک بک سے ہم نازک مزاجو کا دماغ پند گو چپ رہ کہاں کا قصہ ناندہ ہے ڈر نہیں بے ماترے اے شادؔ ہندی لفظ کا اس غزل میں قافیہ دانستہ ہم نے باندھا ہے

jis ke ham bimaar hain gham ne use bhi raanda hai

غزل · Ghazal

خدا ہی اس چپ کی داد دے گا کہ تربتیں روندے ڈالتے ہیں اجل کے مارے ہوئے کسی سے نہ بولتے ہیں نہ چالتے ہیں ذلیل ہوتے ہیں عیب ہیں خود جو عیب اس میں نکالتے ہیں انہیں کے اوپر ہی خاک پڑتی جو چاند پر خاک ڈالتے ہیں تلون عیش و غم سے باہم زمین یہ ننگ آسماں ہے کہ منہ سے ہم خون ڈالتے ہیں وہ رنگ نو روز اچھالتے ہیں نہ گھر کے مانند ماہ ہر شب مزے اڑاتے ہیں ہمدموں سے قرار فردا کا روز کر کے ہمیں قیامت پہ ٹالتے ہیں پیے ہوئے ہیں شراب ساقی چڑھی ہے مستیٔ پاکبازی وہ بادہ کش میں مدام ساقی جو دخت رز کو کھنگالتے ہیں مدام برہم مژہ کے آرے سروں پہ چلتے ہیں عاشقوں کے بنا کے گیسوئے مشک بو کو وہ مانگ جس دم نکالتے ہیں جلا رہے شمع بزم سائیں اٹھا کے پہلو سے اپنے ہم کو رقیب کو مثل دل بغل میں میان محفل بٹھالتے ہیں کسی کو باتوں میں ہیں لگاتے کسی کو فقروں میں ہیں اڑاتے کلیم سے ہم کلام ہو کر مسیح کو دم میں ٹالتے ہیں بساط الفت ہے وہ نرالی جہاں میں جاں باختہ کھلاڑی جوا بھی یہ بت جو کھیلتے ہیں تو دل کی کوڑی اچھالتے ہیں جنوں کی بد نامیاں ہیں جتنی ہم آپ اے شادؔ اٹھا رہے ہیں نہ تھونپے کوہ کن کے سر ہیں نہ قیس و وامق پہ ڈھالتے ہیں

khudaa hi us chup ki daad degaa ki turbatein raunde Daalte hain

غزل · Ghazal

عشق رخ و زلف میں کیا کوچ شب آ کے رہا سحر کیا کوچ خیاط نفس کا ہے بجا کوچ درزی کا ہے کیا مقام کیا کوچ جب موج رواں کہیں نہ ٹھہری دم لے کے حباب کر گیا کوچ ہر دم ہے روا نہ عمر انساں ہر ایک نفس ہے کر رہا کوچ پروانہ جلا تو شمع بولی تیرا ہے ادھر ادھر مرا کوچ وہ سوزن ساعت رواں ہوں کرتی ہے جو ہر منٹ سدا کوچ گھنگھرو دم نزع بولتا ہے آواز جرس نے دی ہوا کوچ ہم ساتھ تھے پا شکستہ جس کے لشکر وہ جہاں سے کر گیا کوچ شب بھر ہے فروغ شعلہ اے شادؔ ہنگام سحر ہے شمع کا کوچ

ishq-e-rukh-o-zulf mein kiyaa kuuch

غزل · Ghazal

جی جاؤں جو بند ناطقہ ہو خاموش کہیں یہ بولتا ہو جانباز جو تردد بھی ترا ہو سو بار مرے پھر اٹھ کھڑا ہو ذرے میں ہو نور مہر وش تیرا جو کرم ہو کیا سے کیا ہو کھل جائیں ہزاروں کوچہ زخم تلوار چلے تو راستہ ہو زلفوں پہ جو اس کے مر مٹا ہوں تربت پہ درخت جال کا ہو گھڑیوں کے ہیں پر غبار شیشے مٹی کوئی دل نہ ہو گیا ہو رنگیں ہو قبائے تن لہو سے جوگی ہوں لباس گیروا ہو بخشے جو فلک غم زمانہ غم خوار وہ ہوں کہ ناشتا ہو ثانی ہے ترا محال اے بت پیدا نہ خدا کا دوسرا ہو تن خاک ہو ہوں وہ صاف طینت میلا نہ کفن کا رونگٹا ہو وہ بوسۂ لب مجھے کہ دشنام درویش ہوں کچھ ملے بھلا ہو یوں اے تپ غم جلا سراپا سر تا بہ قدم اک آبلہ ہو اے دست خدا جو ہاتھ کی ہے ہے شادؔ شکستہ پا نیا ہو

ji jaaun jo band naatiqa ho

Similar Poets